Our Beacon Forum

عالم اسلام ……صلح نہ صحیح ج
By:Samiullah Malik, Karachi
Date: Friday, 4 May 2018, 10:28 pm

2 Files
89KB
Download All

JPG
19KB
Save
JPG
70KB
Save

عالم اسلام ……صلح نہ صحیح جنگ بندی توکرلے

AHNعالمی سطح کی جنگ بندی سے کیا مراد ہے؟عالم اسلام میں سرگرم مجاہدین اور حکمران امت مسلمہ کے وسیع تر مفاد میں اپنی بندوقیں خاموش کرلیں،کیوں؟ پاکستان، افغانستان ،شام،عراق،مصر،یمن، صومالیہ،سوڈان،لیبیااور ترکی اس جنگ میں یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا تباہ ہونے کے بالکل قریب ہیں اورخدشہ اس بات کا ہے کہ بہت جلد یہ ریاستیں ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہو جائیں گی ۔1970ء سے لیکر اب تک بلا شبہ لاکھوں مسلمان بالعموم اور نوجوان بالخصوص اس جنگ و جدال میں جاں بحق ہو چکے ہیں ۔ہر جگہ ہمارے بڑوں نے اس جنگ کو ’’جہادِ فی سبیل اللہ‘‘کا نام دیکر انسانوں کو فنا کے گھاٹ اتارنے کا راستہ کھول دیا تھا۔ میں اپنے بڑوں کی نیت پر شک نہیں کرتا ہوں اور نا ہی میں یہ سمجھتا ہوں کہ انھوں نے کسی دھوکے میں آکر ساٹھ اور ستر کے عشرے میں یہ فیصلے لیکر فتوے دئے تھے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ وقت کاتقاضا تھا مگر ہمارے بزرگ بخوبی جانتے ہیں کہ جہاد سے متعلق فتوے تو حالات و واقعات سے تبدیل ہو جاتے ہیں ۔جہادِ فلسطین اسرائیل کو وجود بخشنے سے شروع ہوا ،جہادِ افغانستان سویت یونین اور پھر امریکی جارحیت کا نتیجہ تھا ،جہادِ عراق امریکی حملے کے پس منظر میں شروع ہوا ۔پاکستان،شام،صومالیہ ،مصر،لیبیا ،سوڈان اور ترکی کے خلاف جنگوں کا پس منظر بہت مختلف ہے مگرہر جگہ مسلمان ہی کئی دہائیوں سے قتل ہو رہے ہیں ۔ہم چونکہ ایک ’’یتیم اُمت‘‘ہے اور ہمارا کوئی سرپرست نہیں ہے ۔ہمارے حکمران انتہا درجے کے گٹھیا اور کم ظرف لوگ ہیں ۔ان کا مقصدِ زندگی ’’عیاشی ‘‘سے بڑھ کر کچھ بھی نظر نہیں آتا ہے یا زیادہ سے زیادہ ذاتی کے بعد ان کی ’’نگاہِ کرم‘‘خاندان تک اٹھتی ہے لہذا مجھے ان سے کوئی امید نہیں ہے ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اگر ہر مسلمان ملک کے علماء اور دانشور اِن بدوحکمرانوں کو یہ بات سمجھا سکے کہ ہم امت کے مفاد میں مسلمانوں کے درمیان صلح چاہتے ہیں تاکہ دہائیوں سے جاری قتل و غارتگری پر روک لگائی جا سکے اور ان احمقوں کی کرسیاں بھی بدستور محفوظ رہیں گی تو پھر اس کا امکان ہے کہ شاید وہ تعاون کریں ۔
اس وقت شاید ہی کوئی مسلمان ملک ہو گا جو جنگ بندی کا محتاج اور ضرورت مند نہیں ہے مگر جس امریکہ ،روس،برطانیہ ،فرانس اور اسرائیل نے یہ جنگ عالم اسلام پر مسلط کر دی ہے وہ اس کا ہر گز حامی نہیں ہے بلکہ وہ ہر وقت اور ہر دم اس جنگ کو بھڑکانا چاہتا ہے بلکہ اس کی خواہش ہے کہ یہ منحوس جنگ سارے عالم کو اپنی لپیٹ میں لے لے اس لئے کہ ان ممالک کے ہاں اہم ترین ذریعہ آمدنی ہتھیاروں کی خریدوفروخت ہے اور ان کا بہت بڑا خریدار عالم اسلام ہے ۔پھر حد یہ کہ خریدنے کے بعدیہ ہتھیار ایک بھی ظالم ا ور جارح غیر مسلم ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوتے ہیں بلکہ مسلمان ’’جہاد‘‘کے نام پر ایک دوسرے کے خلاف ہی استعمال کرتے ہیں ۔