Our Beacon Forum

"ففتھ وارجنریشن"
By:Samiullah Malik, Karachi
Date: Sunday, 3 June 2018, 4:39 pm

کیاپاکستان میں واقعی ''ففتھ وارجنریشن ''کاآغازہوچکاہے ؟یہ ہے وہ سوال جو ان دنوں بڑی کثرت کے ساتھ گونج رہاہے۔"ففتھ وارجنریشن" تب شروع کی جاتی ہے جب مخالف ملک کوتوڑناناممکن ہوجائے یاتوڑنے کی ہرکوشش کوناکام بنادیاجائے ۔اس موقع پرپروپیگنڈہ وارکے ذریعے ملک میں انارکی،مایوسی کی فضااس اندازمیں پھیلائی جاتی ہے کہ عوام مختلف جتھوں کی شکل میں تقسیم ہوجاتی ہے۔مختلف علاقوں میں (نوگوایریاز) عوامی عملداریاں قائم ہوجاتی ہیں اورملک عملی طورپرناکام ریاست بن جاتاہے۔ان مقاصد کے حصول کیلئے سب سے پہلے فرقہ وارانہ منافرت اورفسادات اورلسانی بنیادوں پرعوام کوتقسیم کیاجاتاہے۔سراسیمگی اورخوف وہراس کی فضا استوارکرکے عوام اور ریاستی اداروں کاباہم دست وگریباں کردیاجاتا ہے۔عالمی سطح کی سیاست میں ٹارگٹ ملک کے خلاف محازگرم کیاجاتاہے جس کے بعدعالمی اداروں کے ذریعے اسے دہشتگرد ملک قراردلوانا، بطور ناکام ریاست کے پیش کرنااورعسکری تنظیموں کی آماجگاہ جیسے مختلف الزامات لگاکرغیرملکی دباؤ بڑھایاجاتاہے اورپھر سوشل میڈیاکے ذیعے ملکی عوام کومحب وطن فوج سے بدظن کرکے عوام اورفوج کے درمیان غلط فہمیاں پیداکردی جاتی ہیں۔

کسی بھی ملک کی فوج کی اہمیت ریڑھ کی ہڈی کی مانندہوتی ہے ،جب اسے ہی کمزورکردیاجائے توملک پرقبضہ کرناکوئی مشکل نہیں رہتا۔یادرکھئے اس جنگ میں بنیادی طورپرتین توقعات بطوردشمن سامنے ہیں۔ لبرل جوایمان کے دشمن ہیں،خارجی جوجان کے دشمن ہیں اورکرپٹ سیاستدان جوملکی خزانوں اورعوامی مال کے دشمن ہیں۔ان تینوں کاغیراعلانیہ اتفاق ہے اوروہ ہے پاکستان اورافواج پاکستان کے خلاف محاذِجنگ ۔دشمن جب تینوں مقاصدحاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلیتاہے تواس کے بعدوہ براہِ راست پوری قوت کے ساتھ ملک پرحمہ آورہوجاتاہے کیونکہ فوج اورعوام ایک دوسرے سے کٹے ہوئے ہوتے ہیںلہندافوج کوعوامی طاقت میسرنہیں ہوتی اورعوام بھی آپس کے شدیداختلافات، انتشار ،شکوک وشبہات ،لسانی ومذہبی منافرت کی آگ میں جلنے کی وجہ سے کسی بھی قسم کی مزاحمت سے محروم ہوجاتی ہے چنانچہ وہ ملک دشمن کیلئے ترنوالۂ ثابت ہوتاہے ۔سوشل میڈیا ففتھ وارکاایک انتہائی مہلک، اہم اورخطرناک ہتھیارہے ،اس کی خاموشی جنگی طیاروں،جنگی ٹینکوں ،راکٹ اورمیزائلوں کی گھن گرج سے سے زیادہ تباہ کن ہے اوریہ جنگ پاکستان کے خلاف لانچ کی جاچکی ہے۔ یادرکھئے ہم یہ جنگ اسی صورت میں جیت سکتے ہیں کہ ہم تمام مسلکی،علاقائی،لسانی اختلافات بھلاکرایک جھنڈے تلے جمع ہوجائیں اور مذہب،ملت اورملک کادفاع کریں۔

