Our Beacon Forum

پاکستان کی سالمیت کوشدیدخط
By:Samiullah Malik, Karachi
Date: Saturday, 9 June 2018, 4:30 pm

http://bittertruth.uk/return-to-the-backward-o-rotation-day/

http://www.alsharq.com.pk/paper/3421#start

''لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو''

قومی اورصوبائی اسمبلیوں کاآئینی خاتمہ31مئی 2018ء کواپنے انجام کوپہنچا اورسیاسی جماعتوں نے پہلی مرتبہ بالغ نظری کامظاہرہ کرتے ہوئے اتفاق رائے سے سابقہ چیف جسٹس پاکستان ناصرالملک کونگران وزیراعظم مقرر کردیا گیااورحیرت کی بات تویہ ہے کہ مسلم لیگ نوازنے پنجاب نگران وزیرمیں عمران خان کی طرف سے تجویزکردہ ناصرکھوسہ کو اعلیٰ کے نام کو بغیرکسی ترددکے قبول کرلیا جبکہ نوازشریف کوسپریم کورٹ میں نااہل کرنے میں جسٹس کھوسہ صاحب ان کے بھائی ہیں۔ نوازشریف نے جونہی اس تقرری کی تعریف کی توپی ٹی آئی نے ایسااودھم مچایاکہ موصوف نے خودہی اپنانام واپس لینے میں عافیت سمجھی اوراس طرح پی ٹی آئی کی غیرسنجیدگی اور سیاسی ناپختگی کابھانڈہ بیچ بازارپھوٹ گیا اوراب پی ٹی آئی کے نامزد نگران وزیراعلی پروفیسرحسن عسکری کی الیکشن کمیشن نے جونہی تقرری کااعلان کیاتومسلم لیگ ن نے اس نام پراپنے تحفظات کااظہارکرکے ایک نیاسیاسی پنڈورہ باکس کھول دیا ،لیکن اب آئینی طورپرمسلم لیگ ن کوانہیں برداشت کرنے کامشوردیاجارہاہے تاہم وفاق اور چاروں صوبوں میں نگران حکومتیں آئین پاکستان کی روشنی میں آرٹیکل ۲۲۴-اے،اوراسی آرٹیکل کی شق1 اور 2کے تحت قائم کی گئی ہیں۔یوں2013ء کاجمہوریت کے نام پر تخت و تاج کاکھیل ختم ہوگیااوراب نئے انتخاب کیلئے سیاسی اکھاڑے میں سیاسی جماعتیں نئے خوشنمانعروں کے ساتھ اپنے اپنے پہلوانوں کومیدان میں اتاریں گی ۔

ایک رپورٹ کے مطابق یہ انتخاب ملک کے سب سے بڑے بجٹ کے ساتھ مکمل ہوگا پچھلے چند ماہ سے سیاست میں ہلچل مچی ہوئی ہے،وفاداریاں تبدیل ہورہی ہیں۔پانچ سال بعدایک مرتبہ پھر ووٹروں کی یادستانے لگی ہے ،نوکریوں کے منہ کھولے گئے لیکن الیکشن کمیشن نے نوکریوں پر پابندیاں لگاکرحکمران سیاسی پارٹیوں کے منہ کھلے کے کھلے چھوڑدیئے ہیں۔اب عوام کودودھ اور شہدکی نہروں کے وعدوں کاجھانسہ دیکرایوان ِ اقتدارمیں جانے کیلئے اپنی دولت کوپانی کی طرح بہایاجائے گا مگرعدالت میں یہ بتانے کوکوئی تیارنہیں کہ شیرمادرسمجھ کردودھ اورشہدکی نہریں کیسے پی گئیں۔سیاسی پرندے اڑان بھرکرمحفوظ آشیانوں کی طرف پناہ ڈھونڈچکے ہیں،لوٹے ایک مرتبہ پھرلوٹ رہے ہیں اورسیاسی جماعتیں اقتدارتک پہنچنے کیلئے ان کوبخوشی اپنی جماعت کے ڈرائی کلین ہاؤس میں تمام داغ دھبے دھوکراپنے ہاں پناہ دیکر نیاپاکستان بنانے کادعویٰ کرنے میں کوئی حجاب محسوس نہیں کررہے۔اربوں کھربوں روپے اس مرحلہ انتخاب میں کالی دیوی کی بھینٹ چڑھیں گے اورایمنسٹی اسکیم کے تحت جوبیرون ملک سے سیاہ دھن ملک میں واپس آئے گاوہ سیاست کی سیاہ کاری کے کام آئے گا۔

