Our Beacon Forum

حرمین شریفین کی وجہ سے
By:Sami Malik, Ireland
Date: Tuesday, 24 April 2018, 8:07 pm

http://bittertruth.uk/springs-of-love-and-brotherhood/

http://www.alsharq.com.pk/paper/2206#start

محبت واخوت کے زمزمے

Tadabbar Logoحرمین شریفین کی وجہ سے سعودی عرب عالم اسلام کاروحانی مرکزکی حیثیت رکھتاہے اوریہی وجہ ہے کہ دنیامیں ہرجگہ بسنے والے مسلمانوں کی حرمین شریفین سے ایک ایسی جذباتی وابستگی ہے کہ ان مقامات مقدسہ کی حفاظت کیلئے اپناتن من دھن قربان کرنااپنے لئے ایک اعزازسمجھتاہے۔ ادھر ایران میں جب سے شہنشاہ ایران کی حکومت ختم ہونے کے بعدآیت اللہ خمینی کی قیادت میں ایک انقلاب برپاہواہے اس دن سے لیکر آج تک امام خمینی کے ماننے والوں کے پاس ہی ملک کااقتدارہے جوشروع دن سے مشرقِ وسطیٰ اوراپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ان کے تعلقات قطعاًمثالی نہیں کہے جاسکتے جس کااسلام تقاضہ کرتاہے بلکہ اب تومعاملہ خطے میں ایک دوسرے کوختم کرنے اوراپنی بالادستی قائم کرنے کیلئے ایک خطرناک موڑپرآن پہنچاہے جہاں مسلم امہ کی ان نادانیوں پر استعماری قوتوں کی چالیں خوب کامیاب ہیں ۔

یمن میں جاری جنگ کے سلسلے میں سعودی عرب اورخلیجی ریاستوں کی طرف سے پاکستان پرشدیددباؤ تھاکہ اس جنگ میں پاکستان براہِ راست عسکری امدادکا اعلان کرے لیکن پاکستان نے یہ معاملہ پارلیمان پرچھوڑدیاجہاں اپوزیشن کی سخت مزاحمت کے بعدپاکستان نے اپنی مجبوری کا ذکرکرتے ہوئے سعودی عرب کی حفاظت کواپناایمان کاحصہ قراردیا لیکن یمن کی جنگ میں حصہ لینے کی بجائے مسلم خون کی اس ارزانی کوبندکرانے کی کوششیں شروع کردیں جواب تک کامیاب تونہیں ہوسکیں مگرایرانی قیادت نے بہرحال پاکستانی کاوشوں کو سراہاضرورہے۔پاکستان پچھلی تین دہائیوں سے زائد خلیجی ممالک کوعسکری تربیت دینے کیلئے اپنے ماہرین کوبھیجتارہتاہے اوراسی پالیسی کے تسلسل میں پاکستان نے جونہی سعودی عرب میں اپنے فوجی ماہرین بھجوائے توایران لپک کردوبارہ دنیاکے واحدبت پرست شیطانی مرکزبھارت سے بغل گیرہوگیااوراس طرح بدقسمتی سے ایران مسالک کے تعصب میں اندھاہوکرشرک کے اندھیرے میں یوں چلاگیاکہ دنیائے اسلام نے محسوس کیایہ بت کدہ بھارت کااسیرہوگیااور مسلک کابت اس کادیوتابن گیا اوریہ عالم اسلام کاسانحہ ایرانی صدرروحانی کے ۱۷فروری کے مجوزہ دورۂ بھارت کے دوران پیش آیاجب ایران اوربھارت کے درمیان۱۵معاہدوں پر دستخط ہوئے جس میں سب سے اہم معاہدہ ایرانی بندرگاہ چاہ بہارکے پہلے فیزکے آپریشنل کنٹرو ل کو ۱۸ماہ کی لیزپر بھارت کے حوالے کر دیاگیاجوبھارت کی۵۰کروڑڈالرکی مددسے تیارہوئی اورپاکستانی بندرگاہ گوادر سے۹۰میل کے فاصلے پرہے۔

