Our Beacon Forum

Observing nature and its miracles(Urdu)
By:Muhammad Rafi. UK
Date: Tuesday, 25 July 2017, 9:40 am

پوٹیٹو ہیگ کا انڈا سات دنوں میں ، چڑیا کا انڈہ چودہ دن میں،ہر قسم کی مرغی کا انڈہ اکیس دنوں میں، بطخ اور اس نوع کے پرندوں کا انڈہ اٹھائیس دنوں میں‘ بطخ کا انڈہ پینتیس دنوں میں‘طوطے اور شتر مرغ کا انڈہ بیالیس دنوں میں سینچا جاتا ہے۔ غور کریں تو سات سے لے کر بیالیس تک یہ سب ایک ہفتے کے سات دنوں پر تقسیم ہوتے ہیں۔اﷲ کی حکمت اور تخلیق عقل انسانی کو حیران کر دیتی ہے۔ اگر آپ ہاتھی کی ہیئت ترکیبی دیکھیں تو آپ اﷲ تعالیٰ کی تخلیق کاری پر عش عش کر اٹھیں گے کہ اس کو چار ٹانگیں دی گئی ہیں اور حیران کن طور پر اس کی چاروں ٹانگیں آگے کی طرف ایک ہی سمت میں جھکتی ہیں نہ کہ دائیں یا بائیں ۔آپ چار ٹانگوں والے جس جانور یا چوپائے کو دیکھیں گے اس میں یہ خاصیت نہیں ہو گی قابل غورہے کہ ہاتھی کے ساتھ ہی ایسا کیوں کیا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اﷲ تو جانتا تھا کہ بہت بڑے جثے والے اس جانور کیلئے ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ صرف اگلی یا پچھلی دو ٹانگوں پر اپنے ا س قدر بھاری بھر کم جثے کے ساتھ حرکت کر سکے یا زمین سے اٹھ سکے اس لیئے اسے چار ٹانگیں عنائت کیں تاکہ یہ آسانی سے زمین سے اٹھ سکے۔۔۔۔گھوڑے کو لے لیں وہ اپنی سامنے والی دونوں ٹانگوں کے سہارے اٹھتا ہے، گائے سب سے پہلے اپنی دو پچھلی ٹانگوں کے سہارے اٹھتی ہے یہ بظاہر عام باتیں اُس کی حکمتیں ظاہر کرتی ہیں کہ اُس کی تخلیقی حکمت کا مقابلہ کوئی بھی نہیں کر سکتا۔اس پاک اور با برکت عظیم الشان مصور نے اپنے ایک ایک شاہکار کو دنیا کیلئے عجوبہ بنا کر پیش کیا ہے۔ ڈی این اے کی معلومات تک پہنچنا سائنس کا ایک اہم ترین سنگ میل ہے۔ انجام کار وہ سائنس جو خدا کی منکر ہو گئی تھی اب خدا کا اقرار کر رہی ہے۔۔۔۔۔ہر انسان کے ڈی این اے میں حروف G,T,A اورC کا سلسلہ (Sequence)مختلف ہے یہی وجہ ہے کہ روئے زمین پر جتنے انسان پیدا ہو چکے ہیں اور قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے وہ ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے۔ ہر انسان کے تمام اعضا کا نام مختلف نہیں ہے دلِ آنکھ، کان، ناک، دل گردہ وغیرہ پھر بھی ہر شخص کچھ ایسی انفرادیت رکھتا ہے کہ سب کے سب ایک خلیے کے تقسیم در تقسیم ہونے کے عمل سے پروان چڑھنے کے با وجود اور ایک ہی بنیادی بناوٹ رکھتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