اللہ کاشکرہے کہ پاکستانی قوم اپنی افواج کے ساتھ بے پناہ محبت کرتی ہے اوراب بھی ان کی ملک کے اندرونی وبیرونی دشمنوں کے خلاف لازوال قربانیوں کی دل وجان سے نہ صرف قدر کرتی ہے بلکہ ان کوملک کامسیحاسمجھتی ہے۔ ابھی حال ہی میں عدالت عالیہ کی طرف سے کرپشن میں نااہل قراردیئے جانے والے سابقہ وزیراعظم نوازشریف جن کے خلاف نیب کی عدالت میں کریشن کے مقدمات چل رہے ہیں،جوں جوں گھیراتنگ ہوتاجارہاہے ،وہ اپنے سیاسی بیانات سے میڈیامیں کافی ہلچل پیداکرچکے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیامیں ایک طویل پریس کانفرنس میں ان کے بائیں جانب پرویزرشیدبراجمان تھے جن کومشرف دورمیں شدیدجسمانی اذیت سے دوچارہوناپڑااوران کے دائیں جانب مشاہدحسین تھے جومشرف دورمیں اقتدارکے مزے لوٹتے رہے اورآج نوازشریف کی پارٹی کی طرف سے سینیٹرمنتخب ہوئے ہیں۔قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ نوازشریف اپنی پریس کانفرنس میں مشاہدحسین کی تعریف کرتے نظرآئے ہیں۔

نوازشریف کاحالیہ بیان توان کیلئے بڑی شرمندگی کاباعث بن گیاہے اورخودان کے اپنے بھائی کیلئے بھی اپنے بڑے بھائی کے بیان کادفاع کرنامشکل ہوگیاہے اوران کی پارٹی بھی اس بیان کے بعدتقسیم نظرآرہی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ نوازشریف کایہ بیان مستقبل میں سیاسی ناکامی کاسبب بھی بن سکتاہے ۔ان پرظاہرکیے گئے ذرائع آمدنی سے زیادہ اثاثے جمع کرنے اورآمدنی سے کہیں زیادہ اعلیٰ وارفع لائف اسٹائل ایسے الزامات کے دفاع میں ناکامی ان کیلئے بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔اپنے اہل خانہ کے دوسرے اہم افراد کے خلاف مقدمات کومیڈیامیں غیراہم بناتے ہوئے پہلے ملکی اداروں کوبالواسطہ ٹارگٹ کیااوراب آگے بڑھتے ہوئے ریاست پاکستان پرقریب قریب اسی اندازسے حملہ آورہوئے ہیں جس طرح پاکستان کی مخالف قوتیں ایک عرصے سے سرگرم ہیں۔ نوازشریف کے حملے کوکسی طوربھی پاکستان اوراہل پاکستان سے محبت کااظہارنہیں کہاجا سکتا۔یہ کم ازکم ایک نرگسیت کاشکاراورتنہائی کاشکارہوتے چلے جانے والے ایک سیاستدان کااپنی سیاست ،اپنی جماعت اوراپنے ہی خانوادے کے سیاسی مستقبل پر خودکش حملہ ہے۔

نوازشریف نیب میں اپنے خلاف مقدمات میں مسلسل مایوسی کی ایک ایسی ذہنی حالت کوپہنچ چکے ہیں ، انہیں اپنے اوراپنے خاندان کیلئے جیل کی کوٹھڑیاں نظرآرہی ہیں۔ نوازشریف نے یہ خودکش حملہ کرکے صرف اپنی جماعت کامستقبل گہنادیاہے۔ان کی جماعت کی نئی قیادت جوابھی تک عملاً انہی کے سائے میں سکڑی وسمٹی ہوئی نظرآرہی ہے،آئندہ دنوں میں انتخابی مہم کے دوران کس طرح عوام کے سامنے میاں نوازشریف کے اس عمل کوجائز،درست اورمناسب قراردے سکے گی اورعوام سے میاں نوازشریف کی نااہلی ختم کرنے کیلئے ووٹ حاصل کر سکیں گے تاکہ ایک مرتبہ پھر نوازشریف کواقتدارکے سنگھاسن پرفائزکیاجائے۔حقیقت یہ ہے کہ نوازشریف نے ایسے بہت سے دوسرے سیاستدانوں کیلئے بھی مشکلات پیداکردی ہیں کہ وہ نوازشریف کے ساتھ وفاداری کاتعلق قائم رکھتے ہوئے ملکی اقتدارپرمتمکن ہونے کاامکان رکھ سکتے ہیں اگرتین مرتبہ ملک کے اعلیٰ ترین انتظامی عہدے پررہنے کے باوجودایک بڑا سیاست دان قومی مفادکوذاتی مفادسے کمترسمجھتاہے اورپاکستان کے ازلی دشمن بھارت کابیانیہ اختیارکرسکتاہے توایسے قائدکی محبت میں گرفتارکسی سیاستدان سے کیسے توقع رکھی جاسکتی ہے کہ وہ ملکی مفاد کواپنی ذاتی ضروریات اور نواز شریف کے ذاتی ایجنڈے یامفادات سے اہم جان سکے گا۔