طاقتوراورریس جیتنے والے سیاسی گھوڑوں کواپنی اپنی پارٹی میں جوتنے کیلئے لیڈربھاگ رہے ہیں اوراپنے اقتدارکے بھاگ کوجگانے اوربچانے کیلئے ہروہ کام بھی کرگزررہے ہیں جواللہ کے غضب کوبھڑکانے والے ہیں۔مندروں تک اقتدارکی دیوی کی دین سمجھ کرپھیرے لگارہے ہیں، چہروں پررنگ لگوارہے ہیں،موت کے بعدکے انجام سے بے خبرقہقہے لگارہے ہیں،نہ دین کی پرواہ ہے نہ اسلام کی،بس ایک ہی فکرہے کہ کسی طریقے سے انتخاب جیت لیں بھلے سب کچھ ہاردیں۔اقتدارکاچسکاکچھ ایساہی ہوتاہے،اس میں تاج وتخت کیلئے سروں کی فصل کٹتی ہے،تاج اچھلتے ہیں ،قیدوبند کی تنگ وتاریک کوٹھڑیاں اورپھانسی کے پھندے استقبال کرتے ہیں ،خاندان مٹ جاتے ہیں مگریہ ہوس اقتدارمٹتی نہیں،چھٹتی نہیں ہے یہ کافرلگی ہوئی۔

تاریخ نے بتایاہے کہ خلافتِ راشدہ سے جب نظام ملوکیت میں تبدیلی ہوئی ،بادشاہ کے بعداس کااہل خانہ حکومت کاحقدارٹھہرایاگیاتوسروں کی فصل کٹتی دنیائے عالم نے دیکھی۔ تاج اچھلتے اورتخت گرتے ایک زمانے کی نظرسے گزرے،دورکیوں جائیں ،ایران کی ہزارسال کی شہنشاہیت کاتاج اچھلاتوپھراس تاجدارکہلانے والے شاہی گھرانے کیلئے وسیع دھرتی دنیاکی تنگ ہوگئی اورشہنشاہ کوایک معمولی بدبودارکمرے میں موت نے دبوچ لیا اوردوگززمیں بھی نہ ملی کوئے یارمیں۔قسمت چھلاوہ ہوگئی اب پاکستان میں بھی ملوکیت کا خطرناک کھیل شروع ہوگیاہے، پارٹی اہل خانہ کی ملکیت بناکربتایاجارہاہے کہ اقتدارپارٹی کانہیں بلکہ خاندان کاحق ہوگا،باپ کے بعدبیٹاحکمران ہوگا، اگروہ نہ ہواتوبیٹی مسند اقتدارپربراجمان ہوگی۔اس کومردانگی کی جوتذلیل سمجھے وہ چلاجائے، ہمیں اس سے غرض نہیں۔

ملوکیت کاکھیل ہواوراس کاانجام کوئی اورہویہ ہونہیں سکتا،جب تاریخ اپنے آپ کودیرائے گی توہول آتاہے ،ہردردمندکوان اقتدارپرستوں کے انجام سے۔اب انتخابات حکمرانوں کے سرپرآگئے ہیں، جمہوریت کی ڈگڈگی بج رہی ہے اورمجمع عوام میں جمہورکوناچنے پرمجبورکررہاہے۔ٹھیک ہے پاکستان ووٹ کے ذریعے معرضِ وجودمیں آیامگراس وقت ووٹ اورنوٹ کاشرمناک ملاپ نہیں ہوا تھا۔زوراورزرکاکھیل نہ کھیلاگیاتھابلکہ اسلام اورکلمہ کے نام پرووٹ ملاتھاجس کواب بھلایاجارہا ہے۔مملکت خدادادمیں قیام پاکستان کے بعد انتخاب نے وہ تماشہ لگایاکہ نہرونے پھبتی کسی کہ میں پاکستان کے کس حکمران سے بات کروں،میری دھوتی بدلنے سے پہلے وہاں حکمران تبدیل ہوجاتا ہے۔بات توشرم سے پانی پانی کردینے والی تھی مگر سیاستدانوں اور چالبازوں میں شرم نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔

جمہوریت کے تماشہ کودرست کرنے کے نام پرمارشل لاء کاڈنڈالیکرفیلڈمارشل ایوب خان آ گیا، ایبڈوکاقانون نافذکرکے تمام سیاستدانوں کوگھرمیں بٹھادیا۔بیٹھے بٹھائے اسے بھی جمہوریت کا مروڑ اٹھا،بی ڈی نظام متعارف کرواکرانتخاب کے ذریعے اپنے آپ کومنوانے کاشوق چرایا۔ایوب خان کے وزیرخارجہ ذوالفقارعلی بھٹونے کنونشن مسلم لیگ کی راہ دکھائی اورڈی سی،ایس پی کوپارٹی کے مرکزی ضلعی عہدیداربناکرانتخاب جیتنے کی راہ سجھائی ۔پھرتاریخ نے عجب منظردیکھا،ملک کی تمام سیاسی اوربعض دینی جماعتوں کے قائدین نے مل کر قائداعظم محمد علی جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح سے ایوب خان کامقابلہ کرنے کی درخواست کرکے انہیں مجبورکیاکہ وہ انتخاب میں حصہ لیں لیکن ان سب کی حمائت بھی ان کوکامیاب نہ کرواسکی اورڈنڈاجیت گیا۔

صدرمحمدایوب خان نے اپنے چہیتے بیوریوکریٹ ایوب گوہرسے اپنی سیاسی اب بیتی''فرینڈزناٹ ماسٹر''کے عنوان سے لکھوائی توجوسیاستدان انتخاب میں فاطمہ جناح کوکامیاب نہ کرواسکے انہوں نے تحریک کاآغازکردیا۔ اس سے قبل ایوب خان کو''امیرالمومنین''کاخواب دکھانے اور ڈیڈی کہہ کرمخاطب کرنے والاذوالفقارعلی بھٹوبھارت سے ''جبرالٹر''آپریشن کے نام پرجنگ کروا کے کھوکھلاکرچکاتھااورپھروہ پی پی پی کے سیکرٹری جنرل جے اے رحیم کے مطابق امریکی سی آئی اے کے اشارے پرصدرایوب خان کے مدمقابل میدانِ سیاست میں اترآیا۔ادھرایوب خان نے اگرتلہ سازش پکڑکرشیخ مجیب الرحمان کوحوالۂ زنداں کیاتوسیاستدانوں کی زبانوں کے تالے ٹوٹ گئے اوراس کورہاکرواکرہی چھوڑا(جبکہ تاریخ نے بعدازاں بنگلہ دیش کے قیام کے موقع پرمجیب الرحمان کے اقرارنے اگرتلہ سازش کیس سچ ثابت کردکھایا) ۔

صدرایوب خان نے ون یونٹ اکائی کوختم کرنے کے مطالبے کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے مگراس نازک مرحلے میں پرکاری دکھانے والوںنے صوبہ بہاولپوراورکراچی کی سابقہ حیثیت کو بحال نہ کرکے جھگڑے کی بنیادڈالے رکھی جواب پھرجنوبی صوبہ پنجاب اورکراچی صوبہ کے نام پراٹھ کھڑاہوا ہے۔سازش کرنے والوں نے ایوب کی حکومت کاتیاپانچہ کر دیا۔یحییٰ خان کے ہاتھوں اقتدار چلاگیا،پھرجمہوریت کی مورت کے گردوٹ کاکھیل شروع ہوا۔مشرقی پاکستان کواگرتلہ سازش کے تحت بھارت کی مددسے جداکرنے والے نے اس کوووٹ کے ذریعے جداکرا لیااورووٹ کوبنیادبنا کر سانحہ مشرقی پاکستان کافائدہ اٹھاکرمغربی پاکستان میں بھٹوکاعوامی راج قائم ہوگیا۔قومیانے کاکھیل ووٹ کی قوت کی بدولت شروع ہوااورستمبر 1965ء کی تباہی سے بچ جانے والی معیشت کامزید بھٹہ بیٹھ گیا۔