کائنات کے سر بستہ رازوں کی جستجو سے متعلق تمام علوم'' سائنس‘‘ کے زمرے میں آتے ہیں قران پاک کے نزول سے قبل لوگوں کا نظریہ کائنات مختلف تھا مثلاََ سقراط کا زاویہ نگاہ کہ مشاہدہ ''انسان‘‘ ہے نہ کہ کائنات، افلاطون نے یہ کہہ دیا کہ کائنات محض فریب نگاہ ہے انسان اس قابل نہیں اور نہ ہی انسان کے حواس خمسہ اس قابل ہیں کہ کائنات کی تحقیق کر سکیں ۔ہندو کہتے ہیں کہ مادی کائنات سراب ہے لیکن قران نے ان سب نظریات کو باطل کہا'' ہم نے کائنات کی بلندیوں اور پستیوںمیں جو کچھ پیدا کیا ہے وہ باطل نہیں یہ ان کا ظن ہے جو حقیقت سے انکار کرتے ہیں یہ ان کی قیا س آرائیاں ہیں‘‘۔( سورۃ الرعد‘) اسی نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا پھر وہی ہے جس نے اس جان کا جوڑا بنایا وہ تمہاری مائوں کے پیٹوں میں تین تین تاریک پردوں کے اندر تمہیں ایک کے بعد ایک شکل دیتا چلا جاتا ہے(6:39) اﷲ کی کرامات اور ہمیں نظر آنے والی اس کی ہر تخلیق چاہے وہ انسان ہو ‘ جانور ‘چرند ہو یا پرند، نباتات ہویا حشرات، اناج ہو یا پھل اس کے قادر مطلق اور زبردست حکمت والا ہونے کی منہ بولتی تصویر بن کر سامنے آ جاتی ہے ۔ کسی چیز کی طرف بھی دیکھ لیں انسان عش عش کر اٹھتا ہے اس کی تخلیق کے ایک ایک حصے اور ٹکڑے کی بناوٹ نا قابل یقین ہو جاتی ہے اب اگر آپ ایک نظر پھلوں کے جزو ترکیبی کی طرف ڈالیں تو آپ مزیددنگ رہ جائیں گے مثلاَ آپ تربوز کو سامنے رکھیں
گے تو ہر تربوز کے چھلکے پر بنی ہوئی دھاریوں کی تعداد ایک جیسی ہو گی نہ کم نہ زیا دہ اور سنگترہ ، مالٹا کو چھیل کر ان کی قاشیں گنیں تو آپ کو ہر سنگترے اور مالٹے کی قاشیں ایک ہی تعداد کی ملیں گی نہ ایک زیا دہ اور نہ ایک کم اور اگر آپ مکئی کے بھٹے(سٹا) کا جائزہ لیں تو آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ ہر بھٹے کی قطاریں ایک ہی تعداد میں ہیں۔۔دور نہ جائیں گندم کی فصل کے پا س سے کبھی گزرنا اُس کے ہر ایک خوشے کے دانے کی گنتی کریں گے تو آپ کو ہر خوشے میں ایک ہی تعداد میں گندم کے دانے دیکھنے کو ملیں گے۔ اللہ نے خوراک کیلئے اناج اگایا ہے ۔ مختلف قسم کے اناجوںکے ہر ہر دانے میں ان کی تعداد کہیں تیس ہے کہیں ساٹھ ہے توکہیں سو ہے لیکن ہر اناج کے سٹے کی تعداد بالکل ایک جیسی ہو گی ۔ کیلے کے پودے کی طرف نظر ڈالیں تو اس کی اوپر نیچے تک کی ہر ڈال میں ایک ہی تعداد میں کیلے لگے ہوئے دکھائی دیں گے۔۔۔۔۔پھولوں کی طرف دیکھیں تو اﷲ نے دن میں ان کے پھلنے پھولنے اور کھلنے کے وقت مقرر کر رکھے ہیں۔قران پاک میں ارشاد ہے'' نہیں نکلتا کوئی پھل اپنے غلافوں سے اور نہ حاملہ ہوتی ہے کوئی مادہ اور نہ بچہ جنتی ہے اس کے علم کے بغیر(41:47)