ممبئی حملے کودس سال گزرنے کے بعد نوازشریف کی طرف سے قومی مفاداوراپنے حلف کے تقاضوں کے خلاف اسے اجاگرکرنے کی کوشش پاکستان اوربھارت کے مخصوص تعلقات کے ماحول میں اوربھی خطرناک ہے۔شرمناک اورافسوسناک حقیقت یہ ہے کہ یہ نریندرمودی اورمودی کے بھارت کوایک نیاوکیل مل جانے کے مترادف ہے۔ایک زمانہ وہ تھاجب نوازشریف اپنے مخالف سیاستدانوں کوسیکورٹی رسک قراردیتے تھے، ایسی بلندی ایسی پستی!مسلم لیگ جوپاکستان کی بانی اورمادرجماعت ہے،اس کے سب سے بڑے امام دھڑے کی طرف سے کبھی یہ کہاجاناکہ ہمارا اورہندوؤں کا ایک ہی رب ہے،ہمارے کھانے پینے اورپہننے کے رواج ایک ہیں،کبھی محمود اچکزئی کے ساتھ کھڑے ہوکرکہناکہ میں اب نظریاتی ہو گیاہوں۔کبھی کلبھوشن جیسے بھارتی دہشتگردکے بارے میں لمبی چپ سادھ لینااورجب بولے توصرف اتنابول کرچپ ہوگئے کہ وہ بھارتی جاسوس ہے،اس میں کوئی دوسری رائے نہیں،گویاکلبھوشن کودہشتگردکہنے سے اب بھی گریزجاری ہے۔

ڈان لیکس کے نام سے پاکستان کوبالواسطہ اورپاکستان کے ریاستی اداروں کومطعون کرنے کی سازش کے بعد اب کھلے عام ممبئی حملے کے حوالے سے بھارتی مؤقف کی تائیدکیلئے بے شرمی سے کھڑے ہوجانا،اسے پاکستان کاعام آدمی اورووٹر کسی بھی صورت قبول کرنے کوتیارنہیں سکے گا۔نواز شریف کی طرف سے بطوروزیراعظم بنگلہ دیش میں پاکستان کے وفادار رہنماؤں کوتھوک کے حساب سے پھانسی لگائے جانے کوبھی اپنے لئے اہم نہ جاناتھا۔ نوازشریف کے زیرقیادت ممتازقادری کی پھانسی اورعقیدہ ختم نبوت ۖکے حلف پرحملہ سب کے سامنے ہے۔

اس نئے تعارف کے ساتھ مسلم لیگ نوازکے قائدکوہرمعاملے میں فری ہینڈدینے کوتیارہوسکتاہے کہ مسلم لیگ نوازکے ووٹروں میں اکثریت روایتی مسلم لیگاورمذہبی سوچ کے حامل لوگوں کی ہے لیکن نواز شریف کاقومی سطح پرسب سے معتبرسیاستدان کاٹائیٹل انجوائے کرنے کے باوجودمحض ذاتی نفع ونقصان کے پیرامیٹرزکااسیرہوکررہ جانا اوران کی صاحبزادی مریم نوازدونوں کیلئے مفیدثابت نہیں ہوگا۔اس پس منظرمیں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور شہبازشریف کے علاوہ مسلم لیگ نوازکے باقی زعماء کوبھی عوام کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کرناپڑے گی وگرنہ انتخابی مہم چلانابھی مشکل ہوسکتاہے۔