بھارتی وزیراعظم مودی کے مطابق بھارت چابہارکوریلوے لائن کے ذریعے زاہدان سے ملانے میں مددکرے گا۔ یاد رہے کہ بھارت ایران اور افغانستان نے ۲۰۱۶ء میں سی پیک کے مقابل ایک راہداری قائم کرنے کافیصلہ کیاتھا۔اس منصوبے کے تحت چابندرگاہ کے علاوہ دونوں ممالک نے چابہارکوریل کے ذریعے وسط ایشیائی ممالک اوریورپ تک رسائی کاعندیہ دیالیکن چین اور پاکستان نے توباقاعدہ طورپران ممالک کوسی پیک میں شمولیت کی دعوت دی لیکن بھارت کاان دنوں امریکاسے جوغیرمعمولی رومانس بڑھ چکاہے وہ اپنے محبوب امریکاکی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اس خطے میں تھانیداربننے کاخواہاں ہے جس کیلئے مکاروعیاربھارت چابہارکی آڑمیں افغانستان میں اپنا اثر ورسوخ بڑھاکرپاکستان کودو اطراف سے گھیرنا چاہتاہے مگر اب ایران کاتعاون بھی اسے حاصل ہوگالیکن اس کے باوجومیں ایرانی وزیرخارجہ کا بھاری بھرکم وفدکے ساتھ دورۂ پاکستان کے دوران پاکستانی ٹی وی چینل پراپنے انٹرویومیں پاک ایران سرحدپرایک بہت بڑی دہشتگردکاروائی میں پاکستان کے مثبت کردارکا اعتراف اس بات کا شاہدہے کہ پاکستان ایرانی سلامتی کیلئے اب بھی ایک انتہائی اہم رول اداکررہاہے ۔

لیکن دوسری طرف ایران کی جانب سے خطے کے مناقشوں میں عسکری نوعیت کا کردار ادا کرنا اور متحارب گروپوں میں سے کسی کی حمایت کرنا تو دنیا کو دکھائی دے جاتاہے مگروہ’’نرم‘‘قوت کے ذریعے اپنے نظریاتی اورسیاسی اہداف کے حصول کی جو کوشش کرتاہے وہ کم ہی لوگوں کو دکھائی دیتی ہے۔ شام اورعراق کے متعدد شہروں میں اسلامک آزادیونیورسٹیز کا قیام اورلبنان میں اس کی مرکزی برانچ کاقیام خطے میں اپنے اثرات کادائرہ وسیع کرنے کی ایک اہم ایرانی کوشش ہے۔ایران کے تعلیمی،ثقافتی اورخیراتی ادارے خطے میں ایرانی عسکری حکمت عملی کو آگے بڑھانے میں مرکزی کردارادا کرتے ہیں۔ یہ ادارے کبھی کبھی،ضرورت پڑنے پر،ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے ایجنٹس کوکور فراہم کرنے کا کام بھی کرتے ہیں اور یوں خطے کی سلامتی کو داؤ پر لگانے والی تخریبی سرگرمیوں میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

ایران کے سابق وزیرخارجہ اورملک کے سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کے مشیر برائے خارجہ پالیسی امورعلی اکبرولایتی نے بتایاہے کہ شام کے صدربشارالاسد نے متعددشہروں میں اسلامک آزادیونیورسٹی کی شاخیں قائم کرنے پررضامندی ظاہرکردی ہے۔ ایک انٹرویو میں علی اکبرولایتی نے بتایاکہ میں نے ایک شامی شہرمیں یونیورسٹی کی برانچ کھولنے کے سلسلے میں بات کی تھی مگربشار الاسد نے تمام شامی شہروں میں شاخیں کھولنے پر آمادگی ظاہر کردی۔ علی اکبر ولایتی آزاداسلامک یونیورسٹی کی فاؤنڈنگ کونسل اوربورڈ آف ٹرسٹیز کے سربراہ ہیں۔

علی اکبرولایتی کہتے ہیں کہ عراق کے متعددشہروں میں اسلامک آزاد یونیورسٹی کی شاخیں کھولنے کے حوالے سے بھی بات ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عراقی پارلیمان کے فرسٹ ڈپٹی اسپیکرحُمام حمودی سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ عراق کی اسلامک سپریم کونسل کے سربراہ نے عراقی شہروں میں اسلامک آزاد یونیورسٹی کی شاخیں قائم کرنے کے حوالے سے گرین سگنل دے دیا ہے۔ حُمام حمودی کے پیش رَو عمّار حکیم کے ساتھ ایک سمجھوتے پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے تحت اسلامک آزاد یونیورسٹی کی شاخیں کربلا، نجف، بصرہ، بغداد اور اربل میں قائم کی جائیں گی۔

اسلامک آزاد یونیورسٹی کی ایک برانچ لبنان میں کھولی جاچکی ہے۔ علی اکبر ولایتی کہتے ہیں کہ لبنان میں یونیورسٹی کے نیٹ ورک کو وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے اس حوالے سے لبنان کی ایران نواز ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ سے بات کی ہے۔ حسن نصراللہ نے لبنان کی وزارت تعلیم سے اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے اجازت نامہ حاصل کیا ہے۔ اسلامک آزاد یونیورسٹی کی شاخیں افغانستان اور متحدہ عرب امارات میں بھی ہیں۔

