Our Beacon Forum

Dargah Hazrat Bal, Kashmir
By:Maqbool Butt, Mirpur
Date: Monday, 14 October 2019, 8:38 pm

مقبوضہ کشمیر :درگاہ حضرت بل میں علماء و مشائخ کے وفد کے خلاف کشمیریوں کا شدید غم و غصے کا اظہار

سری نگر،14اکتوبر(ساؤتھ ایشین وائر):مقبوضہ کشمیر میں بھارت سے تعلق رکھنے والے صوفی مشائخ کے ایک وفدکو کشمیر کے دورے کے موقع پر کشمیریوں کے شدید غم وغصے کا سامنا کرنا پڑا اور لوگوں نے بھارت مخالف نعروں سے وفد کا استقبال کیا ۔
ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق بھارت کے علماء و مشائخ اور سجادہ نشینوں کا ایک وفد جو حکومت ہندوستان کی طرف سے کشمیر میں خیرسگالی کے طورپر آیا تھا ، انہیں سری نگر کے صوفی بزرگ حضرت بلبل کی زیارت کے دورے کے موقع پر کشمیریوں کے شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ سینکڑوں عقیدت مندوں نے علماء و مشائخ کے خلاف غم و غصے کا اظہار کرنے کے لئے آزادی کے حق میں، اور بھارت اور نریندر مودی مخالف نعرے لگائے۔
درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید ناصرالدین چشتی کی سربراہی میں آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کے علمائے کرام زمینی حقائق کا پتہ لگانے کے لئے وادی کے تین روزہ دورے پر تھے۔ وفد کے 17 ارکان اجمیر شریف اور درگاہ حضرت نظام الدین اولیاء سمیت ممتاز درگاہوں سے آئے تھے۔
5اگست کے بعد سے یہ پہلا وفد ہے جس کی ریاستی حکومت نے میزبانی کی ہے اور عوام تک رسائی کی اجازت دی ہے۔ اس سے قبل حکومت نے متعدد اعلی سطحی وفدوں کو واپس بھیج دیاتھا ، جبکہ کچھ دیگر افراد کو عدالتی مداخلت کے بعد ہی وادی کا رخ کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
مظاہرین کے مطابق بھارتی حکومت کشمیریوں کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے کے لئے صوفی کارڈ کھیل رہی ہے۔ 5 اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد عوام کے غم و غصے کی شدت کا یہ عالم ہے کہ صوفی علما ء و مشائخ کو بھی معروف درگاہ پر اس طرح کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ علماء و مشائخ دوپہر کی نماز کے دوران درگاہ پہنچے ۔ انہوں نے نماز ادا کی لیکن اس کے بعد ، لوگ ان کی موجودگی سے مشتعل ہوگئے ، خاص طور پر اس وجہ سے کہ انہوں نے زعفرانی رنگ کے لباس پہن رکھے تھے۔
ایک بزرگ نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ لوگوں کا خیال تھا کہ انہیں ہندوستانی حکومت نے بھیجا ہے۔ بوڑھے اور نوجوان ، مرد اور خواتین نعرے بازی میں شامل ہوئے ۔
لوگوں نے ''گو انڈیا گو بیک ''اور''ہم کیا چاہتے آزادی"نعرے لگائے۔ مظاہرین نے مشائخ کو گھیر لیا لیکن انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
پولیس ذرائع نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ بعد میں یہ وفد شہر کے پرانے علاقے میں چند کلومیٹر دور مخدوم صاحب کے مزار کے دورے پر جانا چاہتا تھا۔ لیکن وہاں ہجوم کو اکھٹا ہوتے دیکھ کر دامن میں واقع مزار تک نہیں جاسکے۔
وفد کے سربراہ ،درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید ناصرالدین چشتی نے ریاست کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا اور اس بات سے بھی انکار کیا کہ یہ وفد حکومت کے کہنے پر آیا تھا۔
''یہ ہماری اپنی خواہش تھی ، ہم نے گورنر ستیہ پال کو خط لکھا تھا کہ ہمیں وادی کا دورہ کرنے کی اجازت دی جائے۔ ہماری پہلی درخواست مسترد کردی گئی لیکن جب ہم نے 10 دن پہلے دوبارہ درخواست کی تو ہمیں اجازت مل گئی۔''
چشتی نے کہا کہ اس دورے کا مقصد کشمیریوں کو قومی دھارے میں شامل کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مشائخ زعفرانی لباس پہنے ہوئے تھے کیونکہ اس رنگ کا تعلق تصوف سے ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ رنگ ہندو مذہب کا ہے لیکن اسے آٹھ صدیاں قبل ہندوستان میں تصوف کے بانی خواجہ معین الدین چشتی نے نے اپنایا تھا۔انہوں نے کہا:''ہم یہاں تصوف کو فروغ دینے کے لئے موجود ہیں اور اس کا پیغام محبت ، محبت اور محبت ہے اور تمام ہندوستانی بھائی بھائی ہیں۔''
ٰID: 447-TG-1