بظاہرایسانہیں لگ رہاہے کہ مسلم لیگ نواز کی اعلیٰ قیادت میاں نواز شریف کے ملکی مفادسے متصادم بیانئے کے ساتھ نہیں ہے۔خودوزیراعظم شاہد خاقان عباسی جنہوں نے پیرکے روز قومی سلامتی کی کمیٹی کے طویل اجلاس میں متفقہ اعلامیہ کی منظوری دی اور نواز شریف کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اعلامیہ کوگمراہ کن قراردیا،کچھ ہی دیر بعد نواز شریف کو اپنا وزیر اعظم قرار دیتے ہوئے ان کے بیانئے اورمؤقف کے ساتھ کندھاملائے کھڑے تھے۔شاہدخاقان عباسی کی طرف سے پینترابدلنے کایہ معاملہ یقیناحیران کن اور افسوسناک ہے جبکہ نواز شریف اس سے اگلے دن ایک جلسے میں اپنے گمراہ کن اورحقائق کے منافی مؤقف پراصرارکرتے ہوئے پوری قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کوہی مستردکردیا۔محسوس یہ ہوتاہے نواز شریف کویہ یقین ہوچلاہے کہ ملکی مفادکے خلاف مؤقف اختیارکرکے وہ اپنی ڈوبتی ناؤ کوبیرونی قوتوں کی مددسے بچانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ انہیں اس خام خیالی سے روکنے یامسلم لیگ نوازکے کسی لیڈرنے انہیں اس بیانئے کے پاکستان کیلئے مضمرات سے آگاہ تک نہیں کیاہے،اورنہ ہی انہیں کسی نے قائل کیا اورنہ یہ مشورہ دیاکہ یہ اندازِ گفتگوملک اورملکی سیاست کے ساتھ ساتھ خودمسلم لیگ نوازاور جمہوریت کیلئے بھی خطرناک ثابت ہوسکتاہے۔اس کے بعدہی نواز شریف نے ایک قومی کمیشن کا مطالبہ بھی داغ دیاتاکہ ان کے بقول دودھ کادودھ اورپانی کاپانی ہوجائے۔

قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلزپارٹی نے تحریک التواء کارجمع کرائی ہے۔پنجاب میں اپوزیشن نے نواز شریف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت کاروائی کامطالبہ کیاہے۔سندھ اسمبلی نے بھی نواز شریف کے بیانئے کے خلاف قراردادپاس کی ہے۔پاکستان کامیڈیابھی سوائے چنداسشنیات کے نواز شریف کوہوش کے ناخن لینے کامشورہ دے رہا ہے ۔ نواز شریف کیلئے خیرخواہی میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے والے اخبارنویس بھی نواز شریف کے اس نئے مگر خطرناک بیانئے کا ساتھ دینے کی پوزیشن میں نہیں بلکہ ان کی اپنی جماعت بھی شہبازشریف کومشورہ دے رہی ہے کہ آگے بڑھیں اورپارٹی کوسنبھالیں۔یقینا نواز شریف ابھی تک عملاً پارٹی کوچلارہے ہیں۔آنے والے چند دنوں میں پارٹی کے امیدواروں کوٹکٹ بھی انہی کی مرضی سے دیئےCapture جائیں گے اورشہباز شریف تومحض ایک کٹھ پتلی کی طرح ہاں میں ہاں ملاتے جائیں گے۔یہ صورتحال آئندہ آنے والے دنوں میں اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج بھی ہو سکتی ہے کہ عدالتی فیصلوں پرمن وعن عملدرآمدنہیں ہورہا۔ایسے میں نواز شریف ہرآنے والے لمحے میں زیادہ جارحانہ انداز اپنارہے ہیں کہ جیسے ''آبیلمجھے مار''ان کااصل ہدف ہو۔وہ ملک اوراپنی جماعت کیلئے خود کواہم ترین سمجھے چلے جانے کے خبط کاشکارہیں، اسی لئے وہ اب ایک سمجھدار اورمدبر سیاستدان کے طورپرتول کر بولنے کی صلاحیت بھی کھورہے ہیں۔اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اپنی کشتی کوڈوبنے سے بچانے کیلئے وہ تلوارسونت کرسامنے آگئے ہیں۔جنرل ضیاء الحق شہیدکی سرپرستی میں کوچۂ سیاست میں قدم رکھنے والے اوراقتدارکی بلندیوں کوچھونے والے کسی لیڈرکیلئے ہرگزیہ مناسب نہیں،یہ احسان شناسی اورخودشناسی دونوں کے برعکس ہے۔نوازشریف کی ذہنی کیفیت اورعملی سمت سے بھارت اوراس کے سرپرست فائدہ اٹھانے کیلئے پوری طرح فعال ہوچکے ہیں۔بھارت کے اقوام متحدہ میں مندوب نے نوازشریف کے انٹرویوکی کاپیاں دنیا بھرکے سفارت کاروں میں تقسیم کردی ہیں۔ ادھر بھارتی ذرائع ابلاغ نے بھی ایک شوربپا کررکھا ہے اور پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے ڈھول پیٹا جارہا ہے ۔ پاکستان جس نے ہزاروں جانوں کی قربانی اور ڈیڑھ سوبلین ڈالرکاخطیرنقصان اٹھاکر ضربِ عضب اورردّ الفسادآپریشنزکے ذریعے دہشت گردوں کولگام ڈالی تھی اور دنیابھرمیں پاکستان کے اس سرفروشانہ کردارکوسراہاجارہاتھا، نواز شریف کے ایک انٹرویونے اس پرسوال کھڑے کردیئے ہیں۔ مستقبل میں بھارت اوراس کے نئے یاپرانے عالمی سرپرست اسی انٹرویوکوبنیادبناتے ہوئے اقتصادی پابندیاں عائدکرنے کیلئے پھرسے سرگرم ہوجائیں گے۔اس صورت میں پاکستان کی جوبھی اگلی حکومت ہوگی ،اسے سخت معاشی و سفارتی مشکلات کا سامناکرناپڑے گا۔ایسی صورتحال میں بلاشبہ نواز شریف اور شریک بیانیہ بھائی یہ کہہ سکیں گے کہ نواز شریف کادورحکومت بہت اچھاتھا۔یہ تمغہ لینے کیلئے ملک وقوم کو بھینٹ چڑھاناسیاست نہیں قومی جرم کے زمرے میں آئے گا ۔ہونا تویہ چاہئے تھاکہ اپنی جماعت کے نئے صدرکوآگے کرتے اورخودایک مدبرسیاستدان کے طور پر پیچھے بیٹھ کراپنی پارٹی اورقوم کی رہنمائی کافریضہ سرانجام دیتے لیکن بدقسمتی سے نواز شریف نے سالہاسال کی کوششوں سے جماعت کو کھڑاکیا تھا اسے اب خوداپنے ہی خودکش حملے کی زدمیں لاچکے ہیں۔