اسلامک آزاد یونیورسٹی کے نیٹ ورک کی بیرون ملک توسیع کا بنیادی مقصد ایران کے سوفٹ امیج کو عام کرنا ہے اور ساتھ ہی ساتھ نظریاتی، سفارتی اور سیاسی اہداف کے حصول کو زیادہ سے زیادہ آسان بنانا ہے۔ علی اکبر ولایتی کہتے ہیں کہ اسلامک آزاد یونیورسٹی کے نیٹ ورک میں توسیع سے چین، بھارت اور عرب دنیا میں اسلام کی ترویج اور بالخصوص شیعیت کی تبلیغ و ترویج کے حوالے سے خاصی مدد مل رہی ہے۔ایرانی قیادت نے خطے میں اپنے اثرات کا دائرہ وسیع تر کرنے کیلئے اب تعلیمی، ثقافتی اور فلاحی اداروں سے کام لینا شروع کردیا ہے۔ پرجوش نوجوانوں کو بھرتی کرکے انہیں ان تنظیموں اور اداروں کے ذریعے خطے کے مختلف ممالک میں تعینات کیا جاتا ہے۔ یہ نوجوان علاقائی سطح پر ایران کا اثر و رسوخ بڑھانے کے حوالے سے طے کردہ اہداف کے حصول کیلئے اَنتھک محنت کرتے ہیں۔

علی اکبر ولایتی نے عرب دنیا میں اسلامک آزاد یونیورسٹی کی شاخیں قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے گزشتہ جولائی میں ایک تقریر میں کہا تھا کہ شام، لبنان، عراق اور دیگر عرب ممالک میں اسلامک آزاد یونیورسٹی کی شاخیں قائم کرنے سے ان ممالک کے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو تعلیم دینا ممکن ہوگا اور یہی نوجوان مزاحمتی تحریک میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ ایران کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ خطے میں جہاں جہاں اس کے زیر اثر عسکری و غیر عسکری تنظیمیں کام کر رہی ہیں وہاں افرادی قوت مقامی نوجوانوں کی شکل میں میسر ہو۔ ایرانی جامعات سے تعلیم پانے والے لازمی طور پر ایرانی نظریات سے متاثر ہوں گے اور اس کیلئے اپنے دلوں میں نرم گوشہ بھی رکھتے ہوں گے۔ علی اکبر ولایتی نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اسلامک آزاد یونیورسٹی کی نظریاتی، ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں میں پاس دارانِ انقلاب کی شاخ باسج آرگنائزیشن کی موزوں اور بر وقت نمائندگی ہونی چاہیے۔ تہران میں سابق امریکی سفارت خانے میں باسج آرگنائزیشن کے افسران اور طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے علی اکبر ولایتی نے اسلامک آزاد یونیورسٹی میں اسلامی ثقافت کے احیا پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامک آزاد یونیورسٹی باسج آرگنائزیشن کیلئے ہیڈ کوارٹر کا کام کرے گی کیونکہ ثقافتی و نظریاتی اعتبار سے باسج آرگنائزیشن ہی موزوں ترین پلیٹ فارم ہے۔

اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ پاسداران انقلاب اور قدس فورس کے خفیہ ایجنٹس ایران کی تعلیمی، ثقافتی اور فلاحی تنظیموں اور اداروں کو سویلین کور کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ پھر چاہے ان کی سرگرمیوں سے خطے کی سلامتی ہی داؤ پر لگ جائے۔ لبنان میں ایران کا ثقافتی مرکز حزب اللہ ملیشیا سے مل کر کام کرتا ہے تاکہ ایران میں حزب اللہ کیلئے زیادہ سے زیادہ فنڈ جمع کیے جاسکیں۔ دی امام خمینی ریلیف کمیٹی فلاحی تنظیم ہے مگر یہ پاسداران انقلاب سے مل کر کام کرتی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ وسطی و جنوبی ایشیا سے مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے تک ایران کے نظریاتRuhaniی، سفارتی اور سیاسی مفادات کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جائے۔

