Our Beacon Forum

ایک خوفناک سازش - Only 4 people know
By:Abdal Hameed, Karachi
Date: Saturday, 11 November 2017, 9:33 pm

محمد عبد الحمید

سابق وزیر داخلہ، چودھری نثار علی خاں، نے حال ہی میں کہا کہ ملک کے خلاف ایک خوفناک سازش ہوئی، جس سے صرف چار افراد آگاہ تھے: آرمی چیف، جنرل راحیل شریف، ڈائریکٹر جنرل، آئی۔ ایس۔ آئی، وزیر اعظم، نواز شریف، اور خود وزیر داخلہ۔ انھوں نے تفصیل نہ بتائی، حالانکہ کسی سازش کو ناکام بنانے کے لیئے موثر ترین قدم اسے افشا کرنا ہوتا ہے۔

مجموعی صورت حال دیکھی جائے تو سازش نہ صرف معاشی اور سیاسی تباہی، بلکہ ملک کے ٹکڑے کرنے کے لیئے تھی۔ پیپلز پارٹی کے ایک لیڈر کے مطابق، 2008 میں عام انتخابات کے فوراً بعد انھیں ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ 15 سالہ منصوبہ کے تحت پہلی دفعہ پ پارٹی، دوسری دفعہ ن لیگ اور تیسری دفعہ پھر پ پارٹی کو حکومت ملے گی۔ نیز، صدر پرویز مشرف کو ہٹا دیا جائے گا تاکہ منصوبہ پر عمل درامد میں رکاوٹ نہ ہو۔

دونوں پارٹیوں کی اعلا قیادت کو زبانی بتا دیا گیا لیکن کوئی تحریری معاہدہ نہ ہوا کیوں کہ ایسے معاملوں میں لکھا ہوا کچھ نہیں ہوتا۔

ملک دشمن اقدام

معاہدہ کے تحت دونوں پارٹیوں نے اپنے اپنے دور میں بہت سے قدم اٹھانے:

1) ایسی پالیسیاں اپنائی گئیں، جن سے معاشی حالات خراب سے خراب تر ہوتے گئے۔ ترقی کی رفتار گرتی گئی اور بیرونی سرمایہ کاری بھی کم ہوتے ہوتے نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔

2) زیادہ سے زیادہ اندرونی و بیرونی قرضے لیئے جاتے رہے، جس سے بوجھ بڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ قسطیں اور سود ادا کرنا بہت مشکل ہو گیا۔

3) تعلیم اور صحت پر توجہ نہ دی گئی، جس سے عوام جاہل اور بیمار ہوتے چلے گئے۔

4) موٹروے اور میٹرو جیسے نمائشی منصوبوں پر زور دیا گیا۔ ان سے بہت زیادہ کرپشن کا رستہ کھل گیا۔

5) ہندوستان کی بالادستی قبول کرنے کی لیئے کئی قدم اٹھائے گئے۔ ہندوستانی جاسوسوں کو کھلی چھٹی دی گئی۔ تجارت کو پوری طرح کھولنے کے لیئے بڑی کوشش کی گئی، جس میں ہمیں سراسر خسارہ ہو رہا ہے۔

6) کشمیر کے مسئلہ پر خاموشی اختیار کی گئی۔ بیان بازی سے زیادہ کچھ نہ کیا گیا۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی بھی حمائت نہ کی گئی، نہ ان کی کسی طرح مدد کی گئی۔

7) درامدات کی کھلی اجازت دی گئی، جبکہ برامدات کی حوصلہ شکنی کی جاتی رہی۔ اس طرح، ادائگیوں کے توازن میں خسارہ بہت بڑھ گیا۔ اسے پورا کرنے کے لیئے قرضوں پر قرضے لیئے جاتے رہے۔ پرویز مشرف کے دور میں آئی۔ ایم۔ ایف۔ کا سارا حساب چکا دیا گیا لیکن دونوں پارٹیاں ملک کو اس کے چنگل میں پھساتی چلی گئیں۔

8) بجلی کی کمی دور کرنے کے لیئے کوئی بڑا قدم نہ اٹھایا جائے۔ دوسری طرف، نجی بجلی گھروں کے زیادہ منافع کے لیئے بجلی کے ریٹ لگاتار بڑھائے گئے۔ طویل لوڈ شیڈنگ سے عوام کی زندگی اجیرن بن گئی اور صنعتی پیداوار لگاتار کم ہوتی گئی۔ مہنگی بجلی کی بنا پر برامد کاروں کے لیئے آرڈر بروقت پورے کرنا مشکل ہو گیا۔ ملک کو اندھیرہ میں دھکیل دیا گیا۔ ایک اندازہ کے مطابق لوڈ شیڈنگ اور مہنگی بجلی سے سالانہ ترقی کی رفتار دو فی صد کم ہوتی رہی۔