ساتویں صدی عیسوی میں بہت سے یہودی اپنے راہبوں اور عیسائی اپنے پادریوں کے ہمراہ مدینہ میں اس انتظار میں تھے کہ بہت جلد آخری نبی کا ظہور ہونے والا ہے لیکن وہ کہتے تھے کہ یہ آخری نبی حضرت اسحاق کی اولاد میں سے ہو گا لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ آخری نبی کا ظہور حضرت اسماعیل کی اولاد سے ہوا ہے تووہ ان کے منکر ہو گئے۔حضرت محمد ؑ کی طرف سے اپنی نبوت کے اعلان کے بعد جب قران پاک کا نزول شروع ہوا تو کافروں کے ساتھ ساتھ عیسائی پادریوں اور یہودی راہبوں نے نازل کی جانے والی ہر آیت مبارکہ پر اعتراضات شروع کر تے ہوئے ان کی افادیت کو چیلنج کرنا شروع کر دیا۔۔۔اور جب قران پاک کی مویشیوں سے حاصل ہونے والے دودھ کے بارے میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی'' اے ایمان والو:۔مویشیوں میں بھی تمہارے لئے ایک سبق ہے ان سے ہم تمہارے لئے ا ن کے پیٹوں میں موجود فضلے اور خون سے خالص دودھ فراہم کرتے ہیں جو پینے میں خوش بو دار اورفرحت آمیز ہے‘‘۔ جیسے ہی اس آیت مبارکہ کا نزول ہوا تو یہ نکتہ چین اکٹھے ہوگئے کہ ہمیں اس آیت میں مویشیوں کے فضلے اور خون سے دودھ کے نکلنے کے عمل کا ثبوت مہیا کیا جائے ان کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے'' فضلہ اور دودھ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو کر صاف شفاف دودھ کی شکل اختیار کر لے۔
بارھویں صدی عیسوی میں مشہور محقق اور مسلم سکالر امام رازیؒ نے طبی سائنس کے ذریعے مویشیوں کی خوراک کے ہضم ہونے کے بعد جسم کے مختلف حصوں میں شامل ہونے کے بعد خون کی صٖفائی کے عمل کو سامنے رکھتے ہوئے قران پاک کی اس آیت مبارکہ کو اس طرح ثابت کیا'' جگر اور تھن کے درمیاں لاتعداد شریانیں ہیں اور مادہ گائے بھینس کا تھن اندر سے انتہائی سفید اور صاف شفاف اجلا ہوتا ہے اور تھن سے گذرنے والا یہ خون سفید حالت میں دودھ کی شکل میں باہر آتا ہے۔۔۔۔اور قران پاک کی نا زل کردہ اس آیت مبارکہ کو جدید سائنس اس طرح ثابت کرتی ہے کہ خوراک ہضم ہونے کے بعد معدے سے انتڑیوں میں داخل ہوتی ہے جہاں مختلف کیمیائی عوامل و قوع پذیر ہوتے ہیں چند مادے انتڑیوں کے حصوں میں سے بشمول انتڑیوں کی دیوار کی شریانوں سے گذرتے ہیں اور وہاں سے وہ خون میں شامل ہو جاتے ہیں اور جگر اور پیچیدہ نظام کے ذریعے وہ خون میں شامل ہوکر جسم کے مختلف حصوں میں پہنچ جاتے ہیں اور پھر تھن میں موجود میمری غدود خون کو دودھ میں بدل دیتے ہیں ۔ (یعنی خون کی سپلائی لے کر یہ غدود اس سے دودھ اخذ کر لیتے ہیں )
________________
تحریر : صحافی منیر احمد بلوچ

Messages In This Thread

Observing nature and its miracles(Urdu)
Muhammad Rafi. UK -- Tuesday, 25 July 2017, 9:40 am
Re: Observing nature and its miracles(Urdu)
Sidqi.ca -- Tuesday, 25 July 2017, 6:39 pm