Our Beacon Forum

قائد اعظم A model of character
By:Abdal Hameed, Karachi
Date: Saturday, 4 August 2018, 8:34 pm

قائد اعظم کے پاس تو پستول کا لائسنس بھی نہیں تھا۔ بات کرتے تو بڑے سے بڑے جاگیردار اور نواب سہم جاتے۔ جلسوں میں انگریزی میں تقریر کرتے تو سامعین بات نہ سمجھتے ہوئے بھی ہمہ تن گوش رہتے۔ یہ عظمت کردار کی بدولت تھی۔ لیکن اگر قائد اعظم کے بارے میں یہ عام ہوتا کہ باہر جائیدادیں بنائی ہوئی ہیں، درُوغ گوئی میں اُن کا کوئی ثانی نہیں، قطری خطوط لہراتے کہ میری دولت وہاں سے آئی ہے، تو اُن کی بات کون سُنتا؟ اُن کو کوئی قائد اعظم کہتا؟ جب وہ فوجی افسروں سے مخاطب ہوتے اور اُنگلی ہلاتے‘ کہتے کہ آپ کا کام ملک کا دفاع ہے اور اِس سے زیادہ کچھ نہیں تو اُن کی بات ذہنوں میں اُتر جاتی۔ اُس اعتماد سے آج کل کے سیاسی لیڈران بات کر سکتے ہیں؟