Our Beacon Forum

THE REVOLTIG KASHMIRIS & SIKHS
By:Sonia Aslam, Mirpur AK
Date: Monday, 21 October 2019, 6:05 pm

مقبوضہ کشمیر، حکومت کا نیا ظالمانہ ہتھکنڈہ
مقبوضہ کشمیرمیں "حالیہ حکومتی اقدامات" کے خلاف بولنے پر سزاہوگی
زیر حراست افراد سے بیان حلفی پر دستخط کر وائے جار ہے ہیں

سرینگر،21 اکتوبر2019(ساؤتھ ایشین وائر ):
مقبوضہ کشمیر میں ریاستی انتظامیہ زیر حراست افراد کو ایک بیان حلفی پر دستخط کرنے پر مجبور کررہی ہے جس کے تحت ان کی رہائی کو محفوظ بنانے کے لئے ریاست میں "حالیہ واقعات" کے خلاف بولنے سے منع کیا جارہا ہے۔ حالیہ واقعات سے مراد اگست میں آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت ریاست کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور اس کی جموں و کشمیر اور لداخ کے دو مرکزی علاقوں میں تقسیم ہے۔
اس بیان حلفی پر فوجداری ضابطہ اخلاق کی دفعہ 107 کے تحت دستخط کرنے کو کہا جاتا ہے۔ دستخط کنندگان کو یہ دستخط کرنا ہوں گے کہ وہ ریاست جموں و کشمیر میں حالیہ واقعات سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کریں گے ، کوئی بیان جاری کریں گے اور نہ ہی عوامی تقریر کریں گے۔
ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق اس بیان حلفی کے ساتھ انہیں بطور ضمانت 10000روپے جمع کروانا پڑرہے ہیں، اور اگر وہ اس حلف کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ، انہیں 40,000روپے بطور جرمانہ ادا کرنے پڑیں گے۔
خصوصی حیثیت کی منسوخی کے اقدام سے قبل اگست میں سیکیورٹی کے خاتمے کے بعد سیاسی رہنماؤں ، علیحدگی پسندوں اور کارکنوں سمیت ایک ہزار سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اس ماہ کے شروع میں ، مقبوضہ کشمیر کی پولیس نے 5 اگست سے لے کر نو اور 11 سال کے بچوں سمیت 144 کم سن بچوں کو گرفتار کرنے کا اعتراف کیا۔
کئی ممتاز سیاسی رہنماؤں جیسے سابق وزرائے اعلی محبوبہ مفتی ، عمر عبداللہ ، اور کشمیری بیوروکریٹ سیاستدان شاہ فیصل کو حراست میں لیا گیا ہے یا انہیں نظربند رکھا گیا۔ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبد اللہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ کے "پبلک آرڈر" سیکشن کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں کسی کو بغیر کسی مقدمے کے چھ ماہ کے لئے حراست میں رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
اس ہفتے کے شروع میں ، سری نگر کے وسط میں سیاسی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کرنے والی خواتین کو جیل میں ڈال دیا گیا تھا اور انہیں اس بیان حلفی دستخط کرنے کے بعد ہی رہا کیا گیا تھا ۔
کارکنوں اور وکلا نے الزام لگایا ہے کہ یہ بیان حلفی آئینی نہیں ہے لیکن سرکاری عہدیداروں نے اس کا دفاع کیا۔
مقبوضہ کشمیر کے ایڈووکیٹ جنرل ڈی سی رائنا نے کہا کہ یہ قطعی قانونی ہے۔
ہائی کورٹ کے وکیل الطاف خان ، جو دو خواتین کے وکیل ہیں اورجنھیں حال ہی میں بانڈ پر دستخط کرنے پر مجبور کرنے کے بعد رہا کیا گیا تھا ، نے اسے غیر قانونی اور آئین کے منافی قرار دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مقبوضہ کشمیر سے 380 لداخی پولیس اہلکاروں کا تبادلہ
سرینگر،21 اکتوبر2019(ساؤتھ ایشین وائر ):

