Our Beacon Forum

No Insulin, no heart meds in Kashmir
By:Khan Mir, Muzaffarabad
Date: Tuesday, 15 October 2019, 5:45 pm

کشمیریوں کو غیر کشمیریوں سے بات چیت کرنے کا خوف ---- کشمیر میں انسولین کی مانگ بہت زیادہ بڑھ گئی
Oct 15 at 1:09 AM
South Asian Wire
To: info@southasianwire.com
کشمیریوں کو غیر کشمیریوں سے بات چیت کرنے کا خوف
کشمیر میں انسولین کی مانگ بہت زیادہ بڑھ گئی ہے

حیدرآباد،15اکتوبر(ساؤتھ ایشین وائر):مقبوضہ کشمیر میںفوجی محاصرے اور مواصلاتی بلیک آئوٹ کی وجہ سے وادی کشمیر اور جموںریجن کے مسلم اکثریتی علاقوںکی صورتحال میںکوئی تبدیلی نہیں آئی ۔

کشمیر میں جہاں تمام بڑے بازار بند اور پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہے ۔لوگ بھارتی تسلط اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے یکطرفہ فیصلے کے خلاف مزاحمت کے طورپر سارا دن اپنی دکانیں بندرکھتے ہیں اور دفاتر نہیں جاتے۔وہیں کشمیریوں کے لئے ایک اور پریشان کن صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ وہ غیر کشمیریوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں کیونکہ ان کا صدمہ اور خوف دوسروں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔

ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق انسانی حقوق کے ایک گروپ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال جاننے کے لئے7 سے 10 اکتوبر تک کشمیر کے علاقوں بارہ مولا، پلوامہ ، شوپیاں ، بڈگام اور سری نگر کا دورہ کیا۔ جس کے بعد اس گروپ کے رکن جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری ملک معتصم خان نے ساؤتھ ایشین وائرکوبتایا کہ انہوں نے کشمیریوں کوشدید خوف اور غصے کا شکار دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا وفد یہ جاننا چاہتا تھا کہ لوگوں کے حالات کیا ہیں اور ان کی ذہنی حالت کیسی ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ بالکل خوش نہیں ہیں۔ وہ افسردہ حالت میں ہیں۔ ان کے مرد اور بچے جیلوں میں ہیں ، مواصلات پر پابندیاں ہیں اور ان کے گھر کے باہر آرمی کے جوان کھڑے ہیں۔ وہ غیر کشمیریوں سے بات کرنے کو تیار نہیں ہیں کیوں کہ وہ نہیں جانتے کہ ان کے بارے میں کیا کہا جارہا ہے۔ انھیں بولنے پر قائل کرنے میں کافی دقت کا سامنا کرنا پڑا۔

کرفیو اٹھا لیا گیا ہے لیکن دکانیں صرف صبح 6 بجے سے صبح 9 بجے تک کھلتی ہیں۔ صرف چند میڈیکل اسٹور کھلے رہتے ہیں۔ گھر وں سے بچے باہر نہیں آتے ۔ وہ نہ تو اسکول جا رہے ہیں اور نہ ہی کھیلنے کے لئے باہر آ رہے ہیں۔

مختلف گاؤں کے دورے کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ سرپنچ سمیت کوئی لیڈر نہیں ہے ، جسے گرفتار نہ کیا گیا ہو۔ ایسی خواتین جن کے مرد اور بچے گھر پر نہیں ہیں، صدمے کا شکار ہیں اور اسی وجہ سے وہ دن میں خود کو گھروں میں بند رکھتے ہیں۔

تکلیف ، غداری اور صدمے کا ایک عام احساس کشمیر کے امیر اور غریب دونوں ہی میں ہے۔ وہ خاموشی سے احتجاج کرتے ہیں اور آرٹیکل 370 کے بارے میں بات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

ملک معتصم خان نے ساؤتھ ایشین وائرکوبتایا کہ اس سے بھی بدتر صورتحال یہ ہے کہ اندرونی ٹرانسپورٹ کا نظام رک گیا ہے۔ لوگوں کے پاس پیسہ نہیں ہے ۔دوائیں نہیں خریدی جاسکتیں، ابتدائی طبی امداد فراہم نہیں کی جاسکتی ،دوسری ضروریات پوری نہیں ہوسکتیں۔پانچ خاندانوں نے کہا کہ جب اس خاندان میں موت واقع ہوئی تو پڑوسی آخری رسومات کے لئے آگے آئے کیونکہ ان کا اپنے رشتے داروں سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ یہ باتان کے صدمے میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ یہاں اخبارات یا میڈیا چینلز بھی کام نہیں کررہے ۔

کشمیر میں انسولین کی زیادہ مانگ ہے

ملک معتصم خان نے ساؤتھ ایشین وائرکوبتایا کہ ہمار ا انسانی حقوق کا گروپ جو کشمیر گیا تھا،انہوں نے دواؤں کی ایک فہرست تیار کی ہے جس کی وادی میں زیادہ مانگ ہے، اور لوگ وہ دوائیں خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لئے انسولین کے انجیکشن کی طلب بہت زیادہ ہے۔ گردے کی بیماریوں میں مبتلا افراد بھی دوائیں خریدنے سے قاصر ہیں۔

ضرورت ان دیہی علاقوں میں زیادہ ہے جہاں زیادہ تر لوگ گھروں سے باہر نہیں جا رہے ہیں۔
ٰID: 447-DH-1