Our Beacon Forum

Forgeries in Hadith - حدیث میں تحریف
By:Muhammad Latif Chaudhery, Lahore
Date: Saturday, 28 March 2015, 12:25 am

محمدلطیف چوہدری

حدیث میں تحریف
>
> جب پہاڑ کے دامن سے کوئی چشمہ پھوٹتا ہے تو اس کا پانی صاف شفاف ہوتا ہے۔ لیکن جوں جوں وہ میدانوں کی طرف پڑھتا ہے ، خس و خاشاک اور خاک و غبار کی کی وجہ سے گدلا ہو جاتا ہے۔ یہی حال مذہب کا ہے۔ آج سے 1368 برس پہلے اسلام کا چشمہ دامن فاران سے پھوٹا اور کئی دھاروں میں بٹ کر مشرق و مغرب کی طرف بڑھا۔ مررورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ اس میں مختلف الانواع کثافتیں شامل ہوتی گئیں۔ کہیں عیسائیوں کی رہبانیت اس میں آملی اور کہیں آریوں کا نظریہ حلول و وحدت الوجود، راہ میں کئی تصوف کی دلدلیں آ گئیں اور کہیں کلام و اعتزال کے خاکستان۔ ان مختلف گزر گاہوں سے ہوتا اور اس طویل راہ گرد کی آلودگیوں کو سمیٹتا ہوا جب یہ چشمہ ہم تک پہنچا تو ہم فیصلہ نہ کر سکے کہ یہ الہامی بلندیوں کا مقطر آب تھا یا کسی بدرو کا مکدر پانی۔ اہل نظر لرزے ، اور متلاشیان حق بے تابانہ منبع کی طرف بڑھے۔ تاکہ ان مقامات کا کھوج لگائیں۔ جہاں سے کثافت اس چشمے میں شامل ہو رہی تھی ، سفر لمبا تھا منزل کٹھن ، راہبر ناپید، خانہ ساز عقائد کی گھٹائیں محیط اور راہ تاریک ماحول میں گُم۔
>
> ظلمات بعضھا فوق بعض (ظلمت تہ بر تہ)
>
> بیسیوں جی ہار کر بیٹھ گئے اور کچھ ان ستاروں کی مدھم روشنی میں آگے بڑھتے گئے جو گھٹاؤں کی چلمن سے ان راہ نوردوں کا تماشہ دیکھ رہے۔ جوں جوں وہ بڑھتے گئے۔ گھٹائیں چھٹتی گئیں، ظلمت سرکتی گئی۔ پردے اٹھتے گئے۔ یہاں تک کہ وہ ایسے خطوں میں جا پہنچے جہاں آفتاب الہام کی تجلیوں سے نگاہیں خیرہ ہوئی جاتی تھیں اور دل و دماغ منور۔ ہر حقیقت وہاں عیاں تھی اور ہر راز بے حجاب ، انھوں نے ملت کو بلند آواز سے پکارا اور کچھ کہا۔ یہ آواز چند کانوں سے ٹکرائی اور پھر گونج بن کر دشت کی پنہائیوں میں گم ہو گئی۔
>
> جانتے ہو انھوں نے کیا کہا تھا ؟یہی کہ ہمارے شکم پرست اور خود بین سامریوں نے حرم حقیقت میں سینکڑوں بت بنا رکھے ہیں۔ جن میں ایک کا نام "وضعی احادیث" ہے۔ یعنی وہ اقوال جو لوگوں نے تراش کر حضورؐ کی طرف منسوب کر دئیے تھے اور آج وہ اقوال رسولؐ کے ساتھ یوں غلط ملط ہو چکے ہیں کہ حق کو باطل سے علیحدہ کرنا ناممکن ہو رہا ہے۔
>
> اس میں کلام نہیں کہ ہمارے بعض علماء نے سچ کو جھوٹ سے علیحدہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ راویوں کا سراغ لگایا، ان کے حالات جمع کئے بہ اندازہ ہمت تحقیق کی۔ لیکن معاملہ اس قدر الجھ چکا تھا کہ اسے سلجھانا انسانی دسترس سے باہر تھا۔ وہ زمانہ ہی ایسا تھا کہ علم کم تھا ، لکھنے والے محدود اور ذخائر علم معدوم۔ صحابہ کی تمام تر توجہ قیام سلطنت ، نشر اسلام اور تعمیر ملت پر صرف ہو رہی تھی۔ ان کے پاس خود رسولؐ موجود تھے اور رسولؐ کے بعد آپ کا دیا ہوا مکمل و اتم ضابطہ حیات یعنی قرآن۔
>
> انھیں کیا خبر تھی کہ ڈیڑھ سو سال بعد لوگ قرآن کو چھوڑ کر احادیث پہ جھک پڑیں گے۔ احادیث کا ذخیرہ بڑھتے بڑھتے چودہ لاکھ تک پہنچ جائے گا۔ ہزارہا اہل غرض لاکھوں احادیث گھڑ کر اس مقدس ذخیرے میں شامل کر دیں گے اور اس وقت مسلمانوں کو صحیح و غلط میں امتیاز کی ضرورت پیش آئے گی۔ اگر انھیں یہ معلوم ہوتا تو ممکن تھا کہ وہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال جمع کر جاتے۔ لیکن انھوں نے ایسا نہ کیا۔ اس کی بڑی بڑی وجوہ دو تھیں۔
>
> اول: وہ قرآن کی موجودگی میں کسی اور کتاب کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے تھے۔ صحیح بخاری میں مذکور ہے کہ جب رحلت سے پہلے حضور نے فرمایا کہ
>
> ایتونی بکتاب و قرطاس اکتب لکم شیاءً لن نضلوا بعدی
>
> لاؤ قلم دوات اور کاغذ میں تمھیں ایک ایسی چیز لکھ کر دے جاؤں کہ میرے بعد تمھاری گمراہی کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔
>
> تو حضرت عمر ؓ بن خطاب جھٹ بول اٹھے ہمیں مزید کسی تحریر کی ضرورت نہیں ، اس لئے کہ
>
> حسبنا کتاب اللہ
>
> ہمارے پاس کتاب الٰہی موجود ہے جس میں انسانی فلاح و نجات کے مکمل گُر درج ہیں ، اور یہ کتاب ہمارے لئے کافی ہے ۔ حضرت فاروق کا یہ جملہ رسالت پناہ کے حضور میں جسارت معلوم ہوتا ہے۔ لیکن وہ مجبور تھے اس لئے کہ کچھ عرصہ پیشتر قرآن کی یہ آیت نازل ہو چکی تھی