مقبوضہ کشمیر کے مختلف مقامات پر تعینات380 سے زائد پولیس اہلکاروں جن کا تعلق لداخ سے ہے، انہیں جلد ہی لداخ منتقل کردیا جائے گا اور نئے مرکزی علاقے کے انتظامی کنٹرول کے تحت تعینات کیا جائے گا۔
ساؤتھ ایشین وائر کو اتوار کے روز عہدیداروں نے بتایا کہ لداخ کا نیا مرکزی علاقہ 31 اکتوبر کو وجود میں آئے گا۔ وزارت داخلہ امور نے جموں و کشمیر پولیس کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے لداخی پولیس اہلکاروں کے تبادلے کی منظوری دے دی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق منتقل کیے گیے اہلکار نئے مرکزی علاقے کی پولیس کے ساتھ کام کریں گے جو مرکزی وزارت داخلہ کے براہ راست کنٹرول میں ہوگا۔
کانسٹیبل سے لے کر انسپکٹر تک کے عہدے پر فائز پولیس اہلکاروں کو دیگر مرکز کے زیر انتظام علاقے جیسے چندی گڑھ اور انڈمان اور نکوبار جزیرے کے پولیس اہلکاروں جیسی تنخواہ اور دیگر فائدے بھی حاصل ہوں گے۔لداخ میں پولیس اور امن و امان کے محکمے لیفٹیننٹ گورنر کے براہ راست کنٹرول میں ہوں گے ، جس کے ذریعے مرکزی حکومت اس خطے کو کنٹرول کرے گی۔
ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کے مطابق لداخ میں قانون ساز اسمبلی نہیں ہوگی۔ ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ ریاست جموں و کشمیر کے لئے آئی اے ایس اور آئی پی ایس کے کیڈرز مقررہ دن 31 اکتوبرسے اپنے موجودہ کیڈرز پر کام جاری رکھیں گے۔تاہم مستقبل میں جموں و کشمیر یا لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تعینات کیے جانے والے تمام بھارتی خدمت کے افسران اروناچل، گوا، میزورم، یونین ٹیریٹری کیڈر سے تعلق رکھنے والے ہوں گے، جسے زیادہ تر یونین ٹیریٹری کیڈر کے نام سے جانا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ 5 اگست 2019 کو مرکزی حکومت نے دفعہ 370 کے تحت جموں و کشمیر کو دی جانے والی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا اعلان کیا تھا اور اس کو مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امریکہ :1984 میں سکھوں کی نسل کشی کی یادگار کو ہٹا دیا گیا
اس یادگار میں خالصتانی رہنما جرنیل سنگھ بھنڈروالے کی ایک نمایاں تصویر تھی