گویا یہ ہتھیار بنانے والے ممالک ہتھیار بیچتے وقت مسائل بھی بیچتے ہیں ۔عالم اسلام میں آپسی اختلافات کو لیکر سمندر جیسی خلیج پیدا کی جا چکی ہے ۔ طالبان اوران کے اردگرد مسلمان ممالک کی مثال آپ کے سامنے ہے ۔جنگ امریکہ نے چھیڑی مگر کمال مہارت کے ساتھ اس نے طالبان کو پاکستان کے خلاف کھڑا کرنے میں کامیابی حاصل کر لی اور اب تک پاکستان کے ستر ہزار مسلمان مارے جا چکے ہیں اور اربوں ڈالر کا نقصان بھی اس ملک کو برداشت کر نا پڑ رہا ہے ۔عراق میں صدام حسین کے خلاف جھوٹ بول کر اس کی اینٹ سے اینٹ بجا نے کے بعد دس برس کے قیام میں اس نے سنیوں اور شیعوں کے بیچ ایسی نفرت پیدا کردی کہ مخلوط معاشرہ کئی مرتبہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا ،پھر داعش نے رہی سہی کسر پوری کردی ۔
داعش کو امریکی یا اسرائیلی ایجنٹ قرار دینے سے یہ مسئلہ نہ پہلے حل ہوا نا ہی مستقبل میں اس طرح کی صورتحال پیدا ہونے کی صورت میں حل ہوگا بلکہ ہمیں اس حوالے سے دو پہلوں پر غور کرنا چاہیے ایک یہ کہ آخر ہمارے ہی نوجوان ’’حربی غیرمسلموں‘‘کے ساتھ ساتھ اب ’’غیر حربی مسلمانوں‘‘کو بھی ارتداد کے نام پرکیوں قتل کرتے ہیں ؟کیا یہ ان نوجوانوں کی اپنی سوچ ہے ؟یا یہ سوچ بچپن سے لیکر جوانی تک پہنچتے پہنچتے ان میں ’’مخصوص لٹریچراور تبلیغ‘‘سے پیدا کی جا چکی ہے ۔دوم ان میں یہ احمقانہ انداز فکر کیسے پروان چڑھا کہ چند ٹوٹی پھوٹی بندوقوں کے بل بوتے پر ہی سارے عالم کفر اور طاغوت کو للکارنا اور ہر حال میں اپنا دشمن قراردینا ہی جہاد اور دین کی حقیقی خدمت ہے ۔ کیا ہر غیر مسلم ملک سے جنگ چھیڑنا ہی جہاد ہے یا اسلام میں جنگ کے لئے ایک ضابط موجود ہے ۔داعشی فکر رکھنے والے نوجوانوں کی صحت پر خارجیت کے طعنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے اس لئے کہ ان کی لغت میں غیر داعشی حضرات جب دائرہ اسلام سے ہی خارج ہیں تو آ پ کے فتوؤں سے ان کا متاثر ہونا ممکن نہیں ہے بلکہ ضرورت اس امر کی ہے پہلے اس چشمہ کی نشاندہی ہو جہاں سے یہ پیاسے اپنی پیاس بجھاتے ہیں ۔میرے خیال میں اور میرا خیال غلط بھی ہوسکتا ہے کہ عالم اسلام میں چار مکاتب فکر کے ہاں جہادی نوجوان جنم لیتے ہیں ایک سلفی دوم اخوانی سوم جماعت اسلامی اور چہارم دیوبندی ۔ان چاروں مکاتب فکر کو بڑے ٹھنڈے پیٹوں اس ’’جلتے مسئلے‘‘کا گہرا تجزیہ کرنا چاہیے ۔نہیں تو خطرہ اس بات کا ہے کہ یہ سوچ بڑھتے بڑھتے ایک روز اس سطح تک پھیلے گی جب یہ دوسروں کو کاٹ پھینکنے سے تنگ آکر اپنے ہی مکاتب فکر سے اختلاف کرتے ہو ئے اپنوں ہی کو قتل کر نا شروع کر دیں گے ۔اس میں بھی شک نہیں کہ ان چاروں مکاتب فکر میں جماعت اسلامی ابھی تک اس صورتحال سے دوچار ہو جانے سے بچی ہوئی ہے مگر یہاں ذکر کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ چونکہ جماعت اسلامی بھی دوسرے مکاتب فکر کی طرح جہاد کی قائل ہی نہیں بلکہ اس کی داعی بھی ہے اور اس کے بانی علامہ سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ نے پہلی کتاب جہاد ہی پر تحریر فرمائی ہے لہذا خارجیت یا انتہاپسندی کے جراثیم کا اس میں در آنے کا خطرہ ضرورموجود ہے ۔الغرض جہادی عناصر ان چاروں مکاتب فکر کے ہاں جنم لے سکتے ہیں یا لے چکے ہیں اس لئے کہ یہ طاغوت کا سر قوت سے کچلنے کے قائل ہیں جس کی مثال القائدہ،داعش، الجہاد،حماس،جماعۃ الاسلامیہ،شباب الاسلام ،انصار بیت المقدس ،حزب اسلامی ،طالبان،حزب المجاہدین ،جیش محمدؐ اور لشکر طیبہ کی دی جاسکتی ہے ۔