۱۹۷۹ء کے انقلاب کے بعدسے ایران نے خطے کے متعدد ممالک میں ثقافتی مرکز کھولے ہیں،جن کامقصد بظاہرسوفٹ امیج کوفروغ دیناہے مگرحقیقت یہ ہے کہ نرم قوت کے ساتھ ساتھ یہ مراکزایران کی سخت قوت کوبھی تقویت بہم پہنچانے میں کلیدی کرداراداکررہے ہیں۔ ۱۹۸۷ء میں ایران نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اپنا ثقافتی مرکز قائم کیا۔ اس کا ایک بنیادی مقصد حزب اللہ ملیشیا کو زیادہ سے زیادہ مقبولیت سے ہمکنار کرنا اور اس سے کہیں بڑھ کر ایران کو لبنان اورخطے کے دیگرشیعہ عوام کیلئے شیعیت کے’’ویٹیکن‘‘کے طورپرپیش کرناتھا۔بیروت میں قائم ایرانی ثقافتی مرکزشیعہ اکثریت والے علاقوں میں اسکولوں،جامعات اور مذہبی مدارس کے ایک پورے سلسلے کا مہتمم و نگران ہے۔ یہ ثقافتی مرکز ایران کے سرکاری میڈیا کے اشتراک سے ایرانی نظریات کی تبلیغ بھی ممکن بناتا ہے۔

علی اکبر ولایتی نے ایک عشرے سے بھی زائد مدت تک وزیر خارجہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ایران کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے ان کی خدمات غیر معمولی رہی ہیں۔ وہ ایران کی انقلابی کونسل کے ساتھ ساتھ ایرانی انقلاب کی سپریم کونسل کے بھی رکن ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ سینٹر فار اسٹریٹجک ریسرچ کے سربراہ بھی ہیں۔ یہ دونوں ادارے ایران کا نظریاتی ایجنڈا برآمد کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ علی اکبر ولایتی مزید بیس ریاستی اداروں میں مختلف حیثیتوں سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایران کے سابق سپریم لیڈر خمینی نے ۱۹۸۲ء میں اسلامک آزاد یونیورسٹی کا افتتاح کیا تھا۔ ایران میں اور ایران سے باہر اس کی ۳۰۰ سے زیادہ شاخیں ہیں۔ اس سے مستفید ہونے والے طلبہ و طالبات کی مجموعی تعداد دس لاکھ سے زائد ہے۔ لبنان میں اس یونیورسٹی کی شاخیں بیروت اور النباطیہ میں ہیں۔ افغانستان میں اس کی برانچ مغربی کابل میں ہے، جہاں شیعہ ہزارہ کمیونٹی کی اکثریت ہے۔ کابل میں اسلامک آزاد یونیورسٹی کی شاخ ایرانی امداد سے چلنے والی خاتم النبیین یونیورسٹی کے نزدیک واقع ہے۔ خاتم النبیین یونیورسٹی افغانستان کے شیعہ لیڈر آصف محسنی نے قائم کی ہے اور وہی چلا رہے ہیں تاہم اس کے چلانے والوں کی تربیت ایران میں ہوتی ہے اور اس کا کتب خانہ ایران کی فراہم کردہ کتب سے بھرا ہوا ہے۔ افغانستان کی طرح عراق اور شام بھی جنگ سے تباہ ہوچکے ہیں۔ ایسے میں ایران کیلئے وہاں جامعات کا جال بچھانا آسان ہے۔ افغانستان میں وہ اپنا کام کرچکا ہے۔ اب عراق اور شام پر توجہ دی جارہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران کی وزارت خفیہ امور اور سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل نے ماضی میں عراق کے باشندوں کو ایرانی حدود میں اسلامک آزاد یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا تھا۔اس لئے وہ قوتیں جو سخت قوت کے معاملے میں تو ایران کے اقدامات پر نظر رکھتے ہیں اور انہیں کنٹرول کرنے کی سعی بھی کرتے ہیں، مگر جب تک نرم قوت میں اضافے سے متعلق انتہائی مہارت سے چلائی جانے والی ایرانی پالیسی کو نہیں سمجھیں گے اور متعلقہ اقدامات کا مقابلہ نہیں کریں گے تب تک ایران کی سخت قوت میں اضافے کے عمل کو روکنا بھی ممکن نہ ہوگا۔ اب ضرورت اس امرکی ہے کہ تعلیمی میدان میں ایسے انقلابی اداروں کاقیام وجودمیں لایاجائے جو امت مسلمہ کی نئی نسل کومسلکی نفرتوں سے پاک اورحائل خلیج کوختم کرکے محبت واخوت کے زمزموں سے سیراب اور دشمنوں کی سازشوں اورذلت ورسوائی کے عمیق گڑھوں سے محفوظ کردے۔