>
> الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی
>
> آج میں نے تمھارے دین کو مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تمھیں پوری طرح عطا کر دی ہے۔
>
> اس آیت کی رو سے نسل انسانی کی یہ کتاب ہر طرح مکمل اور پوری ہو چکی تھی۔ اس آیت کے ہوتے ہوئے کسی مزید ہدایت کا انتظار بےکار تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ایمان کا امتحان لے رہے ہوں۔ اس لئے حضرت فاروقؓ کا یہ جواب نہایت برمحل معلوم ہوتا ہے۔
>
> دوم: حضور نے حدیث لکھنے سے روک دیا تھا۔
>
> عن ابی سعید الحذری قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تکتبوا عنی و من کتب عنی شیئاً غیر القرآن فلیمحہ (صحیح مسلم)
>
> ابی سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کے بغیر میرا کوئی اور قول قلمبند نہ کرو۔ اور اگر کوئی شخص ایسا قول لکھ چکا ہو تو اسے مٹا دے۔اور اس کی دو وجہیں تھیں۔
>
> اول: کہ کہیں غلطی سے احادیث قرآن کے متن میں شامل نہ ہو جائیں۔ بعض گذشتہ انبیا کے الہامی صحائف میں ان کی احادیث بھی شامل ہو گئی تھیں اور کتاب الٰہی کا حلیہ بگڑ گیا تھا۔
>
> دوم: خود رسول کریم صلعم کی زندگی میں ان کے اقوال محترف ہو چکے تھے اور یہ ہے بھی ایک فطری چیز۔ آدمی کو اپنی کہی ہوئی بات تک یاد نہیں رہتی ، وہ دوسرے کی کیا یاد رکھ سکتا ہے۔ فرض کرو کہ ایک محفل میں چھ آدمی گھنٹہ بھر گفتگو کرتے رہے ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اختتام مجلس پر تمام گفتگو بالفاظہ دہرا سکیں ؟ نا ممکن ہے۔ اسی طرح فرض کرو کہ ایک واقعے کو پچاس آدمی دیکھتے ہیں۔ اگر آپ ان کے پاس علیحدہ علیحدہ جا کر اس واقعے کی تفصیل قلمبند کریں، تو آپ کو ان تفاصیل میں کافی اختلاف نظر آئیں گے۔ اور اگر چھ ماہ یا سال بعد انھی لوگوں کے پاس جا کر اسی واقعے کی تفصیل دوبارہ قلمبند کریں تو یہ اختلاف اور نمایاں ہو گا۔ اور مرُور زمانہ کے ساتھ ساتھ یہ تفاصیل یوں بدلتی جائیں گی کہ ان کا تعلق حقیقت سے منقطع ہو جائے گا۔
>
> حضور علیہ السلام انسان کی اس فطری کمزوری سے آگاہ تھے۔ اس لئے آپ نے حکم دے دیا تھا کہ میری حدیث قید کتابت میں مت لاؤ۔ ممکن ہے کہ آپ یہ کہیں کہ انسان اپنے یا اپنے ساتھی کی بات تو بھول سکتا ہے لیکن وہ اپنے رہبر اور محبوب پیمبر کی بات نہیں بھول سکتا۔ میں عرض کروں گا کہ آپ یہاں بھی غلطی پر ہیں۔ آپ میں سے لاکھوں نے اپنے محبوب و محترم لیڈر حضرت قائد اعظمؒ کی بیسیوں تقاریر سنی ہوں گی۔ جنھیں بعد میں پاکستان ریڈیو نے بھی بارہا دہرایا۔ لیکن آپ میں سے کتنے ایسے ہیں جنھیں آج ان تقاریر کے تین فقرے بھی یاد ہوں۔ انسان ہے ہی فراموش کا ر ، وہ سنتا ہے اور بھول جاتا ہے۔ آپ کو تاریخ کا ایک اہم واقعہ یاد ہو گا کہ حضرت فاروقؓ کے زمانے میں عراق کا قرآن حجاز سے مختلف ہو گیا تھا۔ کیوں ؟ اس لئے نہیں کہ کوئی بد نیت تحریف قرآن پہ تل گیا تھا۔ بلکہ اس لئے کہ ان کے سامنے قرآن کا کوئی نسخہ موجود نہیں تھا۔ اس لئے بعض آیات حافظہ سے اتر گئیں۔ اور بعض میں کچھ رد و بدل ہو گیا تھا۔ حضرت فاروقؓ نے اس کا علاج یہ کیا کہ قرآن کے کافی نسخے لکھوا کر قلمرو کے مختلف حصوں میں بھیج دئیے اور قرآن تحریف سے محفوظ ہو گیا۔ ابن حزم لکھتے ہیں کہ حضرت فاروق اعظم کی رحلت کے وقت قرآن شریف کے ایک لاکھ نسخے تیار ہو چکے تھے۔ آپ جانتے ہیں کہ صحابہ کرام عشق خدا میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اور ان کا یہ محکم عقیدہ تھا کہ کسی آیت کو غلط پڑھنا اگر کفر نہیں تو فسق یقیناً ہے۔ اگر ان عشاقان خدا کو قرآن کی آیات بھول گئیں تھیں تو حدیث کے بھولنے پہ انھیں کون ملامت کر سکتا تھا۔
>
> آنحضرت صلعم نے کتاب حدیث سے منع فرما دیا تھا۔ اور جو چیز لکھی نہ جائے وہ لازماً پہلے بگڑتی ہے اور بلا آخر مٹ جاتی ہے۔ حضورؐ کا مقصد بھی یہی تھا کہ قرآن کریم کے بغیر کوئی اور کتاب ہدایت باقی نہ رہے۔ اس لئے حضورؐ اور ان کے صحابہؓ قرآن کو ایک مکمل ضابطہ حیات تصور فرماتے تھے۔ اور اس کی موجودگی میں کسی اور کتاب کی قطعاً ضرورت نہیں سمجھتے تھے۔ورنہ اگر صحابہ کو ایک لمحے کے لئے بھی یہ خیال آتا کہ قرآن کی تفصیل، تکمیل، تفسیر یا امت کی رہبری کے لئے حدیث کا زندہ رہنا ضروری ہے تو ان کے لئے حدیث کی تدوین نہایت آسان تھی۔ جو عمرؓ قرآن کے ایک لاکھ نسخے لکھوا سکتا تھا وہ پانچ چھ ہزار احادیث کا ایک مجموعہ بھی تیار کرا سکتا تھا۔ تمام صحابہ زندہ تھے ان کی بیشتر تعداد مدینہ میں موجود تھی۔ اور بعض روایات کے مطابق حضرت عبداللہ بن عمروؓ حضرت انس بن مالکؓ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے پاس احادیث کی کافی تعداد لکھی ہوئی بھی تھی۔ راویوں کا لمبا چوڑا جھمیلا بھی نہیں تھا۔ ان حالات میں اگر حضرت صدیقؓ یا فاروقؓ چاہتے تو صرف ایک مہینے میں سرور عالمؐ کے تمام اقوال جمع ہو سکتے تھے۔