یہاں بعض احباب کو یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ شاید میرے نزدیک داعش ،القائدہ اور دیگر جہادی تنظیمیں ایک ہی چیز ہے ہرگز نہیں مجھے ان کے بیچ فرق بھی معلوم ہے اور میں اس فرق کو قائم رکھنے کا قائل بھی ہوں مگر چونکہ پہلے ہی مرحلے میں کوئی بھی جہادی تنظیم داعش کی شدت پسندانہ سوچ تک نہیں پہنچتی ہے بلکہ بے شمار عوامل ایسے ہو تے ہیں جس سے القائدہ کی کوکھ سے داعش ،طالبان کی کوکھ سے تحریک طالبان پاکستان اور حزب المجاہدین کی کوکھ سے غزوۃ الانصار ہند جیسی جماعتیں جنم لیتی ہے ۔نا مجھے اس تخلیق میں خارجی اور داخلی عوامل اور ان کی مداخلت سے انکارہے ۔ امت مسلمہ میں بے شمار مسلمان ان جہادیوں سے ہمدردی بھی رکھتے ہیں اور انہیں تعاون بھی دیتے ہیں اور اللہ کی رضا کے خاطر اس راستے میں پیش آنے والے مصائب کو برداشت کرتے ہو ئے اللہ سے ثواب کی بھی امید رکھتے ہیں ۔ایسے میں ’’اخوت دینی‘‘کا تقاضا یہ ہے کہ تمام دینی جماعتیں ،علماءِ اسلام اور مسلمان دانشورحضرات ان’’ فکری بیمار مسلمان نوجوانوں ‘‘کے ساتھ وہی برتاؤ کرے جو ایک ڈاکٹر بیمار کے ساتھ کرتا ہے جس میں نفرت کا شائبہ تک نظر نہیں آتا ہے بلکہ ڈاکٹر قریب المرگ بیمار کو بھی آخری سانس تک نظر انداز نہیں کرتا ہے جیسا کہ خود ’’حکیم اعظم محمد عربیﷺ‘‘بیمار یہودی لڑکے کی مرتے ہو ئے عیادت فرمائی اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جو اس نے قبول فرمائی اور کلمہ پڑھا جس سے آپؐ کا چہرہ انور ٹمٹا اٹھا ۔آخر وقت تک آپ حضرت ابوطالب کی خدمت میں فرماتے رہے چچاجان کلمہ پڑھ لو چاہیے بس میرے کان ہی سن لیں ۔اور تواور آپ تو ابوجہل جیسے دشمن دین کے لئے بھی ہمیشہ دعا گو رہے جس سے ہمیں انسانوں سے محبت کرنے کا سبق ملا اور مسلمانوں اور اہل قبلہ کو بھائی ماننے کا درس ملا۔
ہماری حالت انتہائی نازک اور قابل رحم ہے ہم ہر مسلمان ملک میں آپس میں دست و گریبان ہیں۔ ایران اور سعودی عربیہ کے اختلافات اس حد پر پہنچ چکے ہیں کہ اب شاید علاج کی کوئی صورت ممکن نہیں سوائے اس کے کہ امریکہ اور روس کے بجائے اپنی عوام کے مفادات کو ترجیح دیدیں ۔سچائی یہی ہے کہ اسی کینسر نے امت مسلمہ کو موت کے کنارے پر کھڑا کردیا ہے ۔ایران اور سعودی عربیہ دونوں مذہبی اثر رسوخ رکھنے والی ریاستیں ضرور ہیں مگربدقسمتی سے ان میں مشترک قدریں تقریباََ ناپید ہیں ۔ان کی مذہبی تشریحات سے متاثر نوجوان اب میدان جنگ میں ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں ۔ایران اور سعودی عرب نے بدقسمتی سے اپنی جنگیں دوسرے ممالک میں منتقل کر دی ہیں ۔ Mirror
