Our Beacon Forum

ریت سے بُت نہ بنا اے میرے اچ
By:Badar Habib US
Date: Saturday, 10 October 2020, 9:43 pm

ریت سے بُت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار!

اک لمحہ کو ٹھہر میں تجھے پتھر لادوں
میں تیرے سامنے انبار لگا دوں، لیکن
کون سے رنگ کا پتھر تیرے کام آئے گا؟
سرخ پتھر جسے دل کہتی ہے بے دل دنیا
یا وہ پتھرائی ہوئی آنکھ کا نیلا پتھر
جس میں صدیوں کے تحیر کے پڑے ہوں ڈورے
کیا تجھے روح کے پتھر کی ضرورت ہوگی؟
جس پر حق بات بھی پتھر کی طرح گرتی ہے

اک وہ پتھر ہے جو کہلاتا ہے تہذیبِ سفید
اس کے مرمر میں سیاہ خون جھلک جاتا ہے
ایک انصاف کا پتھر بھی تو ہوتا ہے مگر
ہاتھ میں تِیشہءِ زَر ہو تو وہ ہاتھ آتا ہے

جتنے معیار ہیں اس دور کے سب پتھر ہیں
شعر بھی، رقص بھی، تصویر و غِنا بھی پتھر
میرا الہام، تِرا ذہنِ ِ رسا بھی پتھر
اس زمانے میں ہر اک فن کا نشاں پتھر ہے
ہاتھ پتھر ہیں ترے، میری زباں پتھر ہے۔

ریت سے بُت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار!
(احمد ندیم قاسمی)