>
> لیکن انھوں نے ایسا نہ کیا۔ کیوں ؟ کیا انھیں اقوال رسولؓ سے معاندت تھی؟ عیاذاً باللہ! کیا انھیں اسلام سے محبت نہ تھی ؟ استغفراللہ ! بات یہی تھی کہ اقوال رسول میں تحریف ہو چکی تھی۔ نیز رسول اکرم صلعم کا حکم تھا کہ احادیث مت لکھو۔ مزید برآں انھیں اس حقیقت پر بھی محکم ایمان تھا کہ قرآن ہر لحاظ سے مکمل ہے۔ اس لئے انھوں نے احادیث کو در خور اعتنا نہ سمجھا۔
>
> علامہ ذہبی تذکرۃ الحفاظ میں لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق نے پانچ سو احادیث کا ایک مجموعہ تیار کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ حضرت صدیق کے مجموعے سے زیادہ قابل اعتماد اور کون سا مجموعہ ہو سکتا تھا۔ لیکن ایک صبح اٹھ کر اسے جلا دیا۔
>
> حضرت فاروق ؓ کے متعلق مذکور ہے کہ آپ نے رسول اکرم صلعم کی احادیث اور آپ کا اسوہ لکھوانے کا ارادہ کیا۔ مہینے بھر استخارہ کرتے رہے اور پھر فرمایا۔
>
> کانو اقبلکم قوما کتبو کتباً فاکتبوا علیھا و ترکوا کتاب اللہ و انی واللہ لا اشوب کتاب اللہ بشیء اہداً
>
> تم سے پہلے ایسی قومیں گزر چکی ہیں جنھوں نے کتابیں لکھیں اور خدائی کتاب کو چھوڑ کر انھی پہ جھک پڑیں ، خدا کی قسم! میں قرآن میں ایسی آمیزش ہرگز نہیں ہونے دوں گا
>
> نامناسب نہ ہو گا ، اگر اس سلسلے میں چند اور تاریخی واقعات بھی بیان کر دئیے جائیں۔
>
> نمبر1۔ جب حضرت صدیقؓ مسند خلافت پر جلوہ آرا ہوئے تو آپ نے ایک دن ایک مجمع عام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا
>
> "تم لوگ آج حدیث میں اختلاف رکھتے ہو(ہم یہی عرض کر رہے تھے کہ اقوال رسول میں رد و بدل ہو چکا تھا اور وہ اس قابل نہیں رہے تھے کہ انھیں قلمبند کیا جاتا) آئندہ یہ اختلاف بڑھتا چلا جائے گا اس لئے تم آنحضرت سے کوئی حدیث روایت نہ کرو۔ اگر کوئی پوچھے تو کہو کہ ہمارے پاس قرآن موجود ہے۔ جو اس نے جائز قرار دیا اسے جائز سمجھو" (تذکرۃ الحفاظ ذہبی ص 3)
>
> نمبر2۔ ایک مرتبہ حضرت فاروقؓ نے تمام صحابہ سے فرمایا کہ گھر جاؤ اور احادیث کا تمام ذخیرہ اٹھا لاؤ۔ جب ذخیرہ جمع ہو گیا تو آپ نے تمام صحابہ کے سامنے اسے جلا دیا۔[i]
>
> (طبقات ابن سعد جلد 5 ص 140)
>
> ذرا سوچو کہ خلفائے راشدین کا زمانہ ہے۔ شمع نبوت پہ فدا ہونے والے ہزاروں پروانے موجود ہیں۔ اور حضور کے دو سب سے بڑے دوست اور فدائی آپؐ کے اقوال کا ذخیرہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر فنا کر رہے ہیں۔ آخر کیوں ؟ کیا انھیں ارشادات رسولؐ سے ضد تھی؟ یا اقوال رسول میں تحریف ہو چکی تھی ؟ ظاہر ہے کہ پہلی وجہ غلط ہے۔ اور دوسری صحیح۔ مقام حیرت ہے کہ جن احادیث کو مشتبہ یا ناقابل التفات سمجھ کر صدیق و فاروق رضی اللہ عنہم فنا کر رہے تھے ، تاکہ اعمال و عقائد میں کوئی فتور پیدا نہ ہونے پائے ، انھی احادیث کو اڑھائی سو سال بعد امام بخاری و مسلم وغیرہ نے جمع کیا اور ہم سب نے مل کر نعرہ لگایا۔
>
> ھذا اصح الکتب بعد کتاب اللہ
>
> (قرآن کے بعد صحیح بخاری صحیح ترین کتاب ہے)
>
> آخر کس طرح؟ چند ایک احادیث جو بعض صحابہ کے پاس تھیں ان میں سے بیشتر جلا دی گئیں۔ جو زبانوں پہ جاری تھیں ان میں ہر لمحہ رد و بدل ہو رہا تھا۔ بات ایک دن میں کیا سے کیا ہو جاتی ہے ۔ اور ان اقوال پر تو اڑھائی سو برس گذر چکے تھے۔ وہ صحابہ جن کی دیانت اور سچائی پر بھروسا کیا جا سکتا تھا ، فوت ہو چکے تھے اور بعد میں آ گئے تھے ہم جیسے لوگ۔ امام حسین کے قاتل، حضرت علیؓ کے باغی، کعبے کو ڈھانے والے حاکم شرابی، امراء راشی، غنی عیاش، فقیر پست کردار، کیا ایسے ماحول(اُمیہ کا دور) میں کسی حدیث کا اپنی اصلی حالت پہ رہنا ممکن تھا؟ بعض صحابہ سے بھی اخلاقی لغزشیں سرزرد ہوتی رہتی تھیں۔ بخاری میں مذکور ہے کہ ایک صحابی روزے کی حالت میں جماع کر بیٹھے تھے۔ حضرت عمرؓ نے ابن نعمان کو شراب نوشی پر سزا دی تھی۔ حضور ؐ نے ایک صحابی پر زنا کی حد جاری کی تھی۔ رحلت رسولؐ کے بعد بعض مرتد ہو گئے تھے۔ اور بعض نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا تھا۔حضرت علیؓ اور حضرت عائشہؓ کی جنگ میں دونوں طرف صحابہ کی ایک بہت بڑی تعداد تھی۔ اور ظاہر ہے کہ دونوں راستی پر نہیں ہو سکتے تھے۔ ان حالات میں بالکل ممکن ہے کہ کسی صحابی نے عمداً کسی حدیث کے الفاظ بدل دئیے ہوں۔ اور سہو و نسیان کا خطرہ تو ہر وقت تعاقب میں رہتا تھا۔ دو سو پچاس برس تک یہ حدیثیں کروڑوں زبانوں پہ جاری رہیں۔ ہر نیک و بد کے پاس پہنچیں۔ الفاظ بدلے ۔ مفہوم بدلا۔ اضافے ہوئے۔ لاکھوں نئی احادیث وضع کی گئیں۔ جن میں حلال کو حرام اور اور حرام کو حلال بنایا گیا۔ جہاد پہ ضرب کاری لگائی گئی۔ رہبانیت کو اچھالا گیا۔ اور ایک ایک ورد پر ہزار ہزار جنتیں تقسیم کی گئیں۔ ان مشتبہ گوش بریدہ اور خود تراشیدہ احادیث کا سیلاب عظیم ۔ جب حضرت امام بخاری کے دور میں داخل ہوا تو آپ نے چھ لاکھ احادیث میں سے جو آپ کو یاد تھیں ، صرف 7275 انتخاب کیں اور باقی تمام کو ناقابل اعتماد قرار دے دیا۔
>
> آپ نے انتخاب کا معیار راویوں کی صداقت کو قرار دیا۔ امام بخاری اور رسول اللہ کے درمیان اڑھائی سو سال کا طویل زمانہ حائل تھا۔ چھ لاکھ احادیث، ہر حدیث کے کم از کم پانچ چھ راوی۔ یعنی تیس پینتیس لاکھ راوی، جن میں سے بیس پچیس لاکھ لازماً مر چکے ہوں گے۔ نہ ان کے حالات محفوظ ، نہ انھیں کوئی جاننے والا موجود۔ امام بخاری کو کیسے پتہ چل گیا تھا کہ اس کے تمام راوی سچے تھے۔ اور کہ انھوں نے زندگی بھر میں کوئی گناہ نہ کیا تھا اور نہ کبھی جھوٹ بولا تھا۔ میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ آپ کے معاصر یحییٰ بن معین نے راویوں کے حالات قلمبند کئے تھے۔ لیکن ان کے متعلق بھی وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ انھیں یہ حالات کس نے بتائے تھے۔ اور دو سو سال پہلے کے راویوں کے متعلق انھوں نے معلومات کہاں سے حاصل کیں تھیں ؟ اگر آج ہمیں کہا جائے کہ محلے کے تمام ان لوگوں کے حالات قلمبند کرو جو گذشتہ دو سال میں مر چکے ہیں، تو ہم کبھی نہ کر سکیں گے۔ ممکن ہے مجملاً ہمیں یہ معلوم ہو جائے کہ فلاں صاحب پابند صوم و صلوۃ تھے لیکن اس کے کردار کی صحیح تصویر کھینچنا ہمارے لئے نا ممکن ہو گا۔
>
> علاوہ ازیں ہمارے سوانح نگاروں میں ایک خاص نقص بھی تھا ، کہ وہ کسی کے کردار پر تنقیدی نگاہ ڈالنے کے عادی نہیں تھے۔ ہمیشہ
>
> حسن ظن سے کام لیتے تھے۔ اور مبالغہ آمیز مدح سرائی پر اتر آتے تھے۔ اس وقت ذہبی کا تذکرۃ الحفاظ میرے سامنے پڑا ہے۔ جس میں ہزار ہا بڑے بڑے راویان و حفاظ حدیث کے حالات مرقوم ہیں۔ میں ایک دور کے چند راوی لے کر ذہبی کی زبانی ان کی کہانی سناتا ہوں۔ جس سے آپ اندازہ لگا سکیں گے کہ ہمارے بزرگوں کا اندازہ کردار نویسی میں کیا تھا؟
>
> مثلاً
>
> 1۔ علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب کے متعلق لکھتے ہیں
>
> کان یصلی فی الیوم و اللیۃ الف رکعۃ
>
> آپ رات دن میں ایک ہزار رکعت نماز پڑھا کرتے تھے۔ (تذکرۃ ص 46)
>
> اگر سونے کھانے ضروری حاجات اور وضو کے لئے کم از کم آٹھ گھنٹے الگ کر لئے جائیں تو باقی سولہ گھنٹے بچتے ہیں۔ اگر ہر رکعت پر اوسطاً دو منٹ صرف ہوں تو یہ تینتیس گھنٹے اور بیس منٹ بنتے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ سولہ گھنٹوں میں تینتیس گھنٹوں کا کام سر انجام نہیں دیا جا سکتا۔
>
>
>
> 2۔ مطرف بن عبداللہ (وفات 95ھ) کے متعلق لکھا ہے
>
> کان راساً فی العلم و العمل
>
> کہ آپ علم و عمل میں سردار تھے (تذکرۃ ص 55)
>
> 3۔ محمد بن سرین (وفات 110ھ) کے متعلق کہا
>
> عزیز العلم۔ ثقۃ ۔۔۔ راس فی الورع
>
> کہ آپ علم میں بے مثال ۔ قابل اعتماد۔۔ اور تقویٰ میں سردار تھے (تذکرۃ ص 67)
>
>
>
> 4۔ طاؤس بن کیسان (وفات 106ھ) کے متعلق فرمایا
>
> کان راساً فی العلم االواع
>
> کہ علم و تقویٰ میں سردار تھا (تذکرۃ ص 78)
>
>
>
> 5۔ ابو صالح ذکوان (وفات 110ھ) کے متعلق ارشاد ہوا
>
> من اجل الناس و او ثقھم
>
> سب سے بڑا اور سب سے زیادہ قابل اعتماد (تذکرہ 78)
>
>
>
> 6۔ شعبی کے متعلق کہا
>
> مارایت اعلم و افقہ من شعیی
>
