Our Beacon Forum

ڈگری نہیں ہُنر دیجئے ۔ ۔ علم
By:Abida Rahmani, RWP
Date: Tuesday, 19 March 2019, 7:39 pm

ڈگری نہیں ہُنر دیجئے ۔ ۔ علم اور ہنر میں فرق سمجھئے ۔ ۔ ۔

ٹیوٹا ، ڈائی ہاٹسو ، ڈاٹسن ، ہینو ، ہونڈا ،سوزوکی ، کاواساکی ، لیکسس ، مزدا ، مٹسوبشی ، نسان ، اسوزو اور یاماہا ، یہ تمام کے تمام برانڈز جاپان کے ہیں جبکہ شیور لیٹ ، ہونڈائی اور ڈائیوو جنوبی کوریائی برانڈ ہیں یعنی جنوبی کوریا پروڈیوس کرتا ہے ۔ اس کے بعد دنیا میں آٹو موبائلز کی اور کونسی قسم رہ جاتی ہے ؟
انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی – ٹی) اور الیکٹرونکس کی مارکیٹ آتی ہے ۔ اس کا حال یہ ہے کہ سونی کی پراڈکٹ سے لے کر کینن کیمرے تک سب کچھ جاپان سے آتا ہے ۔ ایل ۔ جی اور سام سنگ جنوبی کوریا بناتے اور سپلائی کرتے ہیں ۔ 2014 ء میں سام سنگ کا سالانہ ریونیو305 بلین ڈالرز تھا ۔
"ایسر" کمپنی لیپ ٹاپ کمپیوٹر تائیوان بنا کر فروخت کرتا ہے جبکہ ویتنام جیسا ملک "ویتنام ہیلی کاپٹرز کارپوریشن" کے نام سے اپنے ہیلی کاپٹرز اور جہاز بنا رہا ہے ۔ محض ہوا ، دھوپ اور پانی رکھنے والا سنگاپور ساری دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کر رہا ہے ۔ جبکہ کیلیفورنیا میں تعمیر ہونے والا اسپتال بھی چین سے اپنے طبی اور دیگر ضروری آلات منگوا رہا ہے - اللہ کو یاد کرنے کیلئے جائے نماز اور تسبیح تک ہمیں چین بھجواتا ہے ۔
دنیا کے تعلیمی نظاموں میں پہلے نمبر پر فن لینڈ ، دوسرے نمبر پر جاپان اور تیسرے نمبر پر جنوبی کوریا ہیں ۔ انھوں نے اپنی نئی نسل کو "ڈگریوں " کے پیچھے بھگانے کے بجائے انھیں ٹیکنیکل یعنی ہنرمند بنانا شروع کررکھا ہے ۔ آپ کو سب سے زیادہ ایلیمنٹری اسکولز ان ہی تمام ممالک میں نظر آئینگے ۔ وہ اپنے بچوں کا وقت کلاس رومز میں بورڈز کے سامنے ضائع ہونے دینے کے بجائے حقائق کی دنیا میں گزرواتے ہیں ۔ ایک بہت بڑا ووکیشنل انسٹیٹیوٹ اسوقت سنگاپور میں ہے اور وہاں بچوں کا صرف بیس فیصد وقت کلاس میں گزرتا ہے باقی 80 فیصد وقت بچے اپنے اپنے شعبوں میں آٹو موبائلز ، آئی ۔ ٹی ، ہوٹل مینیجمنٹ یا ایسی ہی دیگر ٹیکنیکل شعبوں میں تربیت لیتے گزارتے ہیں ۔
دوسری طرف آپ ہمارے تعلیمی نظام اور ہمارے بچوں کا حال ملاحظہ کیجئے ۔ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں ۔ بی ایس ، ایم اس ، بی کام ، ایم کام ، بی بی اے ، ایم بی اے حتیٰ کہ انجینئیرنگ کے سینکڑوں شعبہ جات میں بیشمار ڈگریاں لینے اور چار چار سال تک کلاس رومز میں جی پی اے لینے کے چکر میں خوار ہوتے لڑکے لڑکیاں کالج اور یونیورسٹیوں کے فراغت کے بعد پریٹیکل لائف میں کونسا تیر مارتے ہیں یا مار رہے ہیں ؟ آپ اپنے ارد گرد ملاحظہ کر لیجئے ہم صرف دھرتی پر ڈگری شدہ انسانوں کے بوجھ میں اضافہ تو کر رہے ہیں ۔ مگر ٹیکنالوجی اس دور میں انھیں باروزگار بنانے کا اور کوئی سامان نہیں کر رہے ۔ یہ تمام ڈگری شدہ نوجوان ملک کو ایک پیسے کی پروڈکٹ دینے کے قابل نہیں ۔ ان کی ساری تگ و دو محض ڈگری اور محض ایک نوکری ہے اور کچھ نہیں ۔
