Our Beacon Forum

زینب کیس موجودہ فقہی سوچ کے
By:Abdal Hameed, Karachi
Date: Friday, 16 February 2018, 4:01 pm

زینب کیس موجودہ فقہی سوچ کے مطابق کیسے طے ہوتا

قصور کے زینب کیس کو موجودہ فقہ کی نظر سے دیکھیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اجتہاد کے تحت ضروری ترمیمیں کیئے بغیر ہزار سال پرانے نظام فقہ کو آج نافذ کر دیں تو کسی صاحب علم کے اس مضمون میں بیان کی گئی صورت حال پیدا ہو جائے گی۔

ہم تصور کر لیتے ہیں کہ قصور کی زینب زندہ ہے۔ وہ کوڑہ دان کے پاس بے ہوش پڑی ملی۔اسے بروقت ہسپتال پہنچا دیا گیا اور یوں اس کی جان بچ گئی۔ چند ہفتوں بعد جب وہ چلنے کے قابل ہوئی تو عدالت نے اسے طلب کرلیا گیا۔ اس سے اس دعوی کے متعلق پوچھا گیا جو اس کی بے ہوشی کے دوران کیا گیا تھا۔ زیر نظر کاروائی شرعی عدالت کی ہے جو فقہ اسلامی کی روشنی میں انصاف فراہم کرتی ہے۔

قاضی : تمھارے والد نے رپورٹ لکھوائی ہے کہ تمھارے ساتھ زنا کیا گیا۔

زینب:جی، میری زبردستی عصمت دری کی گئی۔

قاضی: کیا عمر ہے تمھاری؟

زینب: سات سال

قاضی: وکیل صاحب، آپ کو معلوم ہے بچہ کا دعوی شریعت اسلامی میں معتبر نہیں کیوں کہ وہ عاقل و بالغ نہیں۔ کیا آپ اس کے اس دعوی کا کوئی ثبوت پیش کرسکتے ہیں. (التشریح الجنائی 397:2)

وکیل: ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ یہ ہے۔اس پر دو "عاقل ،بالغ، مرد ڈاکٹروں" نے سائن کر کے لکھا ہے کہ بچی کی عصمت دری ہوئی ہے۔

قاضی: کس شخص نے زنا کیا؟

پولیس: ہم نے cctv کی مدد سے اس درندہ کو گرفتار کر لیا ہے۔اور اس نے اقرار جرم بھی کر لیا ہے۔

قاضی: مجرم پیش ہو اور عدالت کے سامنے بتائے کہ زنا کا اقرار کرتا ہے۔

مجرم: نہیں، میں اقرار نہیں کرتا.

پولیس افسر: کیمرہ سے اس کے کپڑوں ،بالوں، سب کی شناخت ہوگئی ہے۔ دیکھیں، ویڈیو میں نظر آرہا ہے کہ مجرم ہاتھ پکڑ کر لے جا رہا ہے۔

قاضی:حدود کے کیس میں گواہی کا معیار متعین ہے۔ وکیل صاحب، لگتا ہے آپ شریعت اسلامی اور فقہ سے واقف نہیں ہیں۔ زنا کے معاملہ میں ضروری ہے کہ عینی گواہوں کی تعداد چار ہو۔ یاد رہے گواہ مسلمان ہونا چاہیے۔ کسی غیر مسلم اور مشرک کی گواہی معتبر نہیں۔ (المغنی جلد 10/177،176)

وکیل: آپ جو فرما رہے ہیں ایسا ہی ہوگا، لیکن یہ زنا رضامندی کے ساتھ نہیں ہوا۔ یہ تو زنا بالجبر ہے ۔یعنی زبردستی زنا کیا گیا ہے اور اس بچی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس معصوم بچی کے ساتھ۔

قاضی:فقہ اسلامی کی روشنی میں زنا بالجبر، زنا کے علاوہ کوئی الگ جرم نہیں ہے۔ زنا زنا ہی ہوتا ہے، چاہے جبرا ہو یا رضامندی سے، جوان سے ہو یا عجوزہ [بڑھیا] سے۔ البتہ اگر آپ یہ ثابت کر دیں کہ زینب بی بی مالکی فقہ کی پیرو ہیں اور چار مسلمان عاقل بالغ مردوں نے اس شخص کو زبردستی زینب کو اپنا گھر میں لے جاتے دیکھا ہے تو "جنسی استمتاع کے عوض" مہر کی رقم کے برابر معاوضہ مجرم سے دلوایا جا سکتا ہے۔ حد پھر بھی جاری نہ ہوگی، کیونکہ مردوں کی گواہی زینب کو لے جانے کی ہے، زنا ہوتے ہوئے انھوں نے نہیں دیکھا۔ (المدونۃ 322/5)۔