> شعبی سے بڑا عالم اور بڑا عقلمند یا فقیہہ میں نے نہیں دیکھا (تذکرہ ص 70)
>
>
>
> 7۔ عکرمہ (وفات 107ھ) کے متعلق لکھا
>
> ما بقی احد اعلم بکتاب اللہ من عکرمہ
>
> کہ عکرمہ سے بڑا کتاب اللہ کا کوئی عالم موجود نہیں (تذکرہ ص 84)
>
>
>
> 8۔ القاسم بن محمد بن ابی بکر الصدیق (وفات 106ھ) کے متعلق فرمایا
>
> مارایت فقیھا اعلم من القاسم
>
> کہ میں نے قاسم سے بڑا فقیہہ نہیں دیکھا(تذکرۃ ص 84)
>
>
>
> 9۔ عطا بن ابی ریاح (وفات 114ھ) کے متعلق لکھا
>
> مارایت افضل من عطاء
>
> کہ میں نے عطاء سے بڑا عالم کوئی نہیں دیکھا (تذکرۃ ص 84)
>
>
>
> دیکھا آپ نے سوانح نویسی کا انداز۔ یہ سب محدثین ہمعصر تھے۔ ذہبی ہر ایک بے مثال ، سب سے بڑا عالم، سرادر قرار دے گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک ہی زمانہ میں اور قریباً ایک ہی ملک کے سب لوگ بے نظیر و بے مثال نہیں ہوسکتے ۔ تو جن راویوں کے حالات ان مبالغہ پسند سوانح نگاروں نے اس فیاضی سے قلمبند کئے ہوں ، ان پر اعتماد کر کے کسی قول کو بالکل صحیح سمجھ لینا درست نہیں۔
>
>
>
> 10۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی نے موطا (امام مالک) کی ایک شرح لکھی تھی جس کا نام "مُصَفیٰ" ہے۔ اس کے آخر میں کوئی اشفاق الرحمان صاحب ، حضرت مالک کے حالات یوں قلمبند کرتے ہیں۔
>
> " ۔۔۔۔۔ امام مالک نے اپنے ہاتھ سے ایک لاکھ حدیث لکھی۔ نو سو اساتذہ سے تعلیم حاصل کی۔ اور سترہ برس کی عمر میں فارغ التحصیل ہو کر درس دینا شروع کیا۔ جب موطا لکھ چکے تو اسے پانی میں پھینک کر کہنے لگے کہ اگر اس میں سچی احادیث ہیں تو یہ نہیں بھیگے گی۔ چنانچہ وہ نہ بھیگی۔ ایک دن حدیث پڑھا رہے تھے کہ بچھو کپڑوں میں گھس گیا۔ اس نے سولہ مرتبہ امام صاحب کو کاٹا۔ لیکن امام صاحب نے درس ختم کر کے ہی اس کی طرف توجہ دی"
>
> ملاحظہ فرمایا آپ نے اس سوانح نگار کو حقیقت نگاری سے کتنی چڑ ہے۔ ہر فقرہ اپنی تردید آپ کر رہا ہے۔ نو سو اساتذہ سے پڑھا بھی اور پھر سترہ برس کی عمر میں فارغ التحصیل بھی ہو گئے۔ کوئی پوچھے کہ اس زمانے میں نو سو اساتذہ عرب میں جمع کہاں سے ہو گئے تھے ؟ اگر بالفرض ہو ہی گئے تھے ، تو یہ نہ بتایا کہ امام مالک ہر استاد کے پاس کتنا عرصہ رہے تھے۔ اگر ایک استاد کے پاس صرف ایک مہینہ بھی بسر کیا ہوتا تو بھی ان کا زمانہ تعلیم 75 برس بنتا ہے۔ حالانکہ وہ سترہ برس کی عمر میں تعلیم ختم کر چکے تھے۔ اس گپ کے علاوہ کتاب نہ بھیگنے اور بچھو کاٹنے کا گپوڑا بھی قابل داد ہے۔
>
> تو یہ ہیں وہ سوانح نگار ، جن کی تحریرات کو ہم وحی سمجھ کر بعض راویوں کو سچا اور بعض کو جھوٹا قرار دیتے ہیں۔ اور پھر ان سچے راویوں کی احادیث ایک کتاب میں جمع کر کے اس کا نام رکھ دیتے ہیں "صحیح بخاری و صحیح مسلم" اور ساتھ ہی دنیا کو دھمکاتے ہیں کہ یہ وحی (خفی) ہے ۔ اگر تم ان کتابوں پر ایمان نہ لائے تو تمھارا نام جنتیوں کی فہرست سے خارج کر دیا جائے گا۔
>
> تو میں یہ عرض کر رہا تھا کہ حضرت صدیقؓ اور فاروقؓ حدیثوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر فنا کر تے رہے۔ ان کے بعد کیا ہوا۔ اس سلسلے میں چند اور واقعات ملاحظہ فرمائیے۔
>
> نمبر 3 ۔ حضرت عبداللہ ؓبن یسار فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت علیؓ نے تمام صحابہ کو جمع کر کے حکم دیا کہ یہاں سے واپس جانے کے بعد ہر شخص پہلا کام یہ کرے کہ جس کے پاس کوئی بھی تحریر ہو اسے مٹا ڈالے۔ کیوں کہ پہلی قومیں اپنے علماء کی احادیث پہ چلنے اور کتاب اللہ کو چھوڑنے کی وجہ سے ہلاک ہو چکیں ہیں۔ (مختصر جامع بیان العلم ص 33)
>
> نمبر4۔ علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ ، ابی بن کعبؓ جیسے جلیل القدر صحابی کو روایت حدیث کی بنا پر پیٹنے پر تل گئے تھے۔ اور اسی جرم میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ، حضرت ابوذرؓ اور حضرت ابوالدارداؓ جیسے عظیم المرتبت اصحاب کو قید کر دیا تھا ۔ (تذکرۃ الحفاظ جلد 1ص 7)
>
> ان اصحاب کو یہ سزا اس لئے نہیں ملی ہو گی کہ لوگوں کو صحیح احادیث سنایا کرتے تھے ۔ بلکہ اس لئے کہ وہ صحیح و غلط میں امتیاز نہیں کر سکتے ہوں گے۔
>
