Our Beacon Forum

Assassination of Benazir
By: سید عارف مصطفیٰFaisalabad
Date: Monday, 7 May 2018, 5:22 pm

سید عارف مصطفیٰ
ہمیں ٹیڑھی تاریخ کو سیدھا کرنا ہے کیونکہ اگر اسکے کبھ کو پوری دیانتداری و سچائی سے دور نہ کیا گیا تو مجرموں کو ہیرو بنانے کا عمل یونہی جاری و ساری رہے گا ۔۔۔ سچائی کی کھوج کا عمل مشکل ضرور ہوتا ہے لیکن ناممکن ہرگز نہیں ۔۔۔۔ اور اسی سبب اب میں قلم کو علم بناکے میدان عمل میں موجود ہوں اور اسی لیئے میں نے ایم کیوایم سے ہزار اختلاف کے باوجود آج انکے ایک اہم رہنماء سے رابطہ کیا ہے اور ان سے یہ دوٹوک مطالبہ کیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ پیپلز پارٹی سے پکا قلعہ حیدرآباد آپریشن کے مقتولین کے خون کا حساب لے لیا جائے ،،، کیونکہ مفرور پیر لندن المعروف الطاف حسین نے تو بڑی مکاری سے ان مظلومین کے لہو کا سودا کرلیا تھا اور وہ تین دہائیوں ‌تک انکا لہو بیچتا رہا لیکن اب جبکہ اسکا منحوس سایہ آپکے اور اس شہر باسیوں کے شہر سے سمٹ گیا ہے تو عین ضروری بلکہ لازمی ہے کے اس گھناؤنی پشت پناہی کی پالیسی کو یکسر ترک کردیا جائے اور اس شرمناک سودے کو اس میّت فروش کے اور نسل پرست حکوت سندھ کے منہ پہ ماردیا جائے

نئی نسل کے جو لوگ اس خونی سانحے سے واقف نہ ہیں انہیں بناتے اور پرانی و درمیانی نسل کی یادوں کو تازہ کرنے کے لیئے اس واقعے کی بابت سرسری سا تذکرہ کیے دے رہا ہوں کے یہ خونی سانحہ دراصل حیدرآباد سندھ کی شہری آبادی کے ان افراد کا ریاستی جبر سے کیا گیا بھیانک قتل عام تھا جو کے جو اٹھائیس برس قبل 27 مئی 1990 کوکیا گیا تھا اور اس انسانی قتل عام کا دوسرا نام پکا قلعہ آپریشن ہے اور جس میں وہاں کے رہائشی اردو بولنے والے عورتوں بچوں اور بزرگوں ‌کے ایک جلوس پہ نسل پرست ایگل اسکواڈ پولیس کے وحشیوں نے فائرنگ کرکے 100 کے لگ بھگ بے گناہ افراد کو گولیوں سے بھون دیا گیا تھا ۔۔۔ خاک و خون میں تڑپا کے مار دیئے گئے یہ بے گناہ افراد وہ تھے کہ جو کئی روز سے اپنی بستی کو محاصرے میں لے کر بھوکا پیاسا مارنے پہ احتجاج کرنے لیئے جلوس کی صورت سڑک پہ نکل آئے تھے ۔۔۔ اس درندگی و بربریت پہ مبنی سانحے کی تفصیلات اس وقت کے سبھی قومی اخبارات میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔۔۔ لیکن مزید افسوس اور شرم کی بات یہ ہے کہ اس بھیانک قتل عام پہ ہمارے ملک کی سیاسی اشرافیہ اور نوکر شاہی نے اپنے لبوں کو سی لیا اور کسی جانب سے ان خاک نشینون ان مظلوم شہیدوں پہ ڈھائے گئے ظلم کی تحقیق و تفتیش کے لیئے کوئی سعی تو کیا کوئی مطالبہ تک دیکھنے اور سننے میں نہیں آیا ۔۔

میں پوچھتا ہوں کہ آخر اس قتل عام کی تحقیقات کے لیئے نواز شریف اور عمران خان کے منہ سے ابتک ایک لفظ بھی کیوں نہیں نکلا ۔۔۔ تقوے اور پارسائی کی علامت قرار دیئے جانے والی جماعت اسلامی کی قیادت کو اٹھائیس برس میں بھی یہ مطالبہ کرنے کی توفیق کبھی کیوں نہیں ہوسکی اور رہی بات اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمان کی تو ان سے یہ شکوہ ہی عبث ہے کیونکہ انکے منہ کو تو ہمیشہ ہی مفادات کا لقویٰ مارے رکھتا ہے ۔۔۔ اسی لیئے آج جب میں 4 برس قبل ماڈل ٹاؤن میں قتل کیئے گئے 14 مظلومین کے حوالے سے یہ دیکھتا ہوں کہ انکے لیئے عدالت نے تحقیقاتی کمیشن بھی بنا دیا اور اب ذمیہ داروں کے تعین کے بعد مقدمے کا رخ اسکے مرتکبین ااور منصوبہ سازوں کو سزا دینے کے قریب تر آن پہنچا ہے تو میں یہ سوچنے پہ مجبور ہوجاتا ہوں کے کیا پکا قلعہ کے یہ سو کے لگ بھگ شہداء کیا انسان نہیں تھے پھر آخر انکے لیئے قانون ور انصاف کے تقاضے کیوں نہیں نبھائے گئے اور اگر ایسا ہوجاتا تو یقینناً اسکے نتیجے میں بنیظیر اور انکے ساتھ برسراقتدار انکے سیاسی گروہ کا صفایا ہوجانا تھا ۔۔۔