امریکی منصوبہ میں گڑبڑ

دس سال میں دونوں پارٹیوں کے حکمرانوں نے جو کچھ کیا، وہ امریکی ہدایات کے مطابق تھا۔ اس سے ہر سال ملکی حالات خراب سے خراب تر ہوتے گئے۔ ہر شعبہ میں اوپر سے نیچے تک کرپشن بڑھتی رہی لیکن امریکہ کی طرف سے کبھی مذمت نہ کی گئی تاکہ سیاست کاروں کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔

پھر امریکی منصوبہ میں گڑبڑ ہو گئی۔ نواز شریف نے اپنے دور کے بعد پ پارٹی کو باری دینے کی بجائے اگلے پانچ سال بھی خود ہی حکومت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اگر خود نہیں تو بیٹی مریم نواز وزیر اعظم بنے گی۔

ممکن تھا کہ امریکہ نواز شریف کو من مانی کرنے دیتا کیونکہ اس کی ہدایات پر عمل ہو رہا تھا۔ پ پارٹی نے بھی تو یہی کرنا تھا۔ لیکن پھر دو واقعات نے حالات کا رخ موڑ دیا۔ پہلے، 2014 میں عمران خاں کے دھرنہ نے حکومت کی چولیں ہلا دیں۔ فوج ہاتھ نہ کھینچ لیتی تو تختہ الٹ گیا ہوتا۔ سیاسی ساکھ روز بروز کم ہوتی رہی۔ پ پارٹی تو حسب وعدہ تعاون کرتی رہی لیکن تحریک انصاف نے حملے جاری رکھے اور کرپشن کو بڑا عوامی مسئلہ بنا دیا۔

دوسرا بڑا واقعہ پانامہ پیپرز کا شائع ہونا تھا۔ اس میں نواز شریف کنبہ کی آف شور کمپنیوں کے انکشاف نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ ان کی بنا پر عدالت عظمی میں کاروائی کے لیئے درخاستیں دی گئیں۔

سابق چیف جسٹس انور جمالی نے تعاون نہ کیا۔ انھوں نے پانامہ کیس کو لٹکاتے لٹکاتے اپنی سبک دوشی سے پہلے ختم کر دیا۔ تاہم ان کے جانشین نے اسے بحال کر دیا۔ نئے بینچ نے عدل تو کیا لیکن ملزموں کو بڑی رعائتیں دے کر اور بہت سا وقت ضائع کر کے۔

جب کسی حکمران کی ساکھ جاتی رہے تو امریکہ کی نظر میں اس کی وقعت نہیں رہتی کیونکہ وہ اس کے دیئے ہوئے ایجنڈہ پر کام نہیں کر سکتا۔ ہماری ہیئت حاکمہ نے بھی طے کر لیا تھا کہ بہت ہو گئی۔ اب نیا نظام لانے کی ضرورت ہے۔ لیکن تبدیلی فوج کی بجائے اعلا عدلیہ کے ذریعہ لانا طے ہوا۔

نواز شریف نے امریکہ اور برتانیہ سے مایوس ہو کر ہندوستان سے گٹھ جوڑ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ آصف زرداری جب نواز شریف پر ’’گریٹر پنجاب‘‘ کے لیئے کام کرنے کا الزام لگاتے ہیں تو بلا جواز نہیں۔ خود نواز شریف کئی بار مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذکر کر چکے ہیں، جو الزام کی تائید ہے۔

’’گریٹر پنجاب‘‘

’’گریٹر پنجاب‘‘ کا منصوبہ کیا ہے؟ اس پر عمل کس طرح ہوگا؟ مسلح افواج کے ترجمان نے چار ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں پر سازش کا الزام لگایا ہے۔ اس کا تعلق بھی منصوبہ سے ہی ہے۔ یہ ایجنسیاں غالباً امریکہ، برتانیہ، اسرائیل اور ہندوستان کی ہیں۔ وہ کرنا کیا چاہتی ہیں؟

عرصہ سے ملک کے ٹکڑے کرنے کے منصوبہ پر کام ہو رہا ہے۔ چند سال پہلے ایک امریکی فوجی افسر نے ایک نقشہ جاری کیا تھا، جس میں ہمارے ملک کے ٹکڑے دکھائے گئے تھے۔ منصوبہ یہ تھا کہ بلوچستان اور سندھ کو آزاد ملک بنایا جائے گا اور صوبہ خیبر کو افغانستان میں ضم کر دیا جائے گا۔ رہا پنجاب تو اسے ہندوستان کے پنجاب سے ملا کر ’’گریٹر پنجاب‘‘ بنایا جائے گا۔

