Our Beacon Forum

As-siyam --A compulsory millitary training
By:Engr Awais Durrani islamabad
Date: Sunday, 2 June 2019, 11:05 am

A rising star in the university of Quran ie Syed Ata ur Rahman --[02/06, 13:07] Atta Bukhari: سید عطاءالرحمٰن

عنوان: صیام اور شھر رمضان کیا ہے؟

فیسبک اور یوٹیوب پر میرا چوتھا اور آخری لائیو ویڈیو لیکچر

صیام کے مقاصد

قرآن میں صیام ( ملٹری ٹریننگ ) پرگرام کے تین مقاصد بیان کئے گئے ہیں:

1۔ ایک مقصد سورہ البقرہ کی آیت 183 میں یہ بتایا گیا ہے:

لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ 2:183

تاکہ تم اللہ کے قوانین کی پیروی کر کے خود کو تباہی سے محفوظ رکھنے کے قابل بن سکو۔

یعنی اتنی طاقتور اور مضبوط قوم یا جماعت بن جاؤکہ خود کی اور اپنی مملکت کی بھی حفاظت کر سکو۔

2۔ دوسرا مقصد سورہ البقرہ کی آیت 185 میں یہ بیان گیا گیا ہے:

لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ھَدٰکُمْ 2:185

تاکہ اس (اللہ) نے تمہیں جو ہدایت (کتاب) دی، اسے تم (انسانوں کے بنائے ہوئے سیاسی، معاشی، معاشرتی، مذہبی قوانین اور نظاموں پر) غالب کر سکو۔

مذہب میں اس پر عمل کرنے کے لئے عید الفطر کی نماز میں 6 زائد تکبیریں داخل کردیں گئیں۔

3۔ تیسرا مقصد سورہ البقرہ کی آیت 185 میں یہ بیان گیاگیا ہے:

لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ2:185

تاکہ تمہاری کوششیں بھر پور نتائج پیدا کرسکیں۔
دین اسلام میں ہر مسلم یا مومن ایک سپاہی بھی ہوتا ہے۔ مملکت اسلامی میں نوجوان صحت مند افراد کے لئے عصری تقاضوں کے مطابق ضروری ملٹری ٹریننگ کا انتظام لازمی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ تصور دنیا کےکئی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں بھی رائج ہے۔

ملٹری ٹریننگ

پاکستان میں 2002ء تک کالج اور یونیورسٹی کے لیول پر نیشنل کیڈٹ کارپس (National Cadet Corps)، جانباز، مجاہد کی ملٹری ٹریننگ ہمارے طلبہ اور طالبات دونوں کو دی جاتی رہی، جسے اُس وقت کے صدر پاکستان پرویز مشرف نے بند کردیا تھا۔

انڈیا میں آج بھی یہ ٹریننگ دی جارہی ہے۔
اس علاوہ سری لنکا، سنگاپور وغیرہ میں بھی یہ ٹریننگ دی جاتی ہے۔

امریکہ میں یونائیٹڈ اسٹیٹس کیڈٹ کارپس کے تحت 9 سے 18سال تک کی عمر کےطلباء و طالبات کو ملٹری ٹریننگ دی جاتی ہے۔ رشیا، کینیڈا، جرمنی، یوکے وغیرہ میں ملٹری ٹریننگ دی جاتی ہے۔

پاکستان کی اندرونی و بیرونی سنگین صورت حال

جہالت، غربت، بیروزگاری، مذہبی شدت پسندی، عدم برداشت، بڑھتے ہوئے جرائم، غیرملکی مداخلت سے بلوچستان اور شمالی علاقہ جات کی شدید بگڑتی ہوئی صورت حال، پاکستان کے پڑوسی ممالک انڈیا، ایران اور افغانستان کی دشمنی اور امریکہ اور اسرائیل کی مداخلت، یہ سب معاملات انتہائی خطرنات صورت حال اختیار کرتے جار ہے ہیں۔ ان سے نمٹنے کے لئے ہمیں اپنے نوجوانوں کو تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کسی بھی برے حالات میں ملکی دفاع میں اپنا حصہ ڈالنے کے قابل بن سکیں۔

ان ہی عسکری معاملات کے حل کے لئے قرآن نے صیام کو لازمی قرار دیا ہے۔
[02/06, 13:07] Atta Bukhari: سید عطاءالرحمٰن

عنوان: صیام اور شھر رمضان کیا ہے؟

فیسبک اور یوٹیوب پر میرا تیسرا لائیو ویڈیو لیکچر

صِیَامُ (2:183)