نیویارک ،21 اکتوبر2019(ساؤتھ ایشین وائر ):
کنیکٹی کٹ کے نوروچ میں واقع اوٹس لائبریری میں ہندوستان کے 1984 آپریشن بلیو سٹار کے دوران فسادات میں سکھوں کی نسل کشی کی یادگار کوہندوستانی حکومت کے دباؤپر ہٹا دیا گیا ہے۔ریاستہائے متحدہ امریکہ میں یہ یادگار اپنی نوعیت کی واحد عمارت تھی۔
ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق تین ماہ قبل ، کنیکٹی کٹ کے نوروچ میں واقع اوٹس لائبریری نے 35 سال قبل بڑے پیمانے پر تشدد کے نتیجے میں ہندوستان میں مارے جانے والے ہزاروں سکھوں کی یادگار نصب کی تھی۔
یہ یادگار سکھ پرچم ، سکھ انقلابی جرنیل سنگھ بھنڈروالے کے مجسمے اور 1984 میں ہونے والے قتل عام سے متاثرہ سکھوں کے اعزاز میںلوح پر مشتمل تھی جسے خاموشی سے لائبریری سے ہٹا دیا گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق ، نیو یارک میں انڈیا کے قونصل جنرل نے لائبریریوں کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو میموریل پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے بلایا۔
لائبریری بورڈ آف ٹرسٹیز کے صدر نکولس فورٹسن نے ساؤتھ ایشین وائرکو بتایا ، "اوٹس لائبریری اور نورویچ یادگار کمیٹی نے مشترکہ طور پر تختی ، جھنڈے اور تصویر ہٹانے پر اتفاق کیا ہے۔"
شہر کی سکھ برادری کے رہنما اور مقامی کاروباری شخصیت، سورنجیت سنگھ خالصہ نے اس یادگار کو عطیہ کیا تھا۔ رئیل اسٹیٹ میں کام کرنے والے بزنس مین اور مقامی گیس اسٹیشن کے مالک سورنجیت سنگھ نے اس واقعے کے رد عمل میں کہا کہ لائبریری غیر سیاسی ہونا چاہئے لیکن انہوں نے ہندوستانی حکومت کے دبا ؤپر ایک سیاسی فیصلہ کیا۔ بہت سارے لوگوں کے دلوں میں بہت درد ہوتا ہے اور ہم اپنی کہانیاں بانٹ نہیں سکتے۔ ہمارے کوئی حقوق نہیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ میں ایسا ہوتا دیکھ کر افسوس ہوا۔سورنجیت سنگھ خالصہ کوایف بی آئی کی جانب سے سکھ بیداری کی بہت سی مہموں اور سیاسی مصروفیات کے اقدامات کے سلسلے میں کافی سراہا جاتاہے۔
لائبریری کے عہدیداروں نے تصدیق کی کہ اوٹیس لائبریری کواس سے قبل ہندوستانی قونصل خانے سے کال موصول ہوئی تھی تب نورویچ یادگار کمیٹی نے یادگار ہٹانے کا فیصلہ کیا ۔
تختی ، جھنڈے اور پورٹریٹ سورنجیت سنگھ خالصہ کو واپس کردی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی بجائے اس یادگار کو سٹی ہال منتقل کیا جاسکتا ہے۔
ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق کنیکٹی کٹ میں ایک چھوٹی سی سکھ کمیونٹی ہے جس کے پانچ گردوارے اور تقریبا 400 خاندان ہیں۔ پچھلے سال ، کنیکٹ کٹ 1984 کے سکھوں کے قتل عام کو نسل کشی کے طور پر تسلیم کرنے والی پہلی امریکی ریاست بنی جب اس نے 30 نومبر کو سکھوں کی نسل کشی کے یاد کے دن کے نام سے سینٹ میں بل 489 منظور کیا۔ ریاست نے یکم جون کو سکھ میموریل ڈے اور 14 اپریل کو قومی سکھ ڈے کے طور پر بھی نامزد کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برطانیہ میں سکھ کمیونٹی کی مولانافضل الرحمان سے'آزادی مارچ' ملتوی کرنے کی اپیل
امرتسر ،21 اکتوبر2019(ساؤتھ ایشین وائر ):
برطانیہ سے تعلق رکھنے والے سکھ کمیونٹی کے ایک گروپ نے جمعیت علمائے اسلام (فضل )سے اپیل کی ہے کہ وہ27 اکتوبر کواپنا 'آزادی مارچ' ملتوی کر دیں،کیونکہ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 200 سکھوں کے ایک وفد نے پاکستان میں بدامنی کے خوف سے ننکانہ صاحب کا اپنا دورہ منسوخ کردیا ہے۔
ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق سکھ مذہب کے بانی اور روحانی پیشوا بابا گرو نانک کے550 ویں یوم پیدائش کی تین روزہ تقریب میں شرکت کے لیے سکھ افراد ہزاروں کی تعداد میں پاکستان آرہے ہیں۔جبکہ پاکستانی کی مذہبی سیاسی جماعت جے یو آئی-ایف 27 اکتوبر کو عمران خان کی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے مارچ کا آغاز کر رہی ہے۔
ایک وڈیو پیغام میں ، نامعلوم سکھ رہنما نے ننکانہ صاحب سے تعلق رکھنے والے دیگر برادری کے حمایت یافتہ ممبروں کی طرف بیان جاری کیا ہے کہ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 200 سکھوں کے ایک گروپ نے پاکستان میں بدامنی کے خوف سے ننکانہ صاحب کا اپنا دورہ منسوخ کردیا ہے۔ سکھ نے ویڈیو میں کہا ، "ہمیں برطانیہ سے ای میل پیغامات اور فون کال موصول ہوئے ہیں کہ 200 رکنی سکھ گروپ نے اپنا پروگرام منسوخ کردیا ہے جو تشویشناک ہے۔"