ہم اسقدر"وژنری" ہیں کہ لیپ ٹاپ اسکیم پر ہر سال 200 ارب روپے خرچ کر رہے ہیں لیکن لیپ ٹاپ کی انڈسٹری لگانے کو تیار نہیں ۔ آپ ہمارے "وژنری" ہونے کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پوری قوم سی پیک کے انتظار میں صرف اس لئیے ہے کہ ہمیں چائنا سے گوادر تک بل کھاتی 2000 کلو میٹر کی سڑک کنارے ڈھابے اور پنکچر لگانے کی دوکانیں کھولنے کو مل جائیں گی اور ہم ٹول ٹیکس اکٹھا کر بل گیٹس بن جائیں گے ۔ اوپر سے لے کر نیچے تک کوئی بھی مادر وطن میں ٹیکنالوجی لانے میں دلچسپی نہیں رکھتا ۔
آپ فلپائن ہی کی مثال لے لیں ۔ اس نے پورے ملک میں "ہوٹل مینجمنٹ اینڈ ہاسپٹلٹی بزنس" کے شعبہ پر توجہ دے کر اس میں اپنے نوجوانوں کو ڈپلومہ کورسسز کروائے اور دنیا میں اس بزنس پر چھا گیا ۔ اس وقت اس شعبے کے لئے سب سے زیادہ ڈیمانڈ فلپائن کے لوگوں کی ہے ۔ جہاں سے سیلز مینز، سیلز گرلز، ویٹرز اور ویٹرسسز پوری دنیا کو بھجوائے جا رہے ہیں ۔ حتیٰ کے ہمارا دشمن پڑوسی بھارت بھی ان تمام شعبوں میں ہم سے بہت آگے نکل چکا ہے ۔ آئی ٹی انڈسٹری میں سب سے زیادہ مین پاور دنیا بھر میں بھارت سے جاتی ہے ۔ آپ کو دنیا بھر میں بھارتی لڑکے لڑکیاں سیلز مینز، سیلز گرلز، ویٹرز اور ویٹریسز نظر آئیں گے ۔ پروفیشنل ہونے کی وجہ سے ان کی تنخواہیں بھی پاکستانی لیبر کے مقابلے میں دس اور بعض حالتوں میں سو گنا زیادہ ہوتی ہے ۔
دوسری طرف مری کی ٹورازم ہی کو لے لیجئے ، ہمارے غیر اخلاقی غیر مہذب رویے کی وجہ سے ماضی کی یہ نمایاں انڈسٹری ہمارے لئے ناسور بن چکی ہے ۔
چینی کہاوت ہے کہ " اگر تم کسی کی مدد کرنا چاہتے ہو تو اس کو مچھلی دینے کے بجائے مچھلی پکڑنا سکھا دو"۔ چینیوں نے تو یہ بات سمجھ لی مگر ہم ابھی تک نہیں سمجھ سکے ۔ حضرت علیؓ کا قول ہے کہ " ہنر مند آدمی کبھی بھوکا نہیں رہتا ہے"۔
ہمیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ۔ اب مزید ضائع کرنے کے لئے ہمارے پاس وقت نہں ۔ ملک کو ترقی کی پٹڑی پر اب نہ چڑھایا گیا تو یہ ملک مہذب قوموں کی فہرست میں کہیں بہت نیچے چلا جائے گا ۔ ملک کو ڈگری زدہ لوگوں کی نہیں ہنر مند اور باشعور لوگوں کی ضرورت ہے ۔ ڈگری شدہ لوگوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے ہنر مند پیدا کیجئے ۔ دنیا کے اتنے بڑے ہیومن ریسورس اس طرح ضائع نہ کیجئے ورنہ انسانوں کے اس ہجوم کو سنبھالنا پھر بہت مشکل ہو جائے گا ۔

Messages In This Thread

ڈگری نہیں ہُنر دیجئے ۔ ۔ علم
Abida Rahmani, RWP -- Tuesday, 19 March 2019, 7:39 pm
Tech Skills, not mere degrees ہُنر دیجئے
Dr Shabbir, Florida -- Tuesday, 19 March 2019, 11:12 pm