Our Beacon Forum

Q&A with Ghamidi - Urdu
By:Al-Mawrid, Malaysia
Date: Sunday, 1 September 2019, 11:37 pm

۔

*شیشیل کورالا فقیرانہ وزیر اعظم*

2014ء میں نیپال کا وزیراعظم بن گیا پہلے دن جب اپنے سرکاری دفتر پہنچا تو انتہائی سستی قیمت کے کپڑے پہن رکھے تھے لباس کی مجموعی قیمت دو سو روپے سے بھی کم تھی سر پر انتہائی پرانی ٹوپی اور پیروں میں کھردری سی چپل وہاں ویٹر یا نائب قاصد کے کپڑے بھی شیشیل کورالا سے بہت بہتر تھے۔

منتخب وزیراعظم کو ان کے دفتر لیجایا گیا دفتر کے باہر چپل اُتاری اور ننگے پاؤں چلتا ہوا کرسی پر چوکڑی مار کر بیٹھ گیا سیکریٹری اور دیگر عملے کے اوسان خطا ہو گئے کہ یہ کس طرح ملک کے لوگوں سے ووٹ کی طاقت سے وزیراعظم بن گیا ہے کورالا نے فائلیں منگوائی اور بڑی محنت سے کام شروع کردیا سیکریٹری دوگھنٹے اپنے کمرے میں انتظار کرتا رہا کہ باس اب بلائے گا یا اب۔اس نے کئی بار چپڑاسی سے پوچھا کہ مجھے وزیراعظم نے تو نہیں بلایا چپڑاسی شرمندگی سے جواب دیتا تھا کہ نہیں ابھی تک انھوں نے کسی کو بھی بلانے کے لیے نہیں کہا۔

پورا دن گزر گیا شیشیل سرکاری کام کرکے بڑے آرام سے واپس چلا گیا۔سختی سے منع کیا کہ کوئی بھی اسے خوش آمدید کہنے یا خداحافظ کہنے نہ آئے۔ یعنی اس نے ہر طرح کے پروٹوکول کوختم کردیا اسی صورتحال میں ایک ہفتہ گزر گیا تمام عملہ بیکار بیٹھا رہا۔ وزیراعظم ٹھیک آٹھ بجے صبح دفتر آتا تھا رات گئے تک کام کرتا تھا۔ پھر بڑے آرام سے چلا جاتا تھا

ایک ہفتہ بعد سیکریٹری نے کورالا کو چٹ بھجوائی کہ وہ اسے کسی سرکاری کام سے ملنا چاہتا ہے چٹ بھجوائے ہوئے دوچار منٹ ہوئے تھے کہ وزیراعظم خود اس کے کمرے میں آ گیا اور تہذیب سے پوچھا کہ فرمایے، کیا کام ہے۔ سیکریٹری کی جان نکل گئی کہ ملک کا وزیراعظم اس کے دفتر میں آ کر کام پوچھ رہا ہے کرسی سے کھڑا ہو گیا۔ لجاجت سے کورالا کو کہا کہ سر،قانون کے مطابق بطوروزیراعظم آپ نے اثاثے ڈیکلیئر کرنے ہیں وزیراعظم نے سیکریٹری سے فارم لیا اور خاموشی سے اپنے دفتر چلا گیا۔

شام کو فارم واپس آیا تو سیکریٹری نے پڑھنا شروع کر دیا اثاثوں کا کاغذ دیکھ کر آنکھیں باہر اُبل پڑی درج تھا، ”میرے پاس کوئی گھرنہیں ہے۔ کوئی گاڑی بھی نہیں ہے کیونکہ میں بس میں سفر کرتا ہوں۔کسی قسم کی کوئی جائیداد، پلاٹ، زیور، سونا، ہیرے بھی نہیں ہیں۔جہاں تک زرعی زمین کا تعلق ہے،ساری زمین خیرات کرچکا ہوں اور اس وقت میرے پاس ایک ایکڑ زمین بھی نہیں ہے۔میرا کسی قسم کا کوئی بینک اکاؤنٹ بھی نہیں ہے میرے پاس کوئی رقم ہی نہیں ہے میرے پاس صرف تین موبائل فون ہیں جن میں سے ایک آئی فون ہے اس کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے”۔

نیپال جیسا ملک جہاں سیاست اور کرپشن، بالکل ہماری طرح لازم و ملزوم ہے وہاں وزیراعظم کے ڈیکلیئریشن فارم میں کسی قسم کے اثاثے نہ ہونا اچھنبے کی بات تھی ۔سیکریٹری اگلے دن صرف اس لیے وزیراعظم کے پاس گیا کہ کہیں اس سے کوئی غلطی نہ ہوگئی ہو مگر وزیراعظم نے تسلی دی اور کہا کہ میں نے ڈیکلیئریشن فارم کے نیچے دستخط کیے ہیں۔ فکرنہ کریں۔

تھوڑے دن کے بعد کسی صحافی نے اخبار میں چھاپ دیا کہ یہ دنیا کا سب سے غریب وزیراعظم ہے اپوزیشن نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ شائد جھوٹ ہے کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک ایسا شخص جسکے خاندان میں تین وزیراعظم گزرے ہوں، اتنا مفلوک الحال ہو اپوزیشن نے ہر طرح کی تحقیق کر ڈالی مگر شیشیل کورالا کی لکھی ہوئی باتوں میں کوئی سقم نہ نکال سکے واقعی وزیراعظم کے پاس کچھ بھی نہیں تھا وہ معاشی کسمپرسی کا شکار تھا۔

ایک سرکاری دورے میں حکومت کی طرف سے اسے چھ سو پنتالیس ڈالر ملے دورے کے بعد اس نے یہ تمام ڈالر سرکاری خزانے میں واپس جمع کروا دیے کہ اس کا دورہ پر کسی قسم کے کوئی پیسے خرچ نہیں ہوئے لہذا یہ ڈالر اس کے کسی کام کے نہیں ہیں

بطور وزیراعظم شیشیل کورالا نے انتہائی سادگی سے وقت گزارا اور حکومت کے بعد بھائی کے گھر منتقل ہو گیا۔

آخری عمرمیں پھیپھڑوں کا کینسر ہو گیا۔اس کے پاس علاج کے پیسے نہیں تھے سیاسی پارٹی کے اراکین نے باقاعدہ چندہ اکٹھا کیا اور پھر وہ اپنا علاج کروانے کے قابل ہوا بہرحال کینسر جیسے موذی مرض سے بہادری سے لڑتے ہوئے 2016ء میں نیپال کے ایک سرکاری اسپتال میں دم توڑ گیا۔

آج بھی آپ اس کی زندگی پر لکھی گئی کتابیں پڑھیں تو آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ انسان پوچھتا ہے اے خدا ایسے درویش لوگ بھی اس دنیا پرحکومت کرتے ہیں۔الیکشن جیتتے ہیں اور اپنے دامن پر کرپشن کی ایک چھینٹ بھی نہیں پڑنے دیتے۔ اسی تنگدستی میں دنیا چھوڑ دیتے ہیں۔