> نمبر 5۔ آج حضرت عبداللہ ا بن مسعودؓ کی طرف سینکڑوں احادیث منسوب ہیں۔ لیکن ابو عمرو الشیبانی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن مسعود کی خدمت میں برسوں رہا۔ اور ان کے منہ سے کوئی حدیث نہ سنی۔ ہاں جب کبھی مجبوراً کوئی حدیث بیان کرنا پڑتی تو خوف سے کانپنے لگتے اور فرماتے ، رسول اللہ نے غالباً یوں فرمایا تھا یا یوں یا قریباً یوں ۔ (تذکرۃ الحفاظ جلد 1 ص 14)
>
> یہ حال تھا ان صحابہ کا، جن کے علم و فضل پر خود بارگاہ رسالت کو ناز تھا۔ اور جن کے فضائل و فواضل ساری امت کے لئے سرمایہ افتخار تھے۔ اندازہ لگا لیا آپ نے کہ یہ حضرات احادیث کے معاملے میں کس قدر محتاط واقع ہوئے تھے۔
>
> نمبر 6۔ ابی اسحٰق مرۃ سے اور مرۃ عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ کہا کرتے تھے
>
> "جب تمھیں حصول علم کی ضرورت پیش آئے تو قرآن پڑھو اس لئے کہ ا س میں اولین و آخرین کا علم موجود ہے" (تذکرۃ جلد 1 ص 12)
>
> نمبر 7۔ ایک شخص نے ابی بن کعب سے کہا کہ مجھے کوئی نصیحت کیجئے ، فرمایا
>
> اتخذ کتاب اللہ و ارض بہ حکما
>
> کتاب اللہ کو ہاتھ میں لو اور صرف اسی کے فیصلوں پر عمل کرو (تذکرۃ جلد 1 ص 15)
>
> نمبر 8 ۔حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سینکڑوں احادیث کے راوی ہیں۔ لیکن علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ رحلت رسول کے وقت آپ کی عمر صرف 13 برس تھی۔ (تذکرۃ جلد 1 ص 34)
>
> تیرہ برس تک کا بچہ کسی حد تک غیر ذمہ دار ہوتا ہے۔ اسے کیا خبر کہ نبی دنیا میں کیوں آتا ہے؟ اس کے اقوال کو کیا اہمیت حاصل ہوتی ہے؟ اور اگر ان اقوال میں رد و بدل ہو جائے تو کیا نتائج پیدا ہوتے ہیں؟ اس طرح کے غیر ذمہ دار بچے اور آنحضرت صلعم میں اسناد کی کوئ اور کڑی قائم نہ کرنا اور خود انھیں عاقل ، بالغ ، ثقہ سمجھ کر رسول اکرام صلعم سے بلاواسطہ روایت کے قابل قرار دینا درست معلوم نہیں ہوتا۔
>
> نمبر 9 ۔ ایک مرتبہ کاتب الوحی حضرت زید بن ثابتؓ معاویہ کے دربار میں گئے۔ امیر نے احادیث کی فرمائش کی۔ آپ نے چند احادیث سنائیں۔ اور منشی دربار ساتھ ساتھ لکھتا گیا۔ آپ نے وہ کاغذ لے کر پھاڑ ڈالا۔ اور فرمایا کہ رسول اللہ نے احادیث لکھنے سے منع فرمایا تھا۔ (بیان العلم ص 32)
>
> نمبر 10 ۔ علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو موسیٰ اشعری عمر فاروق کے مکان پر گئے۔ تین آوازیں دیں اور واپس چل دئیے۔ حضرت فاروق باہر نکلے ، واپس جانے کا سبب پوچھا ۔ تو کہا !
>
> "رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ ہر گھر پر تین آوازیں دو۔ اگر صاحب خانہ نہ بولے تو واپس لوٹ جاؤ"
>
> حضرت عمر نے کہا اس حدیث پہ فوراً شہادت پیش کرو ورنہ میں تمھیں سزا دوں گا۔ وہ گھبرائے ہوئے مسجد نبوی میں پہنچے اور خوش قسمتی سے انھیں شہادت مل گئی ، ورنہ شاید پٹ جاتے۔ (تذکرہ جلد1 ص6)
>
> نمبر 11۔ اسود بن ہلال کوفی (وفات 84ھ) کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس ایک بیاض یا کتاب لے کر گیا جس میں کچھ احادیث درج تھیں۔ آپ نے پانی منگوا کر اس کتاب کو پہلے دھویا اور پھر جلا دیا۔ (جامع ص 33)
>
> نمبر12 ۔ ضماک بن مزاحم (وفات 105ھ) فرمایا کرتے تھے
>
> "وہ زمانہ جلد آ رہا ہے جب احادیث کی کثرت ہو جائے گی ، لوگ کتاب الٰہی کو ترک کر دیں گے۔ مکڑیاں اس پر جالے تانیں گی۔ اور وہ گرد و غبار کے نیچے یوں دب جائے گی کہ نظر تک نہ آئے گی" (جامع ص33)
>
> نمبر13 ۔ عبدالرحمن بن الاسود بیان کرتے ہیں کہ میرے والد ، علقمہ کے ہمراہ حضرت ابن مسعود کے ہاں گئے۔ اور ان کی خدمت میں ایک مجموعہ احادیث پیش کیا۔ آپ نے خادمہ کو آواز دی کہ ایک طشت میں پانی لاؤ۔ جب آ گیا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اس مجموعے کو دھو ڈالا اور فرمایا
>
> ان ھذہ القلوب اوعیۃ فا شتغلو ھا بالقرآن ولا تشتغلوھا بغیرہ
>
> تمھارے دل برتنوں کی طرح ہیں ۔ ان میں قرآن کے سوا کوئی چیز مت ڈالو (جامع ص 33)
>
> کچھ ہفتے ہوئے آئر لینڈ کے شہر ہ آفاق شاعر برنارڈ شا نے اپنے یوم ولادت پر اپنی دو تین تصانیف پر دستخط کر کے انھیں نیلام کیا۔ اور آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ وہ دو تین چھوٹی چھوٹی کتابیں دو لاکھ چوبیس ہزار روپے میں فروخت ہوئیں۔برنارڈشا کی تحریرات کی تو یہ قدر ہو اور رسول کے اقوال کو ان کے فدائی جہاں پائیں دھو ڈالیں اور یا مٹا دیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں؟ کیا ان لوگوں کو رسولؐ سے محبت نہیں تھی ؟ اس کا جواب یہی ہے کہ محبت تو تھی لیکن وہ اقوال ، اقوال رسول نہ تھے۔