عوام نے ووٹ کوعزت دی توووٹ سے بننے والے حکمرانوں نے عزت کے جنازے اٹھادیئے، کھر جیساسفاک اورہوس زدہ نے وہ شرمناک کار ہائے انجام دیئے جس سے نفرت کاایک بڑا طوفان اٹھااورپھربرصغیر کی ایک ایسی تحریک نے جنم لیاکہ حضرت علی کے بقول ظلم کی حکومت برقرارنہ رہ سکی تونظام مصطفیٰ کاڈھونگ رچانے والے بھی متحدنہ رہ سکے۔یوں ضیاء الحق جو چیف آف آرمی سٹاف اوربھٹوکا انتخاب تھے،اسلامی مارشل لاء کے ساتھ برسراقتدارآگئے اورایک نئی تاریخ نے جنم لیا اوران پرقتل کاالزام عدالت میں ثابت ہونے پر ایک ملک کے سابق وزیراعظم بھٹوکوپھانسی پرچڑھاکرجمہوریت کامنہ کالا ہوا،اوریوں پھانسی اورفیصلے پرنہ ختم ہونے والی بحث شروع ہوگئی جو آج تک جاری ہے اوربھٹو کو شہیدکارتبہ دیکر ان کی جماعت نے آج تک زندہ رکھاہواہے اوربھٹوصرف ایک دن کیلئے مرحوم ہوتے ہیں جس دن ان کی برسی کاانعقاد ہوتا ہے۔

جمہوریت کے نظام نے پھانسی کی صورت میں بھینٹ لی جواس سے قبل مشرقی پاکستان کی بھینٹ لے چکاتھااوراس جمہوریت کوچسکالگ چکاتھا ،پھر جب بے نظیربھٹووزارتِ عظمیٰ کی عمر35 سال کوپہنچی تو17اگست 1988ء کوصدرجنرل محمد ضیا ء الحق اپنے انتہائی قریبی ساتھی جنرل اختر عبدالرحمان اور24اعلیٰ فوجی افسران سمیت امریکی سفیررافیل اورامریکی بریگیڈیئر جنرل بہاولپورمیں ایم ون ٹینک کامظاہرہ دیکھنے کے بعدسی130 طیارہ میں واپس راولپنڈی کیلئے جونہی روانہ ہوئے توپروازکے ٹھیک دس منٹ کے بعدان کاطیارہ فضامیں اڑادیاگیا تاکہ پھر جمہوریت کا تماشہ یامجمع لگایا جاسکے۔بھٹوکی پھانسی ذہانت کاقتل تھاتو ضیاء الحق کاسانحہ عسکری صلاحیتوں کاقتل عام تھا۔تمام وہ دماغ جنہوں نے روس کو افغانستان میں شکست کا سامان کیا،ان سب کوراکھ کاڈھیربنادیاگیا۔کفرنے انتقام سازش کے ذریعے لے لیااورسازش کرنے والے ترقی پا گئے۔

