Our Beacon Forum

The Prophet: Do not overpopulate your towns
By:Abida Rahmani, RWP
Date: Friday, 23 November 2018, 12:52 am

ایک مرتبہ علامہ اقبال مسولینی سے ملے تو دوران گفتگو علامہؒ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پالیسی کا ذکر کیا کہ شہر کی آبادی میں غیر ضروری اضافے کے بجائے دوسرے شہر آباد کیے جائیں۔ مسولینی یہ سن کر مارے خوشی کے اُچھل پڑا۔ کہنے لگا: شہری آبادی کی منصوبہ بندی کا اس سے بہتر حل دنیا میں موجود نہیں ہے۔
آج سے چودہ سو سال پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ مدینہ کی گلیاں کشادہ رکھو۔ گلیوں کو گھروں کی وجہ سے تنگ نہ کرو۔ ہر گلی اتنی کشادہ ہو کہ دو د لدے ہوئے اونٹ آسانی سے گزرسکیں۔ 14 سو سال بعد آج دنیا اس حکم پر عمل کررہی ہے۔ شہروں میں تنگ گلیوں کو کشادہ کیا جارہا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ مدینہ کے بالکل درمیان میں مرکزی مارکیٹ قائم کی جائے۔ اسے سوقِ مدینہ کا نام دیا گیاتھا۔ آج کی تہذیب یافتہ دنیا کہتی ہے کہ جس شہر کے درمیان مارکیٹ نہ ہو وہ ترقی نہیں کرسکتا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا: یہ تمہاری مارکیٹ ہے۔ اس میں ٹیکس نہ لگاؤ۔ آج دنیا اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ مارکیٹ کو ٹیکس فری ہونا چاہیے۔ دنیا بھر میں ڈیوٹی فری مارکیٹ کا رجحان فروغ پارہا ہے۔آپصلی اللہ علیہ وسلم نے سود سے منع فرمایا تھا۔ آج پوری دنیا میں فری ربا انڈسٹری فروغ پارہی ہے۔تیزی سے ترقی کرنے والے ملک کہتے ہیں ''زیروا نٹرسٹ'' کے بغیر معیشت مستحکم نہیں ہوگی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذخیرہ اندوزی سے منع کیا۔ آج دنیا اس حکم پر عمل کرتی تو خوراک کا عالمی بحران کبھی پیدا نہ ہوتا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا سٹے سے نفع نہیں نقصان ہوتا ہے، آج عالمی مالیاتی بحران نے اس کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو منع کیا کہ درختوں کو نہ کاٹو۔ کوئی علاقہ فتح ہو تو بھی درختوں کو آگ نہ لگاؤ۔ آج ماحولیاتی آلودگی دنیا کا دوسرا بڑا مسئلہ ہے۔ عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ گلیشئرز پگھل رہے ہیں۔ گرمی بڑھ رہی ہے۔ یہ سب کچھ درختوں اور جنگلات کی کمی کی وجہ سے ہورہا ہے۔
ایک شخص نے مدینہ کے بازار میں بھٹی لگالی۔ حضرت عمرؓ نے اس کہا: تم بازار کو بند کرنا چاہتے ہو؟ شہر سے باہر چلے جاؤ۔ آج دنیا بھر میں انڈسٹریل علاقے شہروں سے باہر قائم کیے جارہے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے باہر محی النقیع نامی سیرگاہ بنوائی۔ وہاں پیڑ پودے اس قدر لگوائے کہ وہ تفریح گاہ بن گئی۔ گاہے گاہے رسول اللہ خود بھی وہاں آرام کے لیے تشریف لے جاتے۔ آج صدیوں بعد ترقی یافتہ شہروں میں پارک قائم کیے جارہے ہیں۔ آج کل شہریوں کی تفریح کے لیے ایسی تفریح گاہوں کو ضروری اور لازمی سمجھا جارہا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے مختلف قبائل کو جمع کرکے میثاقِ مدینہ تیار کیا۔ 52 دفعات پر مشتمل یہ معاہدہ دراصل مدینہ کی شہری حکومت کا دستور العمل تھا۔ اس معاہدے نے جہاں شہر کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا، وہیں خانہ جنگیوں کو ختم کرکے مضبوط قوم بنادیا۔ آج ہمارا کا سب سے بڑا مسئلہ یہی خانہ جنگی ہے۔ کئی ملک اس آگ میں جل رہے ہیں۔ اس آگ کو بجھانے کے لیے معاہدوں پر معاہدے رہے ہیں۔
