Our Beacon Forum

Loot and Plunder (Urdu)
By:Muhammad Rafi. UK
Date: Saturday, 3 June 2017, 3:33 pm

سنا ہے پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر کراچی کی لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے وفاق کو للکارا ہے اور سندھ کے حقوق کے لیے آنسو بہائے ہیں ؟ اسے کہتے ہیں بغل میں چھری منہ میں رام رام ۔۔۔ !
کراچی کو بجلی سپلائی کرنے کا ذمہ دار ادارہ کے الیکٹرک ہے۔
بے نظیر بھٹو نے کے الیکٹرک کی نجکاری کا آغاز کیا اور مشرف دور میں اس کے 76 فیصد شیرز 1600 ارب روپے میں ایک عرب کمپنی کو بیچ دئیے گئے۔
اس کے بعد " ایک زداری سب پہ بھاری" آیا ۔ اس نے حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے 2009 میں اس عرب کمپنی کو کو 1300 ارب روپے واپس کر دئیے یوں اس کمپنی کو پورا کے الیکٹرک صرف 300 ارب میں پڑا۔۔۔ smile emoticon:)
اس کے بعد مذکورہ کمپنی نے فوری طور پر کے الیکٹرک کے 1200 کلومیٹر لمبے اور لاکھوں ٹن وزنی تانبے کے تار ہٹا کر ان کی جگہ ایلومینیم کے سسستے تار لگا دئیے۔
تانبے کے ہٹائے جانے والے تاروں کی قمیت تقریباً 750 ارب روپے بتائی جارہی ہے ۔
اب خبر ہے کہ 750 ارب روپے مالیت کے وہ تانبے کے تار بھی غائب ہیں۔ یہ تانبا مبینہ طور پر زرداری ، فریال تالپور اور مذکورہ کمپنی نے ملکر بیچ دیا ہے۔
تار بیچنے کے بعد عرب کمپنی کو کے الیکٹرک بلکل مفت میں پڑا ہے۔ سنا ہے زرداری اینڈ کمپنی کو اس کے بدلے متحدہ عرب امارات اور دبئی میں سینکڑوں ایکڑ زمینیں بھی دی گئی ہیں جو کمیشن کے علاوہ ہیں۔اور دبئی کی سیاسی سپورٹ بھی۔ آپ نوٹ کیجیے زرداری ہمیشہ دبئی بھاگتا ہے اور وہیں انکی ساری پارٹی میٹنگز بھی ہوتی ہیں۔
ایلومینیم کے تار لگانے کا کیا نقصان ہوا ہے؟
ایلومینیم کے تاروں کی وجہ سے 4/5 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ضروری ہے خاص کر گرمیوں میں ورنہ ان تاروں کے پگھلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
یہ تار مسلسل ٹرپ ہوتے رہتے ہیں۔ ان میں بجلی کے لیے مزاحمت کی وجہ سے یہ ہر دو تین منٹ بعد میٹر کو تگنی رفتار سے گھما دیتے ہیں جسکی وجہ سے کمر توڑ بجلی کے بل آتے ہیں ۔ ( کے الیکٹرک کے شیر ہولڈر چودھری مظہر کے مطابق صرف اس سال کے الیکٹرک نے حیران کن طور پر 16 ارب روپے کا منافع کمایا ہے )
تانبا ایلومینیم سے 3 گنا مہنگا ہے۔ وہی تانبا اب اگر دوبارہ خریدنا پڑگیا تو کم از کم 2000 رب روپے میں پڑے گا۔ کون خریدے گا ؟؟
برسبیل تذکرہ 1300 ارب اور 750 ارب میں کوئی بھی بڑا ڈیم آرام سے بن جاتا ہے جو کے الیکٹرک سے دگنی بجلی ایک روپے فی یونٹ میں تیار کر کے دے سکتا ہے جبکہ کے الیکٹرک 18 سے 20 روپے فی یونٹ بنا رہا ہے۔ ڈیم سے زراعت کی شکل میں جو دیگر فائدے ہونگے وہ اس کے علاوہ ہیں۔
اس سارے معاملے کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس داخل کیا گیا ہے لیکن آفرین ہے ہماری سپریم کورٹ پر جو اس کیس کو سننے کے لیے تیار ہی نہیں پچھلے کئی سال سے۔۔۔ نیپرا نے اس گھپلے کے خلاف ایکشن لیا تو عدلیہ نے ملوث لوگوں کو سٹے آرڈر دے کر نیپرا کو بھی بے بس کر دیا ۔۔۔۔!
انہی وجوہات کی بنا پر کراچی میں تباہ کن لوڈ شیڈنگ ہے اور لوڈ شیڈنگ ہی کی وجہ سے پانی بھی نایاب ہے ۔۔۔ !
گرمی میں پانی اور بجلی کے بغیر ہزاروں لوگ مر گئے اور آج بھی مر رہے ہیں۔ اس پر آپ سندھ حکومت کا رونا، بلاول بھٹو کا چیخنا اور ہمارے " معزز" ججوں کے ڈرامے ملاحظہ کیجیے ۔۔۔
کس قدر ظالم اور منافق ہیں یہ بدبخت لوگ ۔۔۔ !
منقول!
بشکریہ: شاہد حیدر