۱۹۸۸ء میں بے نظیربھٹواقتدارمیں آگئیں اورجمہوریت نے اسلام کے نام پرمعرضِ وجودمیں آنے والے ملک کاحکمران بناکرمسلم امہ کے منہ پرایسا بھرپورطمانچہ رسیدکیاگیا جس کی گونج تاریخ نے اپنے اندرمحفوظ کرلی ہے۔جنرل ضیاء الحق کے دور اقتدارمیں بغیرکسی تخصیص کے علماء کوبڑی عزت وتکریم دی گئی لیکن جونہی بے نظیراقتدارنے اقتدارسنبھالا تو درباری ملاں خارجہ کمیٹی اورکشمیرکمیٹی کے سدابہارعہدے پربراجمان ہوگئے اورزمین کے اوپرچلنے کی بجائے زمین کے اندرچلے جانے کادورجمہوریت کی بدولت آگیااورپھرملک دو جماعتوں مسلم لیگ نواز اورپیپلزپارٹی اقتدار کے سکے کے دورخ قرارپائے اوران کے اقتدارکی وارہ بندی جمہوریت کا حسن قرارپائی اورلگام دوسروں نے تھام کررکھی،لگام تھامنے والوں کوسواری اقتدار کی سوجھی توآئین کی دفعہ6کی رکاوٹ چیف ایگزیکٹوکی بدولت ایجادکرکے پرویزمشرف جوچیف آف آرمی سٹاف نے دورکرکے عدالت سے سہولت کی صورت حاصل کرلی مگر جمہوریت کوان کی بھی مجبوری بنانے والوں نے بتادیاکہ عوامی انجکشن اقتدارکولگانے کامشورہ دیاگیا،مسلم لیگ ق بنائی اورگریجوایٹ اسمبلی کے نام پر دردِ سربننے والے سیاستدانوں سے ایوان کو پاک کیاگیا۔

جمہوریت حکومت کیلئے پولیوکے قطرے کی طرح اہم بنادی گئی کہ جب تک یہ قطرے حکمران وقت نہ پئیں گے،چل نہیں سکیں گے، سوپھر مقبولیت عامہ کاجھانسہ اوراقتدارمیں ساجھا کے حوالے سے امریکاکے حکم پربے نظیربھٹوسے این آراوکرایاگیا۔این آراو اقتدار کی نویدپی پی پی کیلئے تھی ، تونویدمسرت ثابت ہوئی دہشتگردوں (الطاف حسین اینڈ پارٹی)کیلئے جوجمہوریت کے نام پربے گناہوں کاخون بہانے،املاک نذرآتش کرتے اورلوٹتے رہے،وہ سب آزاد پنچھی قرارپائے۔خوداپنے ہاتھوں سے بنائی گئی مسلم لیگ ق کی قینچی کندکردی گئی ۔اب جمہوریت کا نیا کھیل شروع کرنے کی تیاریاں تھیں ،اب مطلوب کچھ اورتھا۔جمہوریت کے اس کھیل کاشکاربے نظیربھٹوٹھہریں اور جمہوریت جس کے منہ کوخون کاچسکالگ چکا ہے،اس کی پیاس بجھانے کیلئے پی پی کے 150کارکن مارکرکراچی میں دہمکایاگیا اورپھرجب وہ بازنہ آئیں تواسی جمہوریت کوایک اورنیا شہیدمہیاکردیاگیااوراس سانحے کے بعدسندھ میں لوٹ ماراورآتش زنی کا ایساطوفانِ بدتمییزی بپا کیا گیاجس سے ملک کی سلامتی کوشدیدخطرہ لاحق ہوگیااوراس جمہوریت کی سرخی کوبچانے کیلئے سندھ کی سرحدوں پردشمن کی کسی کاروائی کیلئے افواج کو الرٹ ہونا پڑا۔اس حادثے کے بعداب پی پی پی خودکوسیاسی شہداء کی جماعت کے نعرے کے ساتھ اپنی سیاست کوجاری رکھے ہوئے ہے۔

اب مطلوب تھاپی پی کاروپ جومسلم لیک ق کے سربراہ کی زبانی منظرعام پرآیا۔انہوں نے صحافیوں کواس شبِ غم کی یوں کہانی سنائی اوربے بسی کی داستان بتائی کہ جمہوریت کے کھلاڑیوں اورریفری نے کس طرح ان کومکھن سے بال کی طرح نکال باہرکیا،یہ الگ بات ہے کہ چوہدری شجاعت کومیدانِ کھیل سے کرامات دکھاکرباہرکردیاگیا۔امریکاکے جوبائیڈن جواب امریکا کے نائب صدرہیں ،انہوں نے مسلم لیگ ق کے صدرچوہدری شجاعت حسین اورچوہدری پرویز الہٰی سے ان کی ذاتی رہائش گاہ پر خصوصی ملاقات کرکے ان کوآگاہ کیاکہ آئندہ انتخابات میں آپ کی پارٹی کواکثریت حاصل نہیں ہوسکے گی اوریوں مبینہ طورپرجوبائیڈن،جان کیری ،ہک ہیگل اورکونڈالیزرائس نے مسلم لیگ ق کوہراکرپی پی کے اقتدارکی راہ اس طرح ہموارکی کہ پی پی کے سربراہ اورشمع بے نظیربھٹو کی زندگی کی شمع اقتدارپارٹی کوملنے سے پہلے ہی گل کرادی گئی اوریوں پرویزمشرف بھی ریڈکارپٹ پرپی پی حکومت کے ہاتھوں نم دیدہ طورپررخصت ہوگئے ۔

