Our Beacon Forum

تحریک پاکستان اور علامہ غلا
By:Zubair Khan (Penn.)
Date: Sunday, 16 August 2020, 2:15 pm

تحریک پاکستان اور علامہ غلام احمد پرویز رح

علّامہ غلام احمد پرویزؔ مرحوم کی تاریخِ پیدائش ۹؍ جولائی ۱۹۰۳ء ہے۔ تحریکِ پاکستان کے دوران مرکزی حکومتِ ہند کے ہوم ڈیپارٹمنٹ میں ملازم تھے۔ قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی وہ مرکزی حکومتِ پاکستان میں منتقل ہو گئے اور ۱۹۵۵ ء میں اسسٹنٹ سیکرٹری کے عہدے سے ریٹارئر ہوئے۔

شیدائی اقبالؒ ہونے کے ناطے، آپ ۱۹۳۰ء سے مسلمانوں کی جداگانہ آزاد مملکت کے اس تصوّر کو آگے بڑھاتے رہے جسے علّامہ اقبالؒ نے الہٰ آباد کے مقام پر مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں اپنے صدارتی خطبہ میں پیش کیا تھا۔

۱۹۳۷ء کے موسمِ گرما میں، علّامہ اقبالؒ کے ایماء پرحضرتِ قائدِ اعظمؒ نے اپنے قیامِ شملہ کے دوران علّامہ پرویزؔ کو بلا کر فرمایا کہ یہ مولوی صاحبان تحریکِ پاکستان کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں، اس کی مدافعت کے محاذ کو میں تمہارے سپرد کرنا چاہتا ہوں۔
چنانچہ حضرتِ قائدِ اعظمؒ کی ہدایت پر وہ تمام ضروری اقدامات کئے گئے جن کے نتیجہ کے طور پر ماہنامہ "طلوعِ اسلام" کے دورِ جدید کا اجراء ، مئی ۱۹۳۸ء کے شمارہ کے ساتھ عمل میں آیا۔
اس ماہنامہ میں پرویزؔ صاحب نے قرآنِ کریم کے عطا فرمودہ "دو قومی نظریہ"، اسلامی مملکت کی ضرورت اور اس کے بنیادی تقاضوں پر گرانقدر مقالات لکھے۔ اس دوران کانگرسی اور نیشنلسٹ علماء کی طرف سے مسلمانوں کی جداگانہ آزاد مملکت کے خلاف جو کچھ لکھا جاتا رہا، اس کا آپ نے مؤثر دفاع کیا۔

علّامہ موصوف اُس وقت سرکاری ملازمت میں تھے، اس لئے مسلم لیگ کے سٹیج سے بات کرنا تو اُن کے لئے دشوار تھا تاہم دہلی اور اِس کے گردونواح کے ایسے تمام شہروں میں جہاں شام کو جا کر اگلے روز علی الصّبح واپس آیا جا سکے، مسلم لیگ کے شبانہ جلسوں کے فوراً بعد اُسی سٹیج سے بزمِ اقبالؒ کی محفل آراستہ کی جاتی تھی۔
جس میں پرویز صاحب قرآنِ کریم اور فکرِ اقبالؒ کی روشنی میں تحریکِ پاکستان اور مسلمانوں کی جداگانہ مملکت کے تصوّر کو واضح طور پر قوم کے سامنے پیش کرتے تھے
۔علّامہ پرویز ۳۸ ۔ ۱۹۳۷ ء سے حضرتِ قائدِ اعظم علیہ الرحمۃ کے، تحریکِ پاکستان کی دینی اساس کے موضوع پر ذاتی مشیر کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے۔ یہی وہ واحد شخصیت تھی جنہیں حضرتِ قائدِ اعظمؒ سے پیشگی وقت لئے بغیر اُن کی خدمت میں، کسی وقت بھی باریابی کا شرف حاصل رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قائدِ اعظمؒ نے قرآنی ہدایات سامنے آ جانے کے بعد ہمیشہ انہی کے مطابق عمل کیا۔ پرویز صاحب ان معدودے چند دانشوروں میں شامل ہیں جنہوں نے بقول پیر علی محمد راشدی، پاکستان کی سکیم کی تیاری میں مدد کی تھی۔

حضرتِ قائدِ اعظمؒ ، علامہ پرویز پر غایت اعتماد رکھتے تھے اور ان کی رائے کو اس قدر اہمیت دیتے تھےکہ جب اس کا وقت آیا تو ان سے پاکستان کے سیکرٹریٹ کےلئےمناسب افسروں کے انتخاب کیلئے سفارش طلب کی۔

قیامِ پاکستان کے بعد اپنی وفات تک جب کسی دریدہ دہن نے بانیٔ پاکستان حضرت قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ یا ان کے رفقاء کے خلاف ہرزہ سرائی کی ناپاک کوشش کی تو یہی مردِ مجاہد آڑے آیا اور ہر موقع پر ایسے مدلّل مقالات سپردِ قلم کئے جن سے تحریکِ پاکستان کے ان زعماء کی عظمتِ کردار نکھر اور اُبھر کر قوم کے سامنے آتی رہی۔

علّامہ غلام احمد پرویزؔ نے ۲۴؍ فروری ۱۹۸۵ء کو وفات پائی۔ - خورشید انور

Messages In This Thread

تحریک پاکستان اور علامہ غلا
Zubair Khan (Penn.) -- Sunday, 16 August 2020, 2:15 pm
Re: تحریک پاکستان اور علامہ غ
abdalaziz ariff -- Sunday, 16 August 2020, 5:01 pm