Our Beacon Forum

Re: Who is responsible?
By:Abdal Hameed, Karachi
Date: Monday, 4 February 2019, 3:35 pm
In Response To: Who is responsible? (Dr Shabbir, Florida)

ب کیا ہو سکتا ہے

محمد عبد الحمید

مرکز اور دو صوبوں میں تحریک انصاف کی حکومتیں نہیں چل رہیں۔ سینٹ میں اکثریت نہ ہونے کی بنا پر قانون سازی اپوزیشن کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ اہل، دیانت دار اورسوچ والے وزرا صرف چند ہیں۔ بیشتر اہم عہدوں پر صحیح افراد نہ لگائے گئے۔ چنانچہ کامیابیوں سے کہیں زیادہ ناکامیاں ہیں۔

دوسری طرف، اشارے ہیں۔ شیخ رشید احمد کہتے ہیں کہ مارچ تک صفایا ہو جائے گا۔ پبلک نیوز کے احتشام الحق کے مطابق فوج نے حکومت کو ڈیڑھ سال کی مہلت دی ہے۔ کئی اطراف سے صدارتی نظام کے آنے کی بات کی جا رہی ہے۔ خود عمران خاں نے مایوسی میں اسمبلی توڑنے کی بات کی ہے۔

اندازوں، اشاروں اور افواہوں کو نظرانداز کرتے ہوئے، آئیں سوچییں کہ حالات کی بہتری کے لیئے کس کس کو کیا کیا کرنا چاہیئے۔ مشورہ دینے میں حرج نہیں۔ البتہ عمل کی ضمانت تو وہی دے سکتے ہیں، جنھوں نے کرنا ہے۔

فرض کریں وزیر اعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس متفقہ طور پر طے کرتے ہیں کہ یہ اقدام اٹھائے جائیں:

· وزیر اعظم ہنگامی حالت نافذ کریں، چیف جسٹس توثیق کریں اور آرمی چیف ہر طرح سے تعاون کریں۔

· آئین معطل کیا جائے۔ نیا آئین تیار کیا جائے۔ (مسودہ لف ہذا ہے۔)

· ہر لحاظ سے پڑتال کے بعد 10، 15 اہل، دیانت دار اور تجربہ کار لیکن غیر سیاسی ماہرین پر مشتمل کابینہ بنائی جائے۔

· صوبے ختم کر کے صوبائی ملازم مرکز کے تحت کر دیئے جائیں۔

· تمام سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن منسوخ کر دی جائے۔

· مقامی حکومتوں کا قانون مجریہ 2001 اصل حالت میں ملک بھر میں نافذ کیا جائے اور 90 دنوں میں انتخابات کرا دیئے جائیں۔

· اردو کا بطور سرکاری زبان نفاذ فوری طور پر کیا جائے۔ جہاں فوری نفاذ ممکن نہ ہو، عمل درامد کی سہ ماہی رپورٹ دی جائے اور ایک سال میں نفاذ مکمل کیا جائے گا۔

· تشکیل نو سے ہر 10 سے 20 ملین کی آبادی کے لیئے ضلع بنے۔

مقامی حکومتوں کے انتخابات کے بعد انھیں قانون کے تحت تمام اختیارات اور رقوم ملیں گی تو عوام کے بہت سے مقامی مسائل حل ہونے لگیں گے۔ اس طرح، مرکزی حکومت یکسوئی سے ملکی مسائل حل کرنے میں لگ جائے گی۔ اپوزیشن کی رکاوٹوں کا سامنا نہ ہونے کی بنا پر کارکردگی بہت بہتر ہو گی۔

حکومت

وزیر اعظم عمران خاں کی شبیہ دو وجوہ کی بنا پر بہت اچھی ہے۔ اول، دنیا بھر میں اچھی شہرت۔ دوم، ذاتی دیانت داری۔ تاہم نہ انھیں نظام حکومت کی سمجھ ہے اور نہ اس کا تجربہ۔ مردم شناس بھی نہیں۔ اس لیئے، انھیں نمائشی سربراہ رکھنا بہتر ہوگا۔ انھیں کابینہ کی منظوری کے بغیر کوئی حکم جاری کرنے کا اختیار نہ ہوگا۔ تمام اختیارات کابینہ کو حاصل ہوں گے۔