۲۰۰۸ء کے انتخابات میں ووتوں کی کل تعدادآٹھ کروڑبارہ لاکھ تیرہ ہزار248بھی نادارکی چھان بین کے مطابق تین کروڑ71لاکھ 85ہزار998ووٹ جعلی تھے،اس سلسلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان پٹیشنزفائل کی گئی مگرکوئی خاطرخواہ نتیجہ نہ نکلااورتقریباً 38/37فیصدجعلی ووٹوں کی اسمبلی نے پانچ سالہ اقتدارکی میعادپوری کرکے پہلا ریکارڈمدت پوری کرنے کاقائم کیا ۔ 2008ء کے انتخابات میں پولنگ کی شرح تقریباً40فیصدتھی اور60فیصدانتخاب سے لاتعلق رہے۔پڑھے لکھے معقول افرادنے ووٹ ہی نہیں ڈالا۔یاد رہے کہ بھارت میں انتخابات کے وقت امیدواروں کے نشانات کے آخرمیں ایک لفظ"نوٹا"لکھاہوتاہے جس کامطلب"ناٹ آف دی ابوو"یعنی ان تمام امیدواروں میں سے کسی کوووٹ نہیں دیناچاہتا۔اگرپاکستان کے بیلٹ پیپرزپریہ سہولت موجودہوتی تویہ 60فیصدافرادجنہوں نے ووٹ نہیں ڈالاوہ اس جمہوریت کے حسن کوووٹ دیکراپنے دل کی بھڑاس ضرورنکالتے۔بھارت میں ''نوٹا''سے لوگ اس جمہوریت کے بارے میں کم ازکم اپنااحتجاج توریکارڈکروادیتے ہیں لیکن پاکستانی ووٹرزنے بھی بڑی ہوشیاری سے اپنے حق کواس طرح استعمال کیاکہ 2008ء کے انتخابات میں اپنے ووٹ نولاکھDemocracy 73ہزار693عرف عام میں خراب کرکے مستردووٹ کے خانے میں ڈالنا بہتر سمجھا۔

۲۰۰۸ء کے انتخابات میں اقتدارکاپہلاوار1988ء کے انتخابات کی طرح تھا۔اس حکومت کوپانچ سال ہوئے،کیسے پورے ہوئے،کس کس کے پوبارے ہوئے،کون چوبارے تک گیا،کیاکیاتماشے ہوئے،کن کودہائی دی گئی اوردھول اڑائی گئی مگرمفاہمت کی ڈورسے جمہوری حکومت بندھی رہی تاوقتیکہ 2013ء کے انتخابات کامرحلہ آگیاجس کوپی پی پی کے قائدآصف علی زرداری آراوزکاانتخاب کہتے اور جمہوریت کی خاطربرداشت کرتے چلے آنے کے دعوے کرنے لگے،اس میں اقتدارکاوارہ مسلم لیگ ن کاتھااور صوبائی حکومتوں کا بٹوارہ پنجاب اورسندھ میں جوں کاتوں رہنے کاتھا۔اس میں کیاجھرلوچلا،بس اس کااندازہ دیگ کے ان چندچاول سے کرلیں کہ سب سیاسی جماعتوں نے ریٹرنگ آفیسرزکے الیکشن کمیشن کے قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کاالزام لگایاکہ انہوں نے 93حلقوں کے پولنگ اسٹیشن تبدیل کرڈالے ،سوشل میڈیابھی دھاندلی دکھاتارہااور چلاتا رہامگرکسی کاکچھ نہ بگڑا،اورپرنالہ وہیں پرپانچ سال تک گرتارہااور جمہوریت کی حسین دیوی کی زلفوں میں الجھے اقتدارکے مزے لوٹتے رہے۔ جمہوریت کی گاڑی دھاندلی دھندمیں رواں دواں رہی اور ہارنے والے مسلسل پانچ سال الیکشن کمیشن اور عدالتوں کے دھکے کھاتے رہے اورجمہوری نظام کو بد دعائیں دیتے رہے۔