لیکن قدرت کا قانون مکافات اٹل ہے اور اسی سبب قدرت نے انہیں بھی اسی طرح اپنے ہی خون میں نہلادیا اور انکی سیاسی طاقت اورحامیوں کی فوج ظفر موج بھی انکو نہ بچاسکی ۔۔ بس افسوس کی بات یہ ہے کہ بینظیر جو ان مظلوم شہداء کی قاتلہ تھی اسے شہید قرار دیا جاتا ہے اور ملک و قوم کے لیئے اسکے کسی مثبت کارنامے کے نہ ہونے کے باوجود بلکہ ملک کو بجلی اور مہنگائی کے بحرانوں سے دوچار کرنے اور ملک کو اپنے شوہر کے ہاتھوں کنگال کروڈالنے کے باوجود اسے قوم کی محسنہ باور کرانے کے لیئے ہر طرف سے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جاتا ہے اور آئے روز بڑی بڑی قومی تعمیرات اسکے نام سے منسوب کی جارہی ہیں اور یوں کہا جانا چاہیئے کہ جیسا الٹا کام دنیا میں کہیں اور نہیں ہوتا ویسا ہم بڑے فخر اور شان سے کرکے دکھاتے ہیں اور انصاف اور تمدن کے قرینوں کا خوب خوب تمسخر اڑاتے ہیں ۔۔۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ اس بدقسمت قوم کی ٹیڑھی تاریخ کا کبھ نکالا جائے اور مہان کو مہان اور شیطان کو شیطان کہا جائے اور جس طرح دنیا بھر میں بڑے بڑے جرائم کی تحقیقات کے لیئے کبھی یہ نہیں دیکھا گیا کہ ان پہ مہ و سال کی کتنی گرد پڑ چکی ہے ( جسکیمتعدد مثالیں موجود ہیں ) تو عین اسی طرح سانحہء پکا قلعہ کی فائل بھی تیار کی جائے اور خون خاک نشیناں کو رائیگاں جانے سے بچایا جائے

اس طرح اب یہ بھی ناگزیر ہے کہ ملک کی عدلیہ بھی اپنی اس پرانی سنگین غفلت کا تدارک کرے اور اس قومی سانحے کا از خود نوٹس لے اور ثابت کرے کہ اسے بلاتفریق و تخصیص اس ملک کے ہرفرد کے جان و مال کی یکساں فکر ہے اور وہ ان سب کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ذمہ داری کی حامل ہے اور جس طرح اسنے ماڈل ٹاؤن کے کیس میں پنجابی بولنے والے مقتولین کو انصاف بڑی مستعدی سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کے لیئے مستعدی دکھائی ہے اسے برابر کی تیزی سے نہ سہی لیکن اب تو ان مظلوم اردو بولنے والوں کی بھی داد رسی کرنی ہی چاہیئے،،، اسے لازم ہے کہ وہ اب بلا تاخیر اس ضمن میں حقائق کو بینقاب کرے اور اس سانحے کے ذمہ داروں کو عبرتناک سزا دینے کی بامعنی روش اختیار کرے اور لازم ہے کہ وہ لوگ جو ان مظلومین کے علاقوں سے انکے ووٹ لیتے رہے ہیں اور اسمبلی کی ممبری اور وزارتوں کے مزے لوٹتے چلے آرہے ہیں تو وہ اب ان مظلومین کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے سلسلے میں اپنا وہ کردار ادا کریں جو کے انہیں اٹھائیس برس قبل ہی ادا کرنا چاہیئے تھا اور اسکے قاتلوں کو سزا دینے کے مطالبے کو اپنے منشور میں اور اپنے جلسوں اور اپنے مطالبات کی فہرست میں اسے ترجیحی بنیاد پہ شامل کریں ۔۔۔ اس میں کیا شک ہے کے اس مد میں ان عوامی نمائندوں کی شرمناک غفلت نے ان مظلومین کی روحوں کو تڑپاکے رکھ دیا ہے اور اگر وہ اب بھی ایسا نہیں کرتے تو وہ خوب اچھی طرح سے یہ سمجھ لیں کہ مکافات عمل کا قانون اٹل ہے اور وہ کسی فرد یا گروہ تک محدود نہیں ہے ہرگز نہیں