محاسبہ

ایک بڑا مسئلہ محاسبہ کا ہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں نے 2002 کے انتخابات کے بعد سے ان افراد کی فہرست بنانی شروع کی، جن کا محاسبہ ضروری ہے۔ اب تک اس میں پانچ سے دس ہزار افراد کے نام آ چکے ہیں، جو مختلف شعبوں سے ہیں۔

موجودہ صورت میں ان کا محاسبہ نیب کے بس کی بات نہیں۔ چنانچہ موجودہ چیئرمین کو ہٹا کر کسی اہل اور دیانت دار فرد کو ان کی جگہ لگایا جائے۔ نیب کے عملہ سے ان تمام افراد کو نکال دیا جائے، جو نااہل اور بددیانت ہیں اور سیاسی تعلقات کی بنا پر متعین ہوئے۔ ضرورت کے مطابق مزید جج اور عملہ بھرتی کیا جائے گا تاکہ محاسبہ جلد از جلد مکمل ہو جائے۔ ہر نیب عدالت میں ایک فوجی افسر متعین کیا جائے، جو فیصلوں میں رکاوٹیں دور کرائے اور بلاجواز تاخیر نہ ہونے دے۔

کارکردگی

حکومت کے ہر ڈویژن، ہر خودمختار اور نیم خود مختار ادارہ کو ہر سہ ماہی کارکردگی رپورٹ کابینہ ڈویژن کو بھیجنے کا حکم دیا جائے گا۔ جس سہ ماہی کی کارکردگی تسلی بخش نہ ہو، اس کی بہتری کے لیئے ہدایات دی جائیں گی۔ کارکردگی رپورٹیں حکومت کی ویب سائیٹ پر رکھی جائیں گی۔ اس طرح، عوام بھی انھیں دیکھ سکیں گے۔

آئین

مقامی حکومتوں کے قانون مجریہ 2001 کے تحت انتخابات کے بعد نومنتخب حلقہ ناظم (سابق یونین ناظم) کو بلحاظ عہدہ ضلع کونسل اور قومی اسمبلی کا رکن قرار دیا جائے گا۔ (نئے آئین کے نفاذ کے بعد قومی اسمبلی پانچ سال کے لیئے وجود میں آ جائے گی۔) وہ اپنے دفتر سے ہی وڈیو لنک کے ذریعہ دونوں کی کاروائی میں شریک ہوا کرے گا۔

نئی قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس آئین ساز اسمبلی کی حیثیت سے ہوگا۔ اس میں نئے آئین کا مسودہ (منسلک) پیش کیا جائے گا۔ جب دو تہائی اکثریت منظوری دے دے گی تو موجودہ آئین کی جگہ لے لے گا۔ اس کے نفاذ سے ہمارا سیاسی نظام مضبوط بنیادوں پر قائم ہوگا اور تعمیر اور ترقی کی ضمانت دے گا۔ وہ تباہی، جو اب تک موجودہ سیاسی نظام کی بنا پر آتی رہی، ہمیشہ کے لیئے ختم ہو جائے گی۔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

الله حافظ!
محمّد عبد الحمید
ٖFollow me on Twitter @Mahameed40
مصنف، "غربت کیسے مٹ سکتی ہے"
https://writinglife.kobobooks.com/ebooks
www.mahameed.blogspot.com/
/www.mahameed-articles.blogspot.com
/

Messages In This Thread

Who is responsible ?
Muhammad Rafi Karachi -- Sunday, 3 February 2019, 5:08 pm
Who is responsible?
Dr Shabbir, Florida -- Sunday, 3 February 2019, 9:29 pm
Re: Who is responsible?
Abdal Hameed, Karachi -- Monday, 4 February 2019, 3:35 pm