پاکستان کے انتخابات کی تاریخ میں سب سے زیادہ خراب کرووٹ مستردکرنے کاریکارڈ یوں بلند ترین سطح تک پہنچاکہ 2013ء کے انتخابات میں ووٹ خراب کرنے کی شرح15 لاکھ 7ہزار 717تک پہنچی۔قومی اسمبلی کے حلقہ 266میں 25ہزارسے زائدووٹ خراب کرکے مستردکرکےڈسٹ بن کی نذرہوئے اورکامیاب ہونے والاامیدوارپانچ ہز ار۸۸ووٹوں کی برتری سے کامیاب ٹھہرا ۔نجم سیٹھی جو پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ تھے،ان کاحلقہ انتخاب بھی دھاندلی کے شدیدالزام کی زدمیں رہامگرجمہوریت زندہ باداوردھاندلی پائندہ باد ٹھہری مگریہ بھی حقیقت ہے کہ دھاندلی کاالزام ایک بڑی سیاسی جماعت کے لیڈرنے سینکڑوں مرتبہ دہرایا،کئی مہینے کادھرنابھی دیالیکن بالآخر نہ تودھاندلی کا الزام ثابت کرسکے اورنہ ہی قوم کے سامنے اس غلطی پرمعذرت کی البتہ خودہی میڈیاپریہ تسلیم کرلیاکہ مجھے یہ غلط اطلاع فراہم کی گئی جس کوتحقیق کے بغیراس کوبڑے پیمانے پر سیاسی فوائدسمیٹنے کیلئے استعمال کرتے رہے کیونکہ ایسے اوچھے وارکی جمہوریت نے بخوبی اجازت دے رکھی ہے۔

اب سیاست سب سے زیادہ کامیاب تجارت ہے،جوانتخاب جیت گیاوہ کامیاب تاجرہے،اس کوووٹوں کی قیمت پرنوٹوں کے منافع کے مواقع ملتے ہی رہیں گے۔تنخواہیں اور مراعات تواس کاحق ہے اورصوابدیدی فنڈکامنافع الگ سے ہے۔ سینٹ کے انتخاب پچھلے انتخاب اورآنے والے انتخاب کا تقریباًساراخرچ ایک جھٹکے میں مل جاتاہے،بس دولت دیوتاکے آگے جھکنے بکنے کی دیر ہے اور اگراگرانتخابات میں کامیابی کے بعدکلیدی وزارت مل گئی ،''پوبارے خوب کمائی کیے جا،گھربھرے جا''یوں اب گروپوں کی سیاست برائے وزارت نے بھی جنم لے لیا ۔جس محکمہ کی وزارت ملی وہ وزیر کوسمجھوکہ وہ شعبہ وراثت بھلی مل گیا،جتنالوٹ سکولوٹ لو،یوں جمہوریت کی منڈی سجتی ہے اورچہرے پرکالک لگتی ہے۔ منسٹراورملادونوں منڈی میں بکتے ہیں ماسوائے چندایک باضمیر کے۔