سکھ رہنما کا کہنا ہے کہ ہم ہاتھ جوڑ کر فضل الرحمن سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ آزادی مارچ منسوخ کریں ، اور اگر نہیں تو براہ کرم اسے 20 نومبر تک ملتوی کردیں تاکہ پوری دنیا کے سکھ بے خوف ہوکر بابا نانک کا 550 ویں یوم پیدائش منانے کے لئے پاکستان کا دورہ کرسکیں۔
جب اس بارے میں پاکستان کے سکھ ممبر صوبائی اسمبلی مہیندرپال سنگھ سے رابطہ کیا گیا تو نے انہوں نے کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا مجوزہ آزادی مارچ ہوگا یا نہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بھی اس کا انعقاد اسلام آباد میں ہوگا ، جبکہ سکھ سنگت ننکانہ صاحب میں ہوگی۔انہوں نے سنگت کو دورہ پاکستان منسوخ نہ کرنے پر زور دیا
یاد رہے کہ جے یو آئی ایف نے آزادی مارچ 27 اکتوبر کو کراچی سے شروع کرنے کا فیصلہ کر لیاہے ۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق آزادی مارچ کا سہراب گوٹھ سے براستہ سپر ہائی وے آزادی مارچ کا آغا ز کیا جائے گا ، حیدرآباد ڈویژن کے جلوس سپر ہائی وے پر آزادی مارچ میں شامل ہوں گے ، میر پور خاص ڈویژن کی ریلیاں نواب شاہ سے آزادی مارچ میں شامل ہوں گے اور مارچ کے شرکا27 اکتوبر کو سکھر میں قیام کریں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھارتی گجرات میں کشمیریوں کی حمایت میں احتجاج
احمدآباد،21 اکتوبر2019(ساؤتھ ایشین وائر ):
مقبوضہ کشمیر سے دفعہ 370 اور 35 اے کو ختم کیے ہوئے دوماہ سے زائد ہوگئے ہیں، لیکن آج تک وہاں کے لوگ پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ ایسے میں بھارتی ریاست گجرات میں کشمیریوں کیساتھ یکجہتی کے لئے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق احمدآباد کے مشہور ادارے آئی آئی ایم کے باہر پورے گجرات سے مختلف تنظیموں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور موم بتیاںجلاکرکشمیریوں کی مشکلات کو اجاگر کیا اوران کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق مائناریٹی کوآرڈینیشن کمیٹی گجرات کے کنوینر مجاہد نفیس نے کہا کہ 'تمام لوگوں کے دلوں میں کشمیریوں کے لئے درد ہے، دو ماہ سے زائد ہونے کے باوجود وہاں کے عوام پریشان حال ہیں۔ ایسے میں گجرات کے تمام لوگ ان کے ساتھ ہیں اور جمہوریت کو بچانے کا مطالبہ کر رہے ہیں'۔اس موقع پر احمدآباد کی تمام حقوق انسانی کی تنظیموں کے ارکان نے حصہ لے کر کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی
ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق گجرات ہائی کورٹ کے وکیل شمشاد خان پٹھان کا کہنا ہے کہ حکومت کشمیر میں سب ٹھیک ہونے کا دعوی کررہی ہے، لیکن وہاں کچھ بھی ٹھیک نظر نہیں آ رہا۔ایسے میں حکومت کو چاہئے کہ کشمیر میں امن بحال کرے
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا گجرات کے صدر اکرام بیگ مرزا نے کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'دفعہ 370 ہی کشمیر کو بھارت سے جوڑتی تھی، لیکن حکومت نے اسے ہی ختم کردیا۔جس کے خلاف آج احمدآباد کے لوگ سڑکوں پر ہیں'۔
جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد سے زیادہ تر بازار بند ہیں اور عوامی آمد و رفت بھی معطل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مقبوضہ کشمیر:سکولوں میں فوجی اہلکاروں کا قیام
خوف کے سائے میں بچوں کی تعلیم ممکن نہیں
سرینگر21 اکتوبر(ساؤتھ ایشین وائر)
مقبوضہ کشمیر میں اگرچہ انتظامیہ نے اسکولوں کے بعد کالجوں میں بھی درس وتدریس کا عمل بحال کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن سرینگر کے ساتھ ساتھ دیگر اضلاع کے بیشتر اسکولوں اور کالجز میں سکیورٹی فورسز اہلکار قیام پذیر ہیں جبکہ باہر اسی طرح کے بنکر بنائے گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے ساؤتھ ایشین وائر کی ایک رپورٹ کے مطابق سری نگر میں تمام سکولز تعلیمی ادارے کم فوجی کیمپ زیادہ نظر آرہے ہیں۔اس خوفناک خاموشی سے طلبا کی پڑھائی ممکن نہیں۔ ان تعلیمی مراکز کے آس پاس خوف و ہراس کا ماحول پایا جاتا ہے

