Our Beacon Forum

Dr. Rashid Shaz
By:مرزا کامر۱ن بیگ
Date: Saturday, 25 May 2019, 5:14 am

A paragraph from the book of valuable Islamic scholar "Prof. Rashid Shaz"

ہمارے لیے فقہاء و متقدمین کے تصور اسلام کو وحئ ربانی کی کسوٹی پر پرکھنا اک غلغلہ انگیز فکری انقلاب کا پیش خیمہ ہو گا جس سے نہ صرف یہ کہ ہماری ہزار سالہ فکری جلا وطنی کا ازالہ ہو گا بلکہ ہم ازسرِنو خود کو عہد رسولؐ کی انبساط انگیز فضا میں موجود پائیں گے۔ ذرا غور کیجئے ایک ایسا اسلام جہاں مسلمانوں کے باہمی اختلاف کو عقیدے کی تقدیس حاصل نہ ہوئی ہو، جہاں نہ تو دین کے شیعہ، سنّی اور اباضی، اسمٰعیلی ایڈیشن وجود میں آئے ہوں، نہ شافعی کی ”الرسالہ“ لکھی گئی ہو اور نہ ہی ابوحنیفہ کی جولانئی فکر نے منہجِ کلام کو غوروفکر کے بنیادی منہج کے طور پر متعارف کرایا ہو، ایک ایسی دنیا جہاں علمائے آثار اور علمائے کلام کی باہمی چپقلش کو علم دین کے طور پر دیکھا جانا ابھی باقی ہو، جہاں نہ تو کتب ”ظاھر الروایۃ“ وجود میں آئی ہوں اور نہ ہی ”صحاح ستہ“ کے مجموعوں کو تقدیسی اور تشریعی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہو، نہ صوفیاء کے آستانے وجود میں آئے ہوں اور نہ ہی شرعی علوم کی اصطلاحوں سے ہمارے کان آشنا ہوئے ہوں، ایک ایسے عہد میں ہماری واپسی جب اسلام کی تشریح و تعبیر پر زہری، شافعی، طبری، غزالی، ابن تیمیہ اور ان جیسے دوسرے مفکرین کی مداخلتوں کا سایہ نہ پڑا ہو، ایک ایسے اسلام کی بازیافت جو ان تمام انحرافات و التباسات سے یکسر ماوراء ہو، کچھ اسی قسم کے نتائج پیدا کرے گی جس کا جلوہ ابتدائی ایام میں اس دنیا نے دیکھا تھا۔ اگر ایسا ہو سکا تو ہم نہ صرف یہ کہ شرعی اور غیرشرعی علوم جیسی مصنوعی تقسیم سے اپنا دامن بچا سکیں گے بلکہ دین و دنیا کی اس ثنویت کا بھی خاتمہ ہو جائے گا جس کے نتیجہ میں صدیوں سے قیادت کے مرکزی اسٹیج پر کوئی مؤثر رول ادا کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ متوارث اسلام کو خیرباد کہنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ ہم صرف آیاتِ احکام کو اپنا منشورِ حیات قرار دینے کے بجائے مکمل قرآن کو اپنی توجہ کا مرکز و محور قرار دیں گے۔ صدیوں سے کتاب فطرت پر غوروفکر اور آیاتِ اکتشاف سے رہنمائی کا جو کام معطل ہو کر رہ گیا ہے وہ ایک بار پھر پورے ذوق و شوق کے ساتھ دوبارہ شروع ہو سکے گا۔ متبعین محمدؐ ایک بار پھر خود کو امینِ کائنات اور خیرامت کی حیثیت سے سیادت کے منصب پر سرفراز پائیں گے۔

''راشد شاز، ادراک زوال امت، جلد دوم، ص502''