ریٹائرڈجسٹس وجیہ الدین جواس سیاسی زمانے میں بھی شرافت ونجابت کی ایک بہترین مثال ہیں، میں خودذاتی طورپراس کاگواہ ہوں کہ انہوں نے گھرمیں آئی ہوئی اہم پیشکش کوٹھکراکر ایمانداری کی اعلیٰ مثال قائم کی،انہوں نے انکشاف کیاکہ جہانگیرترین نے جوالیکشن جیتاتھا اس میں تقسیم کیلئے پچاس روپے کی اسی ہز ارپٹیاں بنی تھیں،ضمنی انتخاب میں یہ تدبیرنہ اپنائی گئی تواس کا فرزندہارگیاہے،یہ ہے مروجہ جمہوریت کاچہرہ ،اس ہاتھ دے اس ہاتھ ووٹ لے۔اگربانی پاکستان محمدعلی جناح کی ایک تحریرجوانہوں نے لیاقت مرچنت کودی تھی جس میں پاکستان میں پارلیمانی نظام کوغیر موزوں قراردیتے ہوئے کہاتھاکہ ابتداء میں پاکستان میں صدارتی نظام ہی بہترین حل ہے اورصدارتی نظام بھی فرانس والا جہاں پارلیمنٹ کاکام قانون سازی ہوتاہے ،پارلیمنٹ کے اراکین کووزارتیں نہیں دی جاتی ہیں بلکہ پیشہ ورتنظیموں ٹیکنوکریٹ کے اہل ترین افرادکومتعلقہ وزارتوں پر فائزکیاجاتاہے جو مس فائرنہیں کرتے،ہاں اگرکوئی ممبراہل ترین ہے تووہ اپنی نشست سے استعفیٰ دیکروزارت پالیتاہے۔

پاکستان میں صدارتی نظام ایوب خان کے دورمیں رہااورملک میں سالانہ ترقی نموایسی رہی کہ پاکستان نے چین کوقرض ومدداورپاکستان کی ترقی نے چین کے وفدکودورۂ پاکستان کے موقع پرحیران کردیا،پھراس ترقی کوکون سی نظربدکھاگئی؟کچھ حلقوں کاخیال ہے کہ جمہوریت کا پارلیمانی نظام اس کی جڑوں میں بیٹھ کراس کی ترقی کی سرسبزی کوچاٹ گیااوراب پھرکسی گوشہ کی طرف سے آوازاٹھ رہی ہے کہ ''لوٹ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو''۔ ترکی میں فرانس کے صدارتی طرزِحکومت کواپنایااورموجودہ صدرطیب اردگان نے اکیاون فیصدووٹ لیکر ووٹ کی قوت سے ٹینکوں کےمنہ موڑدیے۔پاکستان میں اکثریت کے نام پرحکومت کام کرنے کایہ حال ہے کہ بے نظیربھٹوپاکستان آئیں توپی پی نے کل ووٹوں کا18 فیصد حاصل کیا تو جمہوریت نے انہیں حقِ حکمرانی کااہل قراردے دیا،یہ کون سی اکثریت کی حکمرانی کااصول ہے؟

عدالت نظام حکومت کابھی لگے ہاتھوں فیصلہ کرکے اس کی خرابیوں کابھی ازالہ کردے یہ وقت کی پکارہے۔اب نظام حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے پھربازگشت سنائی دے رہی ہے۔نظام خلافت سے مماثلت رکھنے والے نظامِ صدارت کورائج کرنے کا1980ء کاپلان پھرزیرغورہے کہ پارلیمانی نظام کے سونے نے جس طرح معیشت ومعاشرے کے کان چھیدے ہیں اب اس کوبدل کر صدارتی نظام کر دیاجائے تاکہ بہت سے خرابیوں کاخاتمہ ہوسکے ۔نگران سیٹ اب قابل قبول افراد سے معرض وجودمیں آچکا،اب ان کی سربراہی میں مقررہ وقت میں احتساب کے عمل کو مکمل کرلیاجائے تاکہ ان افرادکوجیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجاجائے اورقوم کوان سے مکمل نجات دلائی جائے جنہوں نے اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کردیاہے تاکہ آئندہ آنے والے حکمرانوں کوبھی اپنے احتساب کاخوف رہے۔ یادرہے کہ تبدیلی کاوقت اب ٹھہرنے والانظرنہیں آرہااور جمہوریت کابدترین نظام جوپارلیمان کی صورت میں بلیک میلنگ،سودے بازی اوربچاؤ کافرسودہ طرزِ حکومت ہے اوراس کی بقاء سے پاکستان کی سالمیت کوشدیدخطرات لاحق ہوچکے ہیں۔