.............
مقبوضہ کشمیر: کسی طرح کے احتجاج کی اجازت نہیں: پولیس
سرینگر، 20 اکتوبر(ساؤتھ ایشین وائر):
مقبوضہ کشمیر میں پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے کی صورتحال بہتر ہونے اور عائد پابندیوں کو مکمل طور پر ختم کرنے تک دھرنوں سمیت کسی بھی طرح کے احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ کا کہنا ہے کہ کشمیر میں اجتجاجی مظاہروں کی اجازت نہیں ۔

اس سے قبل سرینگر میں سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی بہن ثریا اور بیٹی صفیہ سمیت کئی کشمیری خواتین کو پولیس نے احتجاج کے دوران حراست میں لیا تھا۔یہ خواتین دفعہ 370 کے خاتمے اور ریاست کی تقسیم کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔مظاہرین میں خواتین کارکن اور معروف ماہرین تعلیم شامل تھیں۔

دلباغ سنگھ نے کہا کہ' ہماری کوشش ہوگی کہ ایسی کسی بھی سرگرمی کی اجازت سے قبل امن کو مزید استحکام بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران خواتین نے چند ایسے پلے کارڈز اٹھائے تھے جوکہ' بہت اچھے' نہیں تھے اور ان کے پاس یقینی طور پر امن و امان کے مضمرات ہیں، اسی وجہ سے ان خواتین کے خلاف کارروائی کی گئی۔

ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس سربراہ نے کہا کہ اشتعال انگیزی صرف ان الفاظ کے ذریعہ نہیں آتی جو آپ بولتے ہو۔ اشتعال انگیزی ان پلے کارڈز سے آتی ہے جو آپ اٹھاتے ہیں۔

دلباغ سنگھ نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ سرینگر میں پابندیاں عائد ہیں اس کا احترام کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین مظاہرین کو ڈپٹی کمشن میں جاکر اجازت لینے کا مشورہ دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ 5 اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد سے وادی میں مسلسل 77ویں روز پابندیاں عائد ہیں۔

دفعہ 370 کے خاتمے سے قبل ہی مرکزی حکومت نے ہند نواز سیاسی جماعتوں کے سربرہان اور کئی رہنماؤں کو نظر بند کیا گیا ہیں۔ ان رہنماؤں میں تین سابق وزرائے اعلی بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا تھا، گذشتہ دنوں حکومت نے واضح کیا ہے کہ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو بھی اسی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
...................................................

مقبوضہ کشمیر: حریت رہنما کی میڈیکل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت
سرینگر، 20 اکتوبر(ساؤتھ ایشین وائر):
مقبوضہ کشمیر کے حقوق انسانی کمیشن نے سرینگر کے مینٹل ہسپتال انتظامیہ کو نوٹس جاری کر کے اسلامی تنظیم آزادی جموں و کشمیر کے چیئرمین عبدالصمد انقلابی کی میڈیکل رپورٹ مقررہ وقت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق دوران حراست دماغی توازن بگڑنے پر انہیں ہسپتال میں علاج کے لیے داخل کرایا گیا جس کے پیش نظر کمیشن نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے نام ایک نوٹس جاری کیا ہے۔

دریں اثنا عبدالصمد انقلابی کے اہل خانہ نے حکام سے انہیں خصوصی طور پر علاج کی سہولیات فراہم کرنے اور انسانی بنیادوں پر رہا کرنے کی اپیل کی ہے۔

حریت رہنما کے اہل خانہ کے مطابق اسلامی تنظیم آزادی کے چیئرمین عبدالصمد انقلابی کی بارہمولہ جیل میں دوران حراست ذہنی صحت بگڑ گئی جس کے پیش نظر انہیں مینٹل ہسپتال سری نگر منتقل کیا گیا جہاں وہ زیر علاج ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'صمد انقلابی کو گزشتہ برس دسمبر میں پی ایس اے کے تحت گرفتار کرکے جموں کے کوٹ بھلوال جیل منتقل کیا گیا جہاں انہیں کئی ماہ تک رکھا گیا۔'

انہوں نے کہا کہ 'صمد انقلابی کو سنہ 1992 سے ہی اکثر وبیشتر گرفتار کیا جارہا ہے اور وہ کئی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔'

Messages In This Thread

THE REVOLTIG KASHMIRIS & SIKHS
Sonia Aslam, Mirpur AK -- Monday, 21 October 2019, 6:05 pm
Re: THE REVOLTIG KASHMIRIS & SIKHS
Javed Rashid, Mirpur AK -- Monday, 21 October 2019, 6:14 pm