Our Beacon Forum

اصل کہا نی یہ ہے کہ اسرائیل
By:Sadqain Syed, Toronto
Date: Friday, 11 May 2018, 2:52 pm

اصل کہا نی یہ ہے کہ اسرائیل کی ہوا نکل گئی ہے ۔۔
مکمل رپورٹ

’’ہم مزید کشیدگی نہیں چاہتے ، جنگ کو بڑھانےکا بالکل بھی ارادہ نہیں ۔۔‘‘

یہ وہ بیانات ہیں جو اسرائیلی حکمران مسلسل مختلف انداز سے بیان کررہے ہیں البتہ بات صرف اتنی نہیں بلکہ وہ ساتھ ساتھ صرف اپنی ساکھ برقرار رکھنے اور اپنی عوام کو حوصلہ دینے کی لئے دھمکی آمیز اور جھوٹی باتوں کے زریعے کوشش بھی کررہے ہیں ۔

پہلا منظر نامہ :
اسرائیل مسلسل شام میں کہیں نہ کہیں کسی ہدف کو نشانہ بنانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے لیکن ساتھ ساتھ وہ کشیدگی نہیں چاہتا جیسے بیانات بھی دے رہا ہے ۔
شام میںٹی فور ائرپورٹ پرحملے کے بعد وہ مسلسل الرٹ میں تھا اور اس نےشام کی مقبوضہ جولان کی پہاڑیوں یا گولان ہائٹس پر اپنی فوجی اکھٹی کی ہوئی تھی ۔
وہ مسلسل ایرانی جوابی کاروائی کے خوف میں تھا ، درپردہ پیغامات دے رہا تھا کہ مزید کشیدگی نہیں چاہتے

دوسرا منظر نامہ :
گذشتہ رات اسرائیل نے ایک بار پھر ایف سولہ طیاروں کے زریعے سے چند میزائل مارنے کی کوشش کی ، جس کی ایک بڑی وجہ ہے کہ اس کے کئے گئے اکثر حملے درست اہداف تک رسائی نہیں کرپا رہے یا پھر شام کا ڈیفنس سسٹم اسے ناکام بناتا ہے ، اس لئے وہ بار بار کوشش میں لگا ہوا ہے ۔
اسرائیل میزائلوں کے جواب میں شام نے پچاس سے زائد میزائل متعدد اہم اہداف پر معمولی وقفے وقفے سے داغے ۔
میڈیا نیوز کے مطابق 50سے 67 میزائلوں تک کی تعداد بتائی جارہی ہے جو صبح فجر کے قریب اسرائیلی اہداف پر داغے گئے ہیں ۔

تیسرا منظرنامہ :
اسرائیل نےجلد بازی میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے زریعے ایران اور شام کو پیغام دیا ہے کہ
’’ہم مزید جنگ نہیں چاہتے اور نہ ہی مزید بات بڑھانا چاہتے ہیں ‘‘
اسرائیل پوری کوشش کر رہا ہے کہ شام کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں سے ہونے والے نقصانات کو چھپائے ، یہاں تک کہ اسرائیل نے شروع میں آفشل بیان یہ دیا کہ شام نے چار میزائل مارے تھے جسے ان کے میزائل ڈیفنس سسٹم آئرن ڈوم نے فضا میں تباہ کردیا ۔
لیکن کچھ ہی دیر بعد خود اسرائیلی عوام کی جانب سے سوشل میڈیا پر مختلف علاقوں سے پوسٹیں آنے لگیں اور خبریں نشر ہونے لگیں ، یہاں تک اسرائیل اخبار ہآرٹس اور چینل دس نے بھی متعدد اہداف کو نشانہ بنائے جانے کی خبر نشر کی ۔
طبریا کے علاقے میں بھڑکتی آگ کو اسرائیلی چھپا نہ سکے اور آخر کار انہیں آفشلی چپ سادھنا پڑا لیکن میڈیا کا ایک حصہ بول پڑا کہ میزائلوں نے کہاں کہاں اہداف کو نشانہ بنایا ہے ۔
اس بات میں کوئی شک نہیں بہت سے میزائل ڈیفنس ہو چکے ہونگے لیکن مختلف اور متعدد اہداف میں داغے جانے والے اس قدر زیادہ میزائلوں کو ایک ساتھ ڈیفنس کرنا عسکری اعتبار سے ناقابل بھروسہ چیز ہے ۔
باوجود زبردست سنسر شب کے جن شہروں میں عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ور جہاں ان میزائلوں کے لگنے کی خبریں نشر ہوئی ہیں ان میں واضح طور پر مٹولاکہ جہاں شہریوں کو پناہ گاہوں میں گھس جانے کے اعلانات کئے ، اسی طبریا، صفدہ اور کریات شمونہ میں بھی عوام کو پناہ گاہوں میں گھسنے کی ہدایات کی گئی
جبکہ طبریا میں بھڑکتی آگ کو دور سے دیکھا جاسکتا ہے ۔
اسرائیلی میڈیا سے مسلسل یہ اعلانات نشر ہو رہے ہیں کہ عوام پناگاہوں سے زیادہ دور نہ چلے جائیں جبکہ میڈیا یہ بھی کہہ رہا ہے کہ پناگاہوں میں بجلی اور پانی کی عدم موجودگی کے سبب عوام کو پریشیانی کا سامنا ہے ۔
جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق شام نے دس ایسے اہم اہداف کو چنا تھا کہ جس کو بڑی مہارت کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ۔
یہ بات واضح ہے کہ دس اہداف میں سے کم ازکم زیادہ تر اہداف نشانہ بن چکے ہیں کیونکہ ہرہدف پر متعدد میزائل وقفے وقفے سے داغے گئے ہیں اور ٹیکنکلی طور پر یہ ممکن نہیں کہ آنے والے ہرمیزائل کو ڈیفنس کیا جائے اور نہ ہی اسرائیلی ڈیفنس سسٹم کوئی ایسی صلاحیت کا حامل ہے ۔
المیادین چینل کے مطابق شام کی جانب سے ایک ساتھ پچاس میزائل داغے گئے تھے اور اس کے بعد بھی چند میزائل داغے گئے ہیں ۔
عسکری ماہرین کے مطابق پچاس میزائل کو ایک ساتھ داغنے کا مطلب چند منٹوں کا فاصلہ ہی ہوسکتا ہے اور اس کا مقصد ڈیفنس سسٹم اور الیکڑک وارفئیر سے میزائلوں کو بچانا بھی ہوسکتا ہے ۔
سکائی نیوز عربی میں نشر ہونے والی بعض وڈیو کلیپس سےبھی واضح ہورہا ہے کہ میزائلوں نے آئرن ڈوم سسٹم کو آسانی سے کراس کیا تھا ۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔https://www.facebook.com/FocusonWestandSouthAsiaURDU/posts/1099581350189950

Sadqain Syed