Our Beacon Forum

Usury. From Mafhoom ul Quran.
By:Zubair Khan (Penn.)
Date: Sunday, 26 July 2020, 6:24 pm

قرآن کریم کی رو سے محاوضہ صرف محنت کا لیا جاسکتا ہے محض سرمایہ پر معاوضہ نہیں لیا جا سکتا۔ جو معاوضہ سرمایہ پر لیا جاۓ اسے ربہ کہا جاۓ گا خواہ اس کی شکل کوئی بھی ہو ۔

ربوٰ
ربوٰ (مادہ ر۔ب۔و) زیادہ ہونا۔ بڑھنا۔
اس کا عام ترجمہ سود کیا جاتا ہے لیکن اس کا مفہوم اس سے زیادہ وسیع ہے۔
قرآن کریم کا اپنا الگ‘ مخصوص ‘معاشی نظام ہے۔ اسی کی تفصیل ’’معاشی نظام‘‘ کے عنوان میں ملے گی۔ اس وقت صرف اتنا سمجھ لینا کافی ہوگا کہ وہ اصولی طور پر یہ کہتا ہے کہ جہاں معاوضہ کا سوال ہو تو معاوضہ صرف محنت (LABOUR) کا لیا جا سکتا ہے محض سرمایہ (CAPITAL) پر معاوضہ نہیں لیا جا سکتا۔ جو معاوضہ سرمایہ پر لیا جائے اسے ربوٰ کہا جائے گا خواہ اس کی شکل کوئی بھی کیوں نہ ہو۔

قرض پر کچھ زیادہ لینا‘ ربوٰ کی ایک شکل ہے۔ اس کی متعدد شکلیں اور بھی ہیں۔ مثلاً مکانات کا کرایہ۔ زمین کی بٹائی دوسرے کے کاروبار میں روپیہ لگا کر‘ نفع لینا۔ وغیرہ وغیرہ۔

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ تجارت میں بھی سرمایہ پر منافع لیا جاتا ہے۔ وہ کیسے جائز ہو سکتا ہے ؟ تجارت میں سرمایہ بھی لگایا جاتا ہے اور محنت بھی کی جاتی ہے۔ اس سے منافع صرف اس قدر لیا جاسکتا ہے جو محنت کا معاوضہ ہو۔ اگر اس کے ساتھ سرمایہ پر بھی منافع لے لیا جائے تو وہ ربو ٰکی شق میں آجائے گا۔ (تفصیل اس کی ’’بیع‘‘ کے عنوان میں ملے گی)

قرآن کریم کا نظام یہ ہے کہ انسان زیادہ سے زیادہ محنت کرکے کمائے۔ یعنی پیدا کرے۔ اس میں سے بقدر اپنی ضروریات کے لے اور باقی نوعِ انسان کی نشوونما کے لئے دیدے۔ اس سے واضح ہے کہ ربو ٰاس نظام کی ضد ہے۔ اس میں انسان اپنی فاضلہ دولت کو دوسروں کی نشوونما کے لئے دے دینے کے بجائے‘ اسے دوسروں کی محنت کی کمائی حاصل کرنے کا ذریعہ بناتا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم نے اسے اسلام نظام کے خلاف اعلانِ جنگ کہا ہے۔
* ۔۔۔ * ۔۔۔ *

(1) کسی کو قرضہ دیا جائے تو صرف راس المال (PRINCIPAL MONEY) واپس لیا جا سکتا ہے۔ اس سے زائد کچھ نہیں لیا جا سکتا۔ کچھ زائد لینا ظلم ہے۔ (2:279)

(2) جب تم تک یہ حکم پہنچے تو قرض خواہ کے ذمے جس قدر سود ہو اُسے چھوڑ دو۔ اگر وہ تنگ دست ہے تو اُسے قرضہ کی واپسی کی مہلت دو۔ اور اگر وہ اس قابل ہی نہیں کہ قرض واپس دے سکے‘ تو اسے معاف کردو۔ (2:278-280)

(3) اگر تم اس مسلک کو اختیار نہیں کرو گے تو اسے خدا اورسول کے خلاف اعلانِ جنگ سمجھا جائے گا۔ (2:279)

(4) ربوٰ ہوسِ زر پرستی کی وجہ سے لیا جاتا ہے۔ اس سے ذہنیت ایسی ہوجاتی ہے ۔ جیسے کسی کو سانپ نے ڈس لیا۔ ہو اور وہ بری طرح مضطرب وبیقرار ہو۔ (2:275)

(5) یہ لوگ کہتے ہیں کہ بیعؔ بھی تو ربو ٰی ہی کی ایک شکل ہے۔ یہ غلط ہے۔ بیعؔ میں محنت کا معاوضہ لیا جاتا ہے ۔ اس لئے وہ حلال ہے۔ ربوٰ میں سرمایہ پر معاوضہ لیا جاتا ہے۔ وہ حرام ہے۔ (2:275)

(6) ربوٰ کے متعلق‘ سطحی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس سے قومی دولت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ یہ غلط ہے اس سے قوم کی اکتسابی قوتیں مضمحل ہوجاتی ہیں اسی لئے انفرادی اور قومی دولت میں آخر کار کمی ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ جہنم کی زندگی ہے۔ (3:129-130)

(7) قومی دولت میں اضافہ ان عطیات (صدقات) سے ہوتا ہے جسے تم رفاہی امور کے لئے دیتے ہو۔ ربو ٰ سے قومی معیشت تباہ ہوجاتی ہے۔ (2:276)

(8) اگر تم کسی کو اس کے واجبات سے زیادہ دو اور نیت یہ ہو کہ اس سے تم اس کے مال میں سے کچھ زیادہ لے لو گے تو یہ ذہنیت تباہ کن ہے۔ قانونِ خداوندی کی رو سے صرف وہ مال بڑھتا ہے جسے تم دوسروں کی نشوونما کے لئے دے دیتے ہو۔ (30:39)

(9) یہود کی تباہی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ وہ ربو ٰکا کاروبار کرتے تھے حالانکہ انہیں اس سے روکا گیا تھا۔ یہ ’’لوگوں کا مال‘‘ ناجائز طریق سے کھانا ہے۔ اس کا نتیجہ الم انگیز تباہی ہے۔ (4:160-161)
* ۔۔۔ * ۔۔۔ *

ہم اپنے موجودہ نظام سے قرآن کے معاشی نظام تک کسی طرح پہنچ سکتے ہیں۔ اس میں بینکنگ سسٹم ہو گا۔ انشورنس کی شکل کیا ہوگی۔ بین الاقوامی کاروبار کیسے چلے گا۔ ان امور کی وضاحت قرآن کے ’’معاشی نظام‘‘ کے عنوانمیں ملے گی۔

تبویب القران علامہ پرویز رح
تحریک طلوع اسلام