مدینہ میں مسجد نبوی کے صحن میں ہسپتال بنایا گیا تاکہ مریضوں کو جلد اور مفت علاج مہیا ہو۔ آج ترقی یافتہ ممالک میں علاج حکومت کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ ماہانہ چیک اپ مفت کیے جاتے ہیں۔
مسجد نبوی کو مرکزی سیکرٹریٹ کا درجہ حاصل تھا۔ مدینہ بھر کی تمام گلیاں مسجد نبوی تک براہِ راست پہنچتی تھیں تاکہ کسی حاجت مند کو پہنچنے میں دشواری نہ ہو۔ آج ریاست کے سربراہ اعلیٰ کی رہائش گاہ میں اس بات کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے۔
آپ اس نبی امی کی زندگی کا مطالعہ کیجئے اور دنیا کے مشہور انقلابیوں، لیڈروں اور رہنماؤں کی زندگیاں سامنے رکھیے۔ آپ پکار اٹھیں گے: چہ نسبت خاک را باعالم پاک۔ آپ چند مشہور لیڈروں کو اٹھائیں۔ دنیا میں چرچا ہے مارٹن لوتھر کی انقلابی جدوجہد کا۔ غریبوں، مظلوموں اور امریکا کے سیاہ فاموں کو اس نے جینے کا شعور دیا۔ اس نے کالے انسانوں کی غلامی ختم ہونے کا خواب دیکھا اور پھر اس خواب کو پورا کردکھایا۔ لیکن مارٹن لوتھر کے قصیدے پڑھنے سے پہلے عرب کی سرزمین پر جنم لینے والے آمنہ کے لعل کی سیرت کو بھی دیکھیں۔ اس نے جاہل، خونخوار اور وحشی قوم کو تہذیب، اخلاق اور تابندہ روایات کا درس دیا۔ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے لوگ چند سالوںمیں دو عظیم سپر پاورز قیصر و کسری کے تخت نشیں بن گئے۔ دنیا کی ترقی یافتہ ترین دونوں بڑی حکومتیں ان کے زیر نگیں آگئیں۔
آپ جنوبی افریقہ کے ہیرو نیلسن منڈیلا کو دیکھیں۔ لوگ اس کی طویل اور صبر آزما جدوجہد سے متاثر ہیں۔ اسے قوم کا نجات دہندہ کہا جاتا ہے۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے 27 برس گزارنے کے باوجود وہ ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹا۔ اس کے پیش کشوں کے ڈھیر لگے، مفاہمتوں کے بازار سجے، لاکھوں اتار چڑھاؤ آئے، مگر وہ پیچھے نہیں ہٹا۔ آئےے! کچھ دیر کو عرب کے نخلستانوں میں چلتے ہیں۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شعب ابی طالب میں رکھا گیا، کھانا بند کیا گیا، اپنوں سے دور کردیا گیا، پتے اور پتھر چبانے پر مجبور کردیا گیا۔ عربوں کی ساری دولت قدموں میں ڈھیر کرنے کا لالچ دیا گیا، زن، زر اور زمین سمیت کون سی پیش کش تھی جو نہیں کی گئی۔ مگر آپ نے آنکھ اٹھا کر بھی ان کی طرف نہیں دیکھا۔
آج لینن اور کارل مارکس کی معاشی حکمت عملیوں کا چرچا ہے۔ ان کی غریب نوازی کا شہرہ ہے۔ مگر ان غریب نوازوں کو جب حکومت ملی تو خود ''محلوں'' میں رہائش پذیر ہوگئے۔ دنیا کا ہر شخص جانتا ہے کہ وہ امیروں اور مال داروں کی طرف کھنچتے چلے گئے۔ مگر آئےے! عرب کے اس بادیہ نشیں کا حال دیکھیں، جسے سونے کے پہاڑ پیش کےے گئے مگر اس نے کہا: میں تو ایک دن کھانا کھاکر شکر اور دوسرے دن بھوکا رہ کر صبر کرتا ہوں۔ وہ کچے مکان اور جھونپڑے میں سویا۔ اس کا بستر کھجور کی چھال سے بنا۔ اس نے اپنی امت کے لےے دولت مانگی مگر اپنے لےے یہ دعا فرمائی: اے میرے مولیٰ مجھے مسکینوں میں ہی زندہ رکھ، مجھے موت آئے تو میں مسکینوں میں ہی ہوں اور قیامت کے دن مجھے مسکینوں کی جماعت کے ساتھ اٹھانا۔
اے رسول امیں! خاتم المرسلیں! تجھ سا کوئی نہیں
تحریر۔۔۔۔ عبدالمنعم فائز