>
> نمبر14 ۔ جریر بن عبدالحمید کہتے ہیں کہ منصور ،مغیرہ اور الاعمش جیسے محدثین ، کتابت احادیث کو گناہ سمجھتے تھے ۔ (جامع ص 34)
>
> نمبر 15 ۔ قرظہ بن کعب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم عراق کو روانہ ہوئے ، حضرت فاروقؓ مقام حرار تک ساتھ آئے۔ وہاں نماز ادا کی۔ اور پھر فرمایا دیکھو میں ایک نہایت اہم بات کہنے کے لئے تمھارے ہمراہ یہاں تک آ یا ہوں۔ اور وہ یہ کہ عراق کی سرزمین سے تلاوت قرآن کی سریلی آواز یوں اٹھ رہی ہے جس طرح چھتے کے ارد گرد شہد کی مکھیاں بھنبھنا رہی ہوں۔ خدا کے لئے انھیں احادیث میں پھنسا کر قرآن سے دور نہ پھینکنا۔ (تذکرۃ الحفاظ ص 6 ۔ جامع بیان ص 174)
>
> نمبر 16 ۔ رحلت حضور ؐ سے صرف تین برس پہلے حضرت ابو ہریرہؓ مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ لیکن روایت احادیث میں سب سے بازی لے گئے۔ اور اسی سلسلے میں ایک مرتبہ پٹے بھی۔ واقعہ یوں ہے کہ آپ رسول اکرم صلعم کے ہاں تشریف لے گئے۔ حضور نے فرمایا کہ اے ابو ہریرہ جا اور ہر اس شخص کو جنت کی بشارت لے دے ، جس نے زبان سے لآ الٰہ کہہ دیا ہو۔ ابو ہریرہ باہر نکلے تو سب سے پہلے حضرت عمر بن خطاب سے ملاقات ہوئی اور یہ بشارت سنائی۔ حضرت عمرؓ نے ابو ہریرہ کی چھاتی پر گھونسا کھینچ مارا۔ جس سے وہ زمین پر گر پڑے۔ اور رونی صورت بنائے واپس دربار رسالت میں پہنچے۔ پیچھے پیچھے عمر بھی پہنچ گئے۔ حضورؐ نے پوچھا کہ اسے کیوں پیٹا ؟ کہا کیا آپ نے صرف لآ الٰہ کہنے پہ جنت کی بشارت دی ہے ۔
>
> فرمایا ہاں ۔ عمر نے کہا ۔ از راہ نوازش ایسا نہ کیجئے ،ورنہ لوگ اعمال کو ترک کر دیں گے۔ فخلھم یعلمون (آپ لوگوں کو کام کرنے دیں) ۔ حضور نے فرمایا ، بہت اچھا۔ لوگوں کو کہہ دو کہ کام کریں (ملخص)
>
> (صحیح مسلم ۔ کتاب الایمان۔ طبع مجتبائی ص 405 مع فتح الملہم)
>
> ملاحظہ کیا آپ نے کتنی دلچسپ حدیث ہے۔ صرف دو لفظ (لآ الٰہ) منہ سے نکالو، اور جنت لے لو۔ نہ صوم نہ صلوۃ کی ضرورت ، نہ میدان جہاد میں لہو بہانے کی حاجت، نہ صدقہ و زکوٰۃ کے جھمیلے اور نہ جہاد اکبر و اصغر کے جھگڑے۔ دوسری دلچسپی یہ کہ حضرت فاروق بارگاہ رسالت کو حکم دیتے ہیں ولا تفعل فخلھم یعملون آپ لوگوں کو ایسی احادیث نہ سنایا کیجئے۔ مطلب یہ کہ ایسی احادیث سنا کر انھیں خراب نہ کیجئے۔ اور لوگوں کو کام کرنے دیجئے۔ یعنی مذہب کے معاملے میں حضرت فاروق سرور کائنات کی رہنمائی فرما رہے ہیں۔ اور لطف یہ کہ حضور اس حکم سے سرتابی کی جرات نہیں کر سکتے اور فرماتے ہیں فخلھم (بہت اچھا لوگوں کو کام کرنے دو)۔ بدیگر الفاظ رسول اکرم صلعم نے اعتراف فرما لیا کہ ان کی حدیث (من قال لا الہ) سے لوگ بے عمل ہو سکتے ہیں۔
>
> غور فرمائیے کہ اس حدیث نے حضور پر نور کی منزلت کو کتنا کم کر دیا۔ کہ ان کا ایک طفل مکتب انھیں سیدھا راستہ دکھا رہا ہے۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ حضرت ابو ہریرہ اس قسم کی احادیث تراشا کرتے تھے۔ بلکہ یہ ہے کہ یار لوگ گھڑ کر ان کا نام جڑ دیتے تھے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ خود ابو ہریرہ بھی روایت میں قدرے غیر محتاط ہوں۔
>
> علامہ ذہبی نے ان کا یہ فقرہ نقل کیا ہے۔
>
> قال ابو ھریرۃ لمقد حدثنکم باحادیث لوحدثت بھا فی زمن عمر بن الخطاب لضر بنی بالدرۃ
>
> حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایسی ایسی احادیث بیان کی ہیں کہ اگر عمر بن الخطاب کے زمانے میں روایت کرتا تو وہ مجھے دُرے سے پیٹ ڈالتے۔ (تذکرۃ الحفاظ ص 8)
>
> کیوں پیٹ ڈالتے؟ سرور کائنات کا اسوہ بیان کرنے پر؟ کیا کوئی مسلمان ایسا کر سکتا ہے؟ نہیں ۔ بلکہ مشتبہ احادیث کی روایت پر۔ حضرت عمر اسی لئے تو احادیث جلا دیا کرتے تھے۔ اور بڑے بڑے صحابہ کو اس جرم میں قید و بند کی سزا دیتے تھے۔ جس عمر نے ابوہریرہ کو حضور پر نور کی کی زندگی میں پیٹ ڈالا تھا ، اور جس نے رسول اکرم صلعم کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کہہ دیا تھا حسبنا کتاب اللہ وہ اپنے عہد خلافت میں ابوہریرہ یا کسی اور بزرگ کو روایت احادیث کی اجازت یسے دے سکتے تھے؟ ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ حدیث وحی غیر متلو ہے۔ اس پر ایمان لائیے۔ میں اس قسم کے علماء سے صرف ایک سوال پوچھتا ہوں کہ آپ بڑے مسلمان ہیں یا حضرت عمرؓ؟ اللہ و رسول کی منشا سے وہ زیادہ باخبر تھے یا آپ ؟
