Our Beacon Forum

یمن میں جنگ ختم کرانے کے لیئ
By:Abdal Hameed, Karachi
Date: Sunday, 28 October 2018, 4:10 pm

یمن میں جنگ ختم کرانے کے لیئے ہم ہی ثالث

محمد عبد الحمید

وزیر اعظم عمران خاں کو سعودی عرب کے پہلے دورہ میں کچھ نہ ملا لیکن دوسرے میں بہت کچھ مل گیا۔ اتنی بڑی تبدیلی کی کوئی بڑی وجہ ہی ہو سکتی ہے۔

بڑی تبدیلی کی وجہ جاننے سے پہلے ذرا ماضی پر نظر ڈال لیں۔ سعودی عرب کے لیئے یمن ہمیشہ مسئلہ رہا ہے۔ موجودہ شاہی خاندان کے بانی الملک (شاہ) عبد العزیز نے وفات سے پہلے بیٹوں کو نصیحت کی کہ ہمیشہ آپس میں اتفاق رکھنا اور یمن کو متحد نہ ہونے دینا۔ بیٹوں میں اتفاق تو قائم رہا (کم از کم اب تک) لیکن یمن کے دونوں حصوں کو متحد ہونے سے نہ روکا جا سکا۔ (مصر کے جمال عبد الناصر نے 1960کی دہائی میں فوج بھیج کر کوشش کی کہ یمن بھر میں ہم خیال حکومت حاوی ہو جائے لیکن کئی سال کی جنگ کے باوجود ناکامی ہوئی۔)

سعودیہ کے لیئے متحدہ یمن بڑا مسئلہ بن گیا۔ وہاں کی آبادی میں سنی اکثریت میں ہیں، جبکہ زیدی شیعہ 40 فی صد کے قریب ہیں۔ حوثی قبائل نے، جو شیعہ ہیں، کوشش کی کہ غالب آ جائیں۔ ان کی مسلح بغاوت کامیاب ہو جاتی لیکن سعودیہ کی مداخلت سے رک گئی۔ دوسری طرف، حوثیوں کو ایران کی مدد حاصل ہو گئی۔ سعودیہ (اور متحدہ عرب امارات) نے ہوائی حملے شروع کر دیئے۔ البتہ زمینی فوج نہ بھیجی کہ ناکافی تھی یا نااہل۔ ہمیں کہا گیا کہ کم از کم ایک لاکھ فوج زمینی کاروائی کے لیئے بھیجیں۔ ہمیں افغانستان کی سالہا سال کی صورت حال کے پیش نظر اچھی طرح معلوم تھا کہ بیرونی فوج کا مقامی بغاوت پر حاوی ہونا بہت مشکل ہے۔ صدر ناصر کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔ چنانچہ ہماری فوج نے معذرت کر لی (گو نواز شریف بے سمجھی میں وعدہ کر آئے تھے)۔

قصہ زمین بر سر زمین ہی نپٹایا جاتا ہے۔ چنانچہ یمن پر ہوائی حملوں سے تین سال سے جانی اور مالی نقصان تو بہت ہو رہا ہے لیکن بغاوت فرو نہ کی جا سکی۔ جنگ شروع تو آسانی سے کی جا سکتی ہے لیکن فتح نہ ہونے پر اسے ختم کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ امریکہ افغانستان میں کامیاب نہ ہونے پر نکلنا چاہتا ہے لیکن آبرومندانہ رستہ ابھی تک نہیں ملا۔ اسی طرح، سعودیہ بھی آبرومندانہ رستہ چاہتا ہے کیونکہ یک طرفہ جنگ بند کرنا شکست تسلیم کرنا ہوگا، جس سے بڑی سبکی ہوگی۔ (البتہ صدر ناصر نے سبکی کی پروا کیئے بغیر اپنی فوج یمن سے واپس بلوا لی تھی۔)

وزیر اعظم کے پہلے اور دوسرے دورہ کے درمیان سعودی حکمرانوں کو سجھایا گیا کہ پاکستان سے ثالثی کرا کے یمنی باغیوں کے خلاف لاحاصل کاروائی ختم کی جا سکتی ہے۔ ثالثی کے لیئے ہمیں ہی کیوں چنا گیا؟ ہم واحد مسلم ملک ہیں، جس کے سعودیہ اور ایران دونوں سے اچھے تعلقات ہیں۔ ہم نے ہمیشہ دونوں میں توازن رکھا۔ چنانچہ سعودیہ نے سوچا کہ صرف ہم ہی ایران کو حوثیوں کی مدد ترک کرنے پر رضامند کر سکتے ہیں۔ (ہم واحد ملک ہیں جس کے تمام مسلم ملکوں سے ہمیشہ سے اچھے تعلقات رہے ہیں۔ لاہور میں 1974 میں ہونے والی سمٹ کانفرنس اب تک واحد ہے، جس کا کسی رکن ملک نے بائیکاٹ نہ کیا۔)جب افغان حکمرانوں کو عقل آ گئی تو ان سے بھی تعلقات اچھے ہو جائیں گے۔)

ایران شیعہ ہونے کی بنا پر حوثیوں کی مدد کر رہا ہے لیکن اسے دیرپا کامیابی ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ اس لیئے لگاتار نقصان ختم کرنا چاہے گا۔ ساتھ ہی سعودیہ سے نارمل تعلقات بحال کرانے میں بھی فائدہ ہے۔ چنانچہ وہ ہماری ثالثی کو آسانی سے قبول کر لے گا۔ سعودی عرب بدلہ میں کچھ رعائتیں بھی دے سکتا ہے۔ مثلاً، وہ ایران کے خلاف محاذ آرائی ختم کر کے دوستانہ یا کم از کم نارمل تعلقات بحال کر سکتا ہے۔ سوریہ (شام) اور لبنان میں بھی باہمی کشمکش ختم یا کم کر سکتا ہے۔ (ایران سوریہ کے صدر بشار الاسد کی حمائت کر رہا ہے اور لبنان میں حزب اللہ کی، جبکہ سعودیہ دونوں کے مخالفین کی۔)

ثالثی کا کام وزیر اعظم نہیں کریں گے کیونکہ ان کا مزاج موافق نہیں۔ نچلی سطح پر سفارت کار مذاکرات کریں گے۔ بالائی سطح پر آرمی چیف موثر کردار ادا کریں گے۔ جب سعودیہ اور ایران دونوں صلح چاہتے ہیں تو ثالثی کامیاب ہو جائے گی۔ اس طرح، عالم اسلام میں ہمارا مقام بلند ہوگا۔ اضافی فائدہ یہ ہوگا کہ صلح ہو جانے کے بعد قطر اور سعودیہ میں کشیدگی بھی ختم ہو جائے گی۔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

الله حافظ!
محمّد عبد الحمید