منصوبہ بظاہر ناقابل عمل ہے لیکن منصوبہ سازوں کی نظر میں نہیں۔ وہ کس طرح عمل درامد کی کوشش کریں گے؟ وہ مقامی ایجنٹوں کے ذریعہ بلوچستان اور سندھ میں زبردست دہشت گردی کرائیں گے۔ پولیس کچھ نہ کرے گی۔ لا محالہ، فوج کو بڑی تعداد میں بھیجنا پڑے گا۔ افغانستان کی سرحد پر حالت امن کے باوجود ڈیڑھ دو لاکھ فوج پہلے سے ہی متعین ہے۔ افغان فوج جنگ چھیڑ دے گی۔ وہ پیش قدمی نہ بھی کر سکے تب بھی اسے روکنے کے لیئے مزید فوج بھیجنی پڑے گی۔ اس سلسلہ میں ملک دشمن افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان کے پشتو بولنے والے علاقے صوبہ خیبر میں شامل کیئے جائیں۔ اگلہ مرحلہ افغانستان کے پشتو بولنے والے علاقوں سے الحاق کا مطالبہ ہوگا تاکہ ایک نیا ملک، پختونستان، وجود میں آئے۔

ہندوستان کشمیر کی کنٹرول لائین کی خلاف ورزیوں سے بڑھ کر آزاد کشمیر پر قبضہ کے لیئے حملہ کر دے گا، جسے روکنے کے لیئے کئی ڈویژن وہاں بھیجنے ہوں گے۔ ہندوستان سندھ کی سرحد پر حملہ کرے گا تو وہاں بھی فوج بھیجنی ہوگی۔

اس کے بعد ہندوستان پنجاب پر بھرپور حملہ کرے گا۔ اس کے خلاف دفاع کے لیئے بہت تھوڑی فوج بچی ہوگی۔ چنانچہ ہندوستان لاہور، سیالکوٹ اور چند دوسرے سرحدی شہروں پر قبضہ کر لے گا۔ نواز شریف پنجاب کی آزادی کا اعلان کریں گے۔ (یہی وہ ’’حادثہ‘‘ ہوگا، جس کا نواز شریف نے بار بار امکان ظاہر کیا ہے۔) اس کے ساتھ ہندوستان کے پنجاب کو ساتھ ملانے کا مطالبہ کیا جائے گا، جس کی آبادی ہمارے پنجاب سے بہت کم ہے۔ اس مقصد کے لیئے ریفرینڈم کا مطالبہ ہوگا۔ (خالصتان تحریک کے حامی پہلے ہی ریفرینڈم کی مانگ کر رہے ہیں۔) ہندوستان پر امریکہ اور برتانیہ دبائو ڈالیں گے کہ ریفرینڈم کرایا جائے۔ ہندوستان پہلے تو انکار کرے گا لیکن پھر سکھوں کی خالصتان تحریک اور 1980 کی دہائی میں سکھوں کی دہشت گردی کے پیش نظر طے کرے گا کہ ان سے جان چھڑانا بہتر ہوگا۔ اس کے نتیجہ میں کشمیر بھی آزاد تو ہو جائے گا لیکن کم از کم پاکستان کو نہیں ملے گا۔ ویسے بھی بھوٹان جیسی کمزور اور محتاج ریاست اس کے لیئے خطرہ نہ ہوگی۔ دوسری طرف، کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیئے ہر سال ہونے والا سینکڑوں بلین روپے کا نقصان ختم ہو جائے گا۔

نواز شریف نہ صرف ہمیشہ کے لیئے نااہل ہو چکے ہیں بلکہ پورے کنبہ کا جیل جانا بھی طے ہے۔ ان کا ماٹو ہے کہ میں اقتدار میں نہیں تو کوئی اور بھی نہ ہو اور ملک کا سیاسی نظام بھی نہ رہے۔ انھیں اقتدار کے لیئے کافر ہندو کی غلامی بھی قبول ہے، جیسے کشمیر کے شیخ عبد اللہ اور بنگلہ دیش کے مجیب الرحمان کر چکے ہیں۔ نواز شریف سر عام کہہ چکے ہیں کہ ہم ایک جیسے لوگ ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان صرف سرحد کی لکیر ہے۔

ہماری افواج جانتی ہیں کہ دشمنوں کا منصوبہ کیا ہے اور اسے کس طرح ناکام بنانا ہے۔ وہ بروقت کاروائی کریں گی۔ تاہم دشمن طاقتوں کے نواز شریف کے ذریعہ اپنے منصوبہ پر عمل کو ناکام بنانا صرف مسلح افواج ہی کی ذمہ داری نہیں۔ ہم سب کو اس کا ساتھ دینا ہوگا۔ میڈیہ کو بھی منصوبہ کا بار بار ذکر کرنا ہوگا تاکہ نواز شریف کی سیاسی حمائت بالکل ختم ہو جائے۔ کوئی اس کا ساتھ دینے پر تیار نہ ہو۔ غدار وطن اور اس کا خاندان سنگین کرپشن اور دوسرے جرائم کی بنا پر باقی عمر جیل میں بسر کرے۔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

الله حافظ!
محمّد عبد الحمید
ٖFollow me on Twitter @Mahameed40
مصنف، "غربت کیسے مٹ سکتی ہے" (کلاسیک پبلشرز، لاہور)
www.mahameed.blogspot.com/
/www.mahameed-articles.blogspot.com
/