خود کو روکنا، ضبط نفس (Control) کرنا، خود کو کتاب اللہ کی حدود کے اندر رکھنا،
لازمی فوجی تربیت حاصل کرنا، کسی چھاؤنی یا عسکری تربیتی ادارہ میں رک کر فوجی تربیت حاصل کرنا۔

تَصُوْمُوْا (2:184)
تم فوجی تربیت حاصل کرو،

شَھْرُ رَمَضَانَ الّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُراٰنُ (2:185)
شَھرُ رَمَضان وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔

شَھْرُ رَمَضَانَ کا مطلب رَمَضان کا مہینہ نہیں ہے کیونکہ پورے نزولِ قرآن یعنی عہد نبوت میں رَمَضان نام کا کوئی مہینہ نہیں تھا۔ پھر یہ شھر رمضان کیا ہے؟

خاتم النّبیّین محمد کریمؐ کی نبوت کے اعلان کے بعدآپؐ پر ایمان والے مسلمانوں کے خلاف جو شدید عداوت و مظالم کا بازار گرم کیا گیا، اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کو اپنا سب کچھ چھوڑ کر ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ کے جو مصائب و آلام برداشت کرنے پڑے، تو ان جان لیوا سختیوں کو جھیلنے کے بعد اللہ نے مسلمانوں کو قصاص، وصیت، صیام (فوجی تربیت) اور پھر قتال کا حکم دیا۔ یہ سب احکام ایک خاص ترتیب سے دین کے اجتماعی نظام کو قائم کرنے کے لئے دیئے گئے۔

مکی دور کے مصائب وآلام، اپنے ہی رشتہ داروں کی طرف سے مظالم، اپنے بیوی بچوں، گھروں، حویلیوں اور کھیت کھلیانوں کو چھوڑ کر ہجرت کی سختیاں، بے سروسامانی، مدینہ کی دل دہلا دینے والی جنگوں کے شعلے اور ہولناک خون ریزیاں؛ یہ آگ اور خون کا دور تھا جس میں قرآن نازل کیا گیا۔ اس دور یا زمانہ (Era) کو قرآن میں شھر رمضان کہا گیا ہے۔

اس کا پس منظر سورہ البقرہ کی آیات 144 تا 215 میں بیان کیا گیا ہے۔ اگر آپ ان آیات کے سیاق و سباق میں صیام اور شھر رَمَضان کے الفاظ کو رکھ کر غور کریں توپھر ان کا مطلب بالکل واضح ہوجاتا ہے۔

شھر رمضان کے پس منظر میں چند آیات ملاحظہ ہوں:

سورہ البقرہ،آیت 153

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُـوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ اِنَّ اللّـٰهَ مَعَ الصَّابِـرِيْنَ 2:153

اے ایمان والو! صبر اور صلوٰۃ سے مدد لو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

سورہ البقرہ،آیت 154

وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْيَاءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ 2:154

اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مرا ہوا نہ کہو، بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم نہیں سمجھتے۔

سورہ البقرہ،آیت 155

وَلَنَـبْلُوَنَّكُمْ بِشَىْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِـرِيْنَ 2:155

اور ہمارے قانون کی رو سے تم خود کو خوف، بھوک، مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان سے ضرور آز ماؤگے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔

سورہ البقرہ، آیت 156

اَلَّـذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْهُـمْ مُّصِيْبَةٌ قَالُوْآ اِنَّا لِلّـٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ 2:156

وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم تو اللہ کے ہیں اور ہم اسی کے قانون کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

سورہ اٰل عمران، آیت 195

فَالَّـذِيْنَ هَاجَرُوْا وَاُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِـمْ وَاُوْذُوْا فِىْ سَبِيْـلِـىْ وَقَاتَلُوْا وَقُتِلُوْا 3:195

پھر جن لوگوں نے وطن چھوڑا اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میرے راستہ میں ایذائیں دی گئیں، اور وہ لڑے اور قتل کردیئے گئے۔

سورہ الحج، آیت 40
اَلَّـذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِـمْ بِغَيْـرِ حَقٍّ اِلَّآ اَنْ يَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّـٰهُ 22:40

وہ لوگ جنہیں ناحق ان کے گھروں سے نکال دیا گیا، صرف یہ کہنے پر کہ ہمارا رب اللہ ہے۔

سورہ الحشر، آیت 8
الْمُهَاجِرِيْنَ الَّـذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِـمْ وَاَمْوَالِـهِـمْ 59:8

جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے

فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ(2:185)

پس تم میں سے جو کوئی (eye witness) اس شَھْر کو دیکھے۔

الشَھْرَ کےمعنی ہیں کوئ بری بات (Evil) جو نمایاں و مشہور (Notorious) ہوجائے۔
(تاج العروس)۔

