Our Beacon Forum

Superman of corruption, "Godfather" NSharif
By:Muhammad Rafi UK
Date: Monday, 10 July 2017, 10:45 pm

AS RECEIVED

آج کی تاریخ میں ایک اوسط شوگر مل کا منافع اگر 5 کروڑ سالانہ بنتا ہے تو دو دہائیاں پیچھے چلے جائیں ، منافع کی شرح شاید مزید کم ہوجائے۔ کچھ یہی حال پیپر، ٹیکسٹائل اور سٹیل انڈسٹری کا بھی ہے۔

ویسے تو شریف فیملی نے 1999 تک اپنی سالانہ انکم کبھی ایک لاکھ سے زائد شو نہیں کی، لیکن اگر ہم فرض کرلیں کہ ان کی تمام ملیں پرافٹ میں چلتی رہیں تھی تو پھر بھی ان کی ماہانہ انکم 30 سے 50 لاکھ روپے سے زائد نہیں ہوگی۔ اس انکم کو آپ میاں شریف کے بڑے خاندان میں اگر تقسیم کریں تو نوازشریف کے کزنز، دو بھائی، چچا وغیرہ کو ملا کر اوسطً فی خاندان پانچ سے 7 لاکھ روپے ماہانہ حصہ آتا ہے۔

کیا آپ کو لگتا ہے کہ نوازشریف اور شہبازشریف کا گزارا ماہانہ 5 سے 7 لاکھ روپوں میں ہوتا ہوگا؟ خاص کر اس وقت جب یہ دونوں بھائی فل ٹائم سیاست کرتے تھے جس کے اپنے بے تحاشہ اخراجات ہوتے ہیں، اس کے علاوہ ان کا لائف سٹائل کسی بادشاہ سے کم نہیں رہا، پھر اس پر بیرون ملک جائیدادیں۔ جی نہیں۔ یہ سب کچھ پاکستان میں قائم کاروبار سے ممکن ہی نہ تھا۔ تو پھر اضافی پیسہ کہاں سے آیا جس سے اندرون و بیرون ملک جائیدادیں اور کاروبار کھڑے کئے گئے؟

آج سے کئی سال قبل فنانشل سیکٹر کے مشہور امریکی ریسرچر ریمنڈ بیکر نے ایک کتاب لکھی تھی جس میں اس سے حکمرانوں کی کرپشن کے طریقے مثالوں کے ساتھ بیان کئے تھے۔ اس کتاب میں اس نے چند مثالیں پاکستان سے بھی منتخب کیں اور عجیب اتفاق ہے کہ وہ مثالیں نوازشریف کے ہی پہلے دونوں ادوار سے ملیں۔

ریمنڈ بیکر لکھتا ہے کہ نوازشریف نے اپنے پہلے دورحکومت میں موٹروے کا منصوبہ شروع کیا جو کہ اس کی حکومت ختم ہوتے ہی ٹھپ ہوگیا۔ دوبارہ برسراقتدار آیا تو اس منصوبے کو پھر سے شروع کیا اور اس کیلئے جس کمپنی کو کانٹریکٹ دیا گیا، اس سے کک بیکس کی شکل میں مجموعی طور پر 160 ملیں ڈالرز وصول کئے گئے اور بدلے میں اس کمپنی کو اجازت دی گئی کہ وہ مہنگے داموں موٹروے تعمیر کرکے اپنی پرافٹ ٹیکنگ کرلے۔

موٹر وے کا کانٹریکٹ اس طرح ڈیزائن کیا گیا کہ وہ ایک بہتی گنگا بن گیا جس سے جب چاھے آپ اشنان کرلیں۔ مثال کے طور موٹروے کی لمبائی کا ابتدائی تخمینہ 280 کلومیٹر رکھا گیا اور معاہدے میں یہ شق شامل کی گئی کہ 280 کلومیٹر سے زائد لمبائی کی صورت میں تعمیراتی کمپنی ایک " ویری ایشن آرڈر " جاری کرے گی جسے حکومت من و عن منظور کرلے گی۔ سب کچھ طے شدہ منصوبے کے مطابق ہوا۔ موٹروے کی تعمیر کے دوران جہلم کے نزدیک والے ایریا میں موجود پہاڑوں کی کٹائی کو ' آپریشنلی فیزیبل ' نہ سمجھا گیا، چنانچہ موٹر وے کی لمبائی 280 سے بڑھا کر 330 کلومیٹر کردی گئی۔ معاہدے کے مطابق تعمیراتی کمپنی نے ایک ویری ایشن آرڈر جاری کیا جس کے مطابق 50 کلومیٹر اضافی لمبائی کے مجموعی طور پر 280 کلومیٹر لمبائی کیلئے مانگی گئی رقم کا نصف مزید مانگ لیا گیا۔ اس رقم سے نوازشریف نے بھی اپنا حصہ وصول کیا اور کورین کمپنی نے بھی خوب مال کمایا۔

اسی طرح موٹروے کے اطراف میں خاردار باڑ لگانے کا ٹھیکہ کورین کمپنی کی بجائے لوکل ٹھیکے داروں کو دیا گیا۔ اس مقصد کیلئے اس وقت کے مواصلات کے وفاقی وزیر اعظم ہوتی نے اپنے ایک رشتے دار کے نام سے کمپنی قائم کی اور پھر کروڑوں کی مد میں خاردار تاریں اور لینڈ سکیپنگ کیلئے فنڈز جاری ہوئے جو اعظم ہوتی سے ہوتے ہوئے نوازشریف کی جیب تک پہنچے۔