وکیل: کیا آپ نے ٹی وی دیکھا ہے؟ اس معصوم پھول جیسی بچی سے ہمدردی میں پورا ملک سڑکوں پر نکل آیا ہے۔ لوگ انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہمیں آپ سے انصاف کی توقع ہے۔

قاضی: اگر زینب حنفی ہے تو مجرم کے انکار کے بعد چار گواہوں نے اگر اسے اٹھا کر لے جاتے ہوئے بھی دیکھا ہو تو "جنسی استمتاع کے عوض" حق مہر جتنا معاوضہ ملنا نا ممکن ہے۔ اس صورت میں حد بھی جاری نہیں ہو سکتی (سرخسی، المبسوط، 61/9)

حد جاری ہونے کے لیے ضروری ہے کہ چار گواہ اس بات کی گواہی دیں کہ انھوں نے مجرم کو زینب کے ساتھ زنا کرتے ہوئے پورے یقین سے دیکھا ہے اور وہ ہوش و حواس، قطعیت اور پورے اذعان سے اس کی گواہی دیتے ہیں۔ ان چار میں سے اگر دو یہ بھی کہہ دیں کہ زنا جبرا ہوا ہے، تو زینب سزا سے بچ جائے گئی اور مجرم پر حد نافذ ہوسکے گی۔ المغنی(185/10)

وکیل:زینب کو سزا سے کیا مطلب؟ زینب تو بے چاری وہ بچی ہے جس کے ساتھ زنا ہوا ہے، وہ بھی جبراً۔

قاضی: زینب اگر یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی تو اسے قذف [جھوٹ بولنے] کی سزا ہو سکتی ہے۔ ہم آپ کو رعایت دے کر یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ اگر چار گواہ لے آئیں اور ان میں سے دو بھی یہ کہہ دیں کہ زنا جبرا کیا گیا تھا تو زینب سزا سے بچ جائے گی اور مجرم کو سزا مل جائے گی۔ لیکن زینب کو قذف کی سزا سے بچانے کےلیے بھی دو لوگوں کو جبرا زنا کی گواہی دینا ہوگی۔ لہذا چار گواہ ہوں گے تو مجرم کو سزا ہوگی ورنہ شریعی حد نافذ نہیں کی جا سکتی۔ (الاستذکار 146/7)

زینب کا والد: اگر ہم چار گواہ پیش کردیں تو پھر کیا عدالت اس مجرم کو سزا دے دے گی اور زینب کو انصاف مل جائے گا؟ مجرم کو عبرت ناک سزا مل سکے گی؟ کیا سزا ہوگی اسلامی قانون و فقہ کے تحت؟

قاضی: کیا مجرم شادی شدہ ہے؟

پولیس افسر: جی نہیں

قاضی: پھر سو کوڑے کی سزا دی جائے گی۔ (سورہ نور، آیت 2)

پولیس: ہم نے چار گواہ تلاش کر لیے ہیں۔

قاضی :عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

فیصلہ: "میڈیکل رپورٹ پر دو مرد مسلمان ڈاکٹروں کی تصدیق اور چار عاقل بالغ مسلمان مردوں گواہی کی عینی گواہی کے بعد فقہ اسلامی اور شریعت اسلامی کی روشنی میں زینب کے ساتھ زنا کے مجرم کو سو کوڑے مارنے کی سزا سنائی جاتی ہے، ان شرائط کے ساتھ کہ کوڑے اتنے سخت نہ ہوں کہ مجرم کو زخمی کر دیں یا جلد اکھڑ جائے بلکہ متوسط ہوں اور ان میں گرہ بھی نہ لگی ہوئی ہو۔ کوڑے مختلف اعضاء پر مارے جائیں گے کیونکہ ایک عضو پر مستقل مارنا باعث ہلاکت ہو سکتا ہے۔ کوڑوں کا مقصد محض زجر ہے۔ مجرم کی شرم گاہ اور چہرے پر بھی کوڑے نہیں ماریں جائیں گے۔ (ہدایہ کتاب الحدود فصل فی کیفیۃ الحدود و اقامۃ) ۔

مجرم کو ایک ہفتہ میں سو کوڑے کی سزا پوری ہوجانے کے بعد رہا کردیا گیا۔ زینب کی طبیعت بحال ہوگی۔ وہ تین ماہ بعد اسکول جانے کے لیے گھر سے نکلی تو اس نے دیکھا، گلی کی کونہ میں کھڑا ایک شخص اس کی طرف نظریں جما کر زیر لب مسکرا رہا تھا۔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

الله حافظ!
محمّد عبد الحمید
ٖFollow me on Twitter @Mahameed40
مصنف، "غربت کیسے مٹ سکتی ہے" (کلاسیک پبلشرز، لاہور)
www.mahameed.blogspot.com/
/www.mahameed-articles. blogspot.com
/www.mahameed-poverty. blogspot.com
/