عربی زبان میں شہر الحرام کے معنی ہیں خون ریزی حرام ہے۔

اس سیاق وسباق کی رو سے شَھْر کے معنی زمانہ یا دور (Era) کے بھی ہیں جس میں ظلم و زیادتی پائی جائے۔

شَھْر کے معنی چاند اور مہینہ کے بھی ہیں مگر سیاق و سباق کی روسے یہاں یہ معنی مراد نہیں ہیں۔

فَلْیَصُمْہُ (2:185)

یَصُمْ+ہُ (کا اشارہ شَھْر یعنی برائی کی طرف ہے)

اسی یَصُمْ سے عزم صمیم ہے، یعنی بُرائی کے خلاف لڑنے کاعہد کرنا۔

پس وہ اس (شَھْر یعنی برائی، زیادتی یا ظلم) کے حل کے لئےذہنی طور پر تیاری کرے،

برائی کے خلاف لڑنے کا عزم صمیم کرے
(Solemnly pledge to fight against evil)۔
[02/06, 13:07] Atta Bukhari: سید عطاءالرحمٰن

فیس بک اور یوٹیوب پر میرا لائیو ویڈیو لیکچر

عنوان:
صیام اور عاکفون کی حدود کیا ہیں؟

سورہ البقرہ ، آیت 185

وَمَنْ كَانَ مَرِيْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ

اور جو کوئی مریض ہو، یا سفر پر ہو

فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ

تو (فوجی تربیت کی جتنی تیاری چھوٹ گئی ہو، اس کی) وہ دوسرے دنوں میں تیاری مکمل کرے

نوٹ:
فَعِدَّةٌ میں وہی مفہوم پایا جاتاہےجو اُعِدَّتْ میں ہے جیسے سورہ آل عمران کی آیت 133 میں ہے:
وَسَارِعُوٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ 3:133
اور اپنے رب کی حفاظت اور جنت کی طرف لپکو جس کا عرض (وسعت) آسمان اور زمین ہے، جو متقین (قوانین الٰہی کی پیروی سے خود کو مضبوط و محفوظ بنانے والوں) کے لیے تیار کی گئی ہے۔

يُرِيْدُ اللّـٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ

اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے

وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ

اور وہ تمہارے ساتھ تنگی نہیں چاہتا

وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ 2:185

اور تاکہ تم تیاری مکمل کرلو

نوٹ:
اس کا اشارہ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ کی طرف ہے کہ جو تیاری مرض یا سفرکی وجہ سے چھوٹ گئی تھی، اضافی (Extra) سیشن کے ذریعے اس کی تیاری مکمل کرلو۔

سورہ البقرہ، آیت 187

اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَـةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ

صِیام (عسکری تربیت) کی راتوں میں تمہارے لیے اپنی عورتوں سے صحبت کرنا حلال کیا گیا ہے

هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَاَنْتُـمْ لِبَاسٌ لَّـهُنَّ

وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو،
(یعنی تمہارے درمیان کوئی پردہ نہیں۔)

عَلِمَ اللّـٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُـمْ تَخْتَانُـوْنَ اَنْفُسَكُمْ

اللہ کو عِلم تھا کہ تم اپنے نفسوں سے خیانت کرتے تھے

فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ

پس اس نے تم پر توجہ فرمائی اور تم سے درگزر کیا

فَالْاٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ

لہٰذا اب تم ان (عورتوں یعنی بیویوں) سے مباشرت کرو

وَابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّـٰهُ لَكُمْ

اورتلاش کرو اس کو جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے

وَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا

اورتم کھاؤ اور پیو

حَتّـٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ

حتی کہ تمہارے لیے واضح ہوجائے، فجر (صبح) کی سفیدی، رات کی سیاہی سے

ثُـمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى اللَّيْلِ

پھر تم صیام کو رات تک پورا کرو

وَلَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَاَنْـتُـمْ عَاكِفُوْنَ فِى الْمَسَاجِدِ

اورتم ان (عورتوں یعنی بیویوں) سے مباشرت نہ کرو، جب کہ تم مساجد میں عاکفون ہو۔

نوٹ:
عاکفون کا واحد عاکف ہے جس کا مطلب ہے الجھےہوئے بالوں میں کنگھی کرکے سلجھانے والا۔
اصطلاح میں عاکفون ملک و قوم کے الجھے ہوئے مسائل کو سلجھانے والے مدبّرین ہوتے ہیں۔