کیایہ ممکن ہے کہ مل کر تمام اداروں بشمول وزیراعظم کی دانش ایک طرف ہو،ان سب کادوگھنٹے کی سوچ بچارکے بعدسامنے آنے والابیانیہ غلط ہومگرنوازشریف کے دائیں بائیں چلنے والے پرویز رشید اورآصف کرمانی کی معلومات اوردانش بہترہو۔کیایہ ممکن ہے کہ مل کرسارے ادارے بشمول اعلیٰ عدلیہ ،فوج غلط راستے پرہوں حالانکہ ملک میں حکومت مسلم لیگ نواز کی ہے اوران تمام اداروں کے سربراہان کی تقرریاں نواز شریف نے خود یاان کے نامزدکردہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ہاتھوں ہوئی ہیں۔اب اطلاعات یہ ہیں کہ نواز شریف آئندہ دنوں میں اپنے سینے میں چھپے مزید کئی رازوں سے پردہ اٹھانے کاارادہ رکھتے ہیں۔اس کھاتے میں وہ پاکستان کے کئی ملکی رازوں میں سے کارگل جنگ کی طرف اشارہ دے چکے ہیں اوریقیناً تین مرتبہ ملک کے وزیراعظم کافریضہ اداکرتے ہوئے ملک کے تمام ادارے ان کے تابع تھے اوران کے ساتھ ہونے والے تمام قومی حساس معاملات پرتمام ملکی سلامتی کیلئے ہونے والے اقدامات سے ان کوباخبر رکھنااداروں کے فرائض میں شامل تھا،اگراس وقت ملک کے کسی ادارے نے اپنی حدودسے تجاوزکیاتوپھربھی بطورملک کے باضابطہ اورطاقتوروزیراعظم کے مرتبے پرفائزہونے کی وجہ سے اس کی تمام ذمہ داری بھی نواز شریف پربھی توعائدہوتی ہے تو اس وقت نواز شریف کیوں خاموش تھے؟ نواز شریف کوبہرحال یہ ذہن نشین رکھناچاہئے کہ وہ اگراپنے اس عمل سے عائد کردہ حلف کی پاسداری کی خلاف ورزی کے جب بھی مرتکب ہوں گے توان کے ساتھ بھی آئین وہی سلوک کرے گاجس آئین پرانہوں نے حلف اٹھایاتھا اوران کے آئندہ کسی بھی ایسے غیرمحتاط بیانات سے پاکستان کے دشمنوں کوفائدہ اورملکی سلامتی کوجوبھی نقصان پہنچے گا تواس کاسب سے زیادہ خسارہ خودان کی اپنی ذات کوہی ہوگااورقومی تاریخ میں ان کانام بھی میرجعفر اورمیر صادق کے ساتھ پکارا جائے گا۔

Warm Regards