کرپشن کی ایک اور مثال دیتے ہوئے بیکر لکھتا ہے کہ نوازشریف نے 90 کی دہائی میں اپنی وزارت عظمی کے دور میں امریکہ اور کینیڈا سے گندم امپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کیلئے سب سے مہنگے داموں گندم خریدی گئی جو کہ نارتھ امریکہ کی ہسٹری میں گندم ایکسپورٹ کیلئے ادا کی گئی سب سے زیادہ رقم تھی۔ اس معاہدے کی مدد سے نوازشریف نے 58 ملین ڈالرز اپنے اکاؤنٹ میں ڈالے۔

اپنی کتاب میں دی گئی تیسری مثال میں ریمنڈ بیکر بتاتا ہے کہ نوازشریف نے سرکاری بنکوں سے مختلف ناموں سے حاصل کئے گئے " غیرمحفوظ " قرضوں کی مد میں 140 ملین ڈالرز کا تھوک قومی خزانے کو لگایا۔ یہ تمام قرضہ جات ' مخصوص اثاثہ جات ' کی مد میں سٹیٹ بنک کے ریکارڈ میں آج بھی محفوظ ہیں اور آج تک ایک روپیہ بھی وصول نہ ہوسکا۔

اگلی مثال میں بیکر لکھتا ہے کہ نوازشریف نے اپنے دورحکومت میں کئی شوگر ملیں قائم کیں، پھر شوگر مافیا کے دباؤ کی آڑ لے کر شوگر انٖڈسٹری کو ریبیٹ جاری کی جس کا سب سے زیادہ فائدہ اس کے اپنے خاندان کی ملکیتی شوگر ملوں کو ہوا۔ مجموعی طور پر اس ریبیٹ سے نوازشریف نے 60 ملین ڈالر کھرے کئے۔

یہ ابھی اس بدترین اور مہا کرپشن کی صرف چار مثالیں ہیں جو ریمنڈ بیکر نے اپنی ضخیم کتاب میں پاکستان کے حوالے سے بیان کیں۔ نوازشریف کے ادوار کا جائزہ لیں تو پیلی ٹیکسی، قرض اتارو ملک سنوارو، لیپ ٹاپ سکیم، سستی روٹی سکیم، میٹرو اور اورنج منصوبوں سے کئی ارب ڈالرز یہ خاندان بنا چکا ہے جو کہ بعد میں منی لانڈرنگ کے زریعے بیرون ملک ٹرانسفر ہوئے اور وہاں جائز طریقے سے کاروبار اور جائیدادیں خرید لی گئیں۔

حضور، یہ ہیں وہ اصل زرائع جن کے زریعے لندن فلیٹس بھی خریدے گئے، سٹیل ملیں بھی لگیں اور آفشور کمپنیاں بھی قائم ہوئیں۔ نوازشریف کا سمدھی اسحاق ڈار لاہور کی ہیرا منڈی میں اپنے بچپن میں والد صاحب کے ساتھ سائکلوں کو پنکچر لگایا کرتا تھا لیکن اگر آج اس کے بیٹے دبئی میں فلک بوس عمارتوں کے مالک ہیں تو اس کی وجہ یہی وہ زرائع ہیں۔

حضور، یہی وہ زرائع ہیں جن کی وجہ سے صحافیوں اور کالم نویسوں کا ایک مخصوص طبقہ دن رات نوازشریف کی حمایت میں قلم کی دلالی کرتا ہے، کیونکہ انہیں یقین ہے کہ نوازشریف اگر ان کی طرف تھوک بھی پھینکے گا تو وہ بھی کروڑوں کا ہوگا۔

مجھے اس سے کوئی غرض نہیں عمران خان کا شادی سے پہلے سیتا وائیٹ سے افئیر تھا، مجھے اس سے بھی کوئی غرض نہیں کہ عمران خان نے دو شادیاں کیں اور دونوں ناکام ہوئی، اگر دلچسپی ہے تو ان اربوں ڈالرز سے جو پاکستان کے حرامزادے حکمران اپنے باپ کی کمائی سمجھ کر اپنی جیبوں میں ڈال کر لے گئے۔ مجھے خوشی ہے کہ عمران خان کی بدولت پہلی دفعہ اس مافیا کا احتساب ہونے جارہا ہے اور انہیں واقعی ایک مرد ٹکرا ہے جو ان سے پوری طاقت کے ساتھ لڑ رہا ہے۔

اگر آپ کو عمران خان پسند نہیں تو بے شک اسے ووٹ مت دیں، اس کی حمایت مت کریں لیکن خدارا نوازشریف جیسے کرپٹ فرعون کی حمایت کرکے اس ملک اور اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ ظلم مت کریں۔

نوازشریف نے اس ملک کی عوام کے مستقبل کے ساتھ انتہائی درجے کا ظلم کیا ہے، اسے اس ظلم کی سزا دلوانے میں مدد دینا بھی ایک اعلی درجے کی نیکی ہوگی، اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالیں اور اپنے آپ کو اپنی نسلوں کے سامنے سرخرو کریں۔

ورنہ تو عالم یہ ہے کہ مولوی حضرات نوازشریف کو بچانے کیلئے کبھی سمگلنگ کو جائز قرار دے رہے ہیں تو کبھی ہنڈی کو عین شرعی ثابت کررہے ہیں۔

اگر آپ ظالم کا ہاتھ نہیں روک سکتے تو کم از کم اس کے ظلم کو تو برا جانیں، کمزور ترین ہی سہی، لیکن ایمان کا کوئی تو درجہ محفوظ رکھ لیں!!! بقلم خود باباکوڈا

Messages In This Thread

Superman of corruption, "Godfather" NSharif
Muhammad Rafi UK -- Monday, 10 July 2017, 10:45 pm
Re: Superman of corruption, "Godfather" NSharif
shahalam, TX -- Tuesday, 11 July 2017, 5:09 pm