تِلْكَ حُدُوْدُ اللّـٰه

یہ اللہ کی حدود (Boundaries / Limitations) ہیں

فَلَا تَقْرَبُوْهَا

پس تم ان کے قریب نہ جاؤ،

كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّـٰهُ اٰيَاتِهٖ لِلنَّاسِ

اسی طرح اللہ اپنی آیات لوگوں کے لیے واضح کرتا ہے

لَعَلَّهُـمْ يَتَّقُوْنَ 2:187

تاکہ وہ ان کا اتباع کر کے اس قدر مضبوط و محفوظ بن جائیں کہ خود کو تباہی سے بچا سکیں۔
[02/06, 13:07] Atta Bukhari: سید عطاءالرحمٰن

فیس بک اور یوٹیوب پر میرا لائیو ویڈیو لیکچر

عنوان:
لیلۃ القَدْر کیا ہے؟

96۔سورہ اَلقَدْر

1۔ اِنَّـآ اَنْزَلْنَاهُ فِىْ لَيْلَـةِ الْقَدْرِ
بلاشہ ہم نے اس (قرآن) کو لیلۃ ِالقدر میں نازل کیا۔

غور کریں کہ قرآن نہ تو ایک مہینہ میں نازل ہوا اور نہ ہی ایک رات میں ۔اس کا نزول تو 23 سال میں مکمل ہوا۔ چنانچہ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جب دنیا نے خود کو وحی کی روشنی (ہدایت ) سے محروم کرلیا تھا، تو اس تاریکی (جہالت ) میں ہم نے اس قرآن کو قدر (Value) دے کر نازل کیا۔ چنانچہ جس تاریکی میں نزول قرآن کا آغاز ہوا، وہ ایک روشن دنیا کے ظہور کی تاریکی تھی، جیسے ہر رات کی تاریکی کے بعد صبح کی روشنی نمو دار ہوتی ہے۔

2۔ وَمَآ اَدْرَاكَ مَا لَيْلَـةُ الْقَدْرِ
اور (اے رسولؐ!)کس چیز نے تجھے اَدْراک دیا کہ لیلۃُ القَدْر کیا ہے۔

3۔ لَيْلَـةُ الْقَدْرِ خَيْـرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ
لیلۃُ القَدْر ہزار شَھْر (ظلم و زیادتی کے زمانوں) سے بہتر ہے (کیونکہ ان ادوار میں لوگوں نے خود کو وحی کی اقدر سے محروم کر رکھا تھا)۔

نوٹ:
سورہ البقرہ کی آیت 185 میں شھر رَمَضان میں جو شَھْر کا لفظ آیا ہے اور یہاں سورہ القَدْر کی آیت 3 میں بھی جو شَھر ہے، دونوں جگہوں پر شھر سے مراد مہینہ نہیں ہے۔ ایک دور یا زمانہ (Era) ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سورہ البقرہ کی آیت 185 میں شھر رمضان ظلم و خون ریزی کے دور کی طرف اشارہ کرتا ہے جبکہ یہاں سورہ القَدْر کی آیت 3 میں شَھْر تاریک دور (Dark Ages) کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ تو اس طرح اللہ نے قرآن میں حسب سابق متضاد الفاظ لاکر بات واضح کردی تاکہ کوئی ابہام نہ رہے۔ اسی لئےاللہ نے اپنی کتاب کو مثانِیٙ کہا ہے۔

4۔ تَنَزَّلُ الْمَلَآئِكَـةُ وَالرُّوْحُ فِيْـهَا بِاِذْنِ رَبِّـهِـمْ مِّنْ كُلِّ اَمْرٍ
اس میں الملائکہ اورالروح ہر اَمْر میں اپنے رب کے حکم سے نازل ہوتے ہیں۔

یعنی نزول قرآن کے بعد خدائی اقدار کا حامل ایسا روشن دور آنے والا ہے کہ جس میں جہالت اور ظلم کی تاریکی چھٹ جائے گی اور رفتہ رفتہ اللہ کے قانون کی حکمرانی قائم ہوجائے گی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ملائکہ (Universal / Natural Forces) اور الروح یعنی اللہ کی وحی یا الوہیاتی توانائی (Divine Energy) ہم آہنگ ہوتی چلی جائیں گی۔ جس سے انسانوں کی زندگی خوش حال اور تعمیری بن آجائے گی۔

5۔ سَلَامٌ هِىَ حَتّـٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ
فجر طلوع ہونے تک وہ (لیلۃِ الْقَدْر) سلامتی ہے۔

یعنی جب انسان قرآن میں دیئے گئے ضابطہ حیات، اَقدار اور قوانین کا اتباع کرنے لگیں گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تاریکی تو بتدریج ختم ہوتی ہی جائے گی مگر اس کے ختم ہونے سے پہلے ہی امن و سلامتی اور عافیت کی فضا پیدا ہونے لگ جائے گی۔