روس اور امریکہ اس کو اپنے مفادات کے آئینے میں دیکھتا ہے رہا عالم اسلام پاکستان اور ترکی کے علاوہ کوئی بااثر ملک موجود نہیں ہے اور سعودی عربیہ اور ایران پر ان کی اپیلیں غیر مؤثر ثابت ہو رہی ہیں ۔دونوں ممالک چاہتے یہ ہیں کہ میرا مخالف میرے سامنے ٹوٹ کر اتنا تباہ ہو جائے کہ معافی مانگ کر ببانگ دہل اپنی شکست کااعتراف کرے اس کے لئے اگر کفار سے بھی مدد لینی پڑے تو یہ لوگ اسے بھی گریز نہیں کریں گے ۔حقیقت یہ ہے کہ اگر کل کو سعودی عربیہ اور ایران آپس میں صلح کرلیں تو عالم اسلام کا بہت بڑا حصہ جنگوں اور تباہی سے خلاصی حاصل کر لے گا شام،عراق اور یمن کے مسلمان کم سے کم سکون کی نیند سو سکیں گے جو انہیں اب سالوں سے میسر نہیں ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ ان ممالک کو ایک میز پر کون بٹھائے گا جبکہ امریکہ اعلاناََ ایسا کرنے کے حق میں نہیں ہے مگر سوال یہ ہے کہ مسلمان کو یہ سب کون سمجھائے گا۔
ہماری کمزور حالت بھی یہی تقاضا کرتی ہے کہ ہم امریکہ یا روس سے امن کی بھیک مانگنے کے بجائے آپس میں صلح نا صحیح جنگ بندی تو کر لیں ۔اس پر متفق ہونے میں بھی امریکہ روکاوٹ ضرور ڈالے گا جیسا کہ اس نے پاکستان میں کیا اور افغانستان میں اس کا یہ کھیل جاری ہے جبکہ شام اور یمن میں اس کا بھیانک چہرہ سامنے آچکا ہے ۔ہم کیوں شیطان سے نیکی اور صلح کی امید رکھیں جبکہ اس کا کام ہی جنگ بھڑکا کر قتل غارت گری کرانا ہے ۔جہادی تنظیموں کا مسلمان حکمرانون سے صلح علماءِ کرام کے ہاتھوں ممکن ہے انہیں چاہیے کہ اپنا رول ادا کریں جہاں وہ مقامی سطح پر ہی اپنا رول نبھا سکتے ہیں وہاں وہ یہ نیک کام بلا تاخیر شروع کردیں اور جہاں بین الاقوامی سطح کے بڑے علماء بڑے پیمانے پر نبھا سکتے ہیں وہ وہاں ادا کریں اس لئے کہ جہادی طبقات اور تنظیموں میں اب بھی علماء کی قدر و منزلت باقی ہے ۔بہتر ہے کہ علماء فتوی بازی کے بجائے ہمدردی کے ساتھ ان گروپوں کو یہ بات سمجھادیں کہ عالم اسلام آپسی جنگوں اور لڑائیوں سے فنا ہو چکا ہے ۔ہماری نسلیں تباہ ہو چکی ہیں۔وسائل ختم ہو رہے ہیں۔ ملکوں کے ملک شام وعراق کی طرح ویران ہونے کو ہیں ۔باقی کچھ بچا نہیں ہے ۔علماءِ کرام انہیں یہ ذہن نشین کریں کہ آ پ جیسے جانباز جو سب کچھ ملت کے لئے لٹانے اور مٹانے پر آمادہ ہیں ہمارے لئے قیمتی سرمایہ ہو اُمت کو اس وقت آپ کی شہادت نہیں زندگی کی ضرورت ہے ۔شہادت سے آپ کی ذات کو فائدہ ضرور ہوگا اُمت مسلمہ کو نہیں۔ برما ،کشمیراور فلسطین کے مظلومین کو نہیں ۔مجھے یقین ہے کہ عالمی کفر و طاغوت نے ستر اور اسی کے عشرے میں پیدا ہو رہی جہادی قوتوں کو جب اسرائیل ،روس اور امریکہ سے جگہ جگہ نبردآزمائی کرتے ہوئے قریب سے دیکھا تو انہیں اچھی طرح اندازہ ہوا کہ ان سرفروشوں کی سرکوبی ممکن نہیں تو انھوں نے مل کر انہیں ایک دوسرے سے لڑا کر فنا کرنے کی ایسی کامیاب پلاننگ کی کہ سارے عالم اسلام کے سیکولر بھی اس کے ساتھ ان نوجوانوں ختم کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ عراق، شام اوریمن کے علاوہ بھی دوسرے بے شمار محاذوں پر عالمی کفروطاغوت نے ختم کردیا مگر افسوس جس امت کی یہ فوج تھی اس کے علماء اور دانشور اس کو انہی میدانوں کی طرف جاتے ہو ئے شعوری یا غیر شعوری طور پر حوصلہ افزائی کرتے رہے ۔اور ہماری حالت یہ ہے کہ ہم قصہ کہانیوں ،خوابوں اور بشارتوں کے بل بوتے پر اس کو جینے کا سبق دیتے ہیں ۔