>
> حاشا وکلا کہ مجھے حدیث سے بغض نہیں۔ بلکہ انسانی اقوال سے ضد ہے۔ جنھیں یہودیوں ، زندیقوں اور ہمارے فرقہ باز رہنماؤں نے تراش کر مہبط الوحی صلعم کی طرف اس لئے منسوب کر دیا تھا کہ خدا ، رسول اور قرآن کا کوئی وقار دنیا میں باقی نہ رہے۔
>
> ہمارے موجودہ علماء میں ایک دو بڑی بڑی خوبیاں موجود ہیں
>
> اول: کہ ان کا دامن وضع احادیث کے داغ سے ملوث نہیں۔
>
> دوم: انھیں سرورکائناتؐ سے گہری محبت ہے۔ اور دو خرابیاں بھی ہیں
>
> اول: کہ ملکہ تنقید سے بے بہرہ ہونے کی وجہ سے وہ صحیح و غلط میں تمیز نہیں کر سکتے۔
>
> دوم: وہ اسلاف پرستی اور اندھی تقلید کے امراض میں مبتلا ہیں۔ چونکہ ہمارے بعض اسلاف کہہ بیٹھے ہیں کہ صحیح بخاری کی ہر حدیث صحیح ہے اس لئے ہمارے علماء بخاری کی کسی حدیث کو ناقدانہ نظر سے دیکھنا یا معیار روایت پہ پرکھنا کفر سے کم نہیں سمجھتے۔ شیخ عبد الحق دہلوی کی رائے تھی کہ صحاح میں انسانی اقوال کی آمیزش ہے۔ علامہ ابن حجر کا خیال تھا کہ صحیح بخاری کی چالیس احادیث مشتبہ ہیں (ملاحظہ ہو حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا رسالہ الفرقان شاہ ولی اللہ ص 268 ، 276)
>
> اور شیخ حمید الدین فراہی فرماتے ہیں
>
> "میں نے صحاح میں بعض ایسی احادیث دیکھیں ، جو قرآن کا صفایا کر دیتی ہیں۔ ہم اس عقیدہ سے پناہ مانگتے ہیں کہ کلام رسول ، کلام خدا کو منسوخ کر سکتا ہے" (نظام القرآن)
>
> نمبر 17 ۔ شعیب بن حرب (وفات 197ھ) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن سفیان ثوریؒ کے ہاں حدیث کا ذکر چل پڑا تو آپ نے کہا
>
> لوکان فی ھذا الحدیث خیر لنقص کما ینقص الخیر و لکنہ شر فاراہ یزید کما یزید الشر
>
> اگر حدیث کوئی اچھی چیز ہوتی تو باقی نیکیوں کی طرح یہ بھی گھٹتی جاتی لیکن یہ بڑھ رہی ہے۔ اس لئے یہ ایک بدی ہے۔ (جامع ص 178)
>
> نمبر 18 - جب سفیان بن عینیہ سے حدیث کی فرمائش کی گئی تو آپ نے فرمایا
>
> ما ادری الذی تطبونہ من الخیر ، ولو کان خیراً لنقص کما ینقص الخیر
>
> تم جس چیز کی تلاش میں ہو وہ کوئی نیکی نہیں ہے۔ اگر نیکی ہوتی تو باقی نیکیوں کی طرح کم ہوتی جاتی ۔ ( جامع 178)
>
> نمبر 19 ۔ بکر بن حماد (دوسری صدی کا ایک شاعر) مضمون بالا کو یوں ادا کرتے ہیں
>
> اری الخیر فی الدنیا یقل کثیرۃ وینقص نعتما و الحدیث یزید
>
> و لوکان خیر اقل کالخیر کلہ فاحسب ان الخیر منہ بعید
>
> میں دیکھ رہا ہوں کہ دنیا میں نیکی کم ہو رہی ہے لیکن حدیث بڑھ رہی ہے۔ اگر حدیث اچھی چیز ہوتی تو باقی نیکیوں کی طرح یہ بھی گھٹتی جاتی۔ پس میں یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہوں کہ حدیث کا نیکی سے کوئی تعلق نہیں۔
>
> (توجیہ لنظر شیخ طاہربن صالح ص 11-18)
>
> نمبر 20 ۔ بشران حارث کہتے ہیں کہ میں نے ابو خالد الاحمر الکوفی (وفات 196ھ) کو یہ فرماتے سنا
>
> باقی علی الناس زمان تعطل لیما المصاحف لایفر فیھا و یطلبون الحدیث
>
> ایک ایسا زمانہ بھی آ رہا ہے کہ لوگ قرآن شریف کو ایک طرف رکھ دیں گے اور احادیث کی تلاش میں نکل پڑیں گے۔ (جامع ص 180)
>
> اور وہ زمانہ دوسری صدی سے شروع ہوتا ہے۔ اور اب یہ عالم ہے کہ ساری امت قرآن سے بیگانہ ہو چکی ہے۔ قوائے عمل پر اوس پڑ چکی ہے۔ ہر فرد حدیث کی ارزاں جنت کی تلاش میں ہے۔
>
> سارا زور اوراد اور وظائف پر پہ صرف ہو رہا ہے۔ صرف وضو کرنے پہ گناہوں کی مغفرت ہو رہی ہے۔ چند الفاظ کے ورد پر زمرد اور موتیوں کے محل تیار ہو رہے ہیں۔ نماز میں ربنا لک الحمد کہنے پر زندگی کی تمام سیاہ کاریاں دھوئی جا رہی ہیں۔ اور حلوے کا ایک لقمہ کھلانے سے قبر کا عذاب ٹل رہا ہے۔ کہیے ، کہ اس قدر سستی جنت کو چھوڑ کر قرآن کے شمشیر و سناں ، صبر و ابتلا، خوف و جوع، ایثار و شہادت والے اسلام کے قریب کون جائے ؟ کون عمر بھر کی کمائی قوم کے حوالے کر دے۔دسمبر کی ٹھنڈی راتوں میں برفانی پہاڑوں پہ کون پہرہ دے۔ طیاروں کی بمباری کون سہے۔ ٹینکوں کے آگے میلوں کون بھاگے۔ اور گولیوں سے سینہ چھلنی کرا کے بہشت کون لے؟ کیوں نہ مسجد میں گھس کر کچھ وقت کے لئے اللہ اللہ کرے اور مرنے کے بعد سیدھا جنت میں چلا جائے۔
>
> من قال سبحان اللہ و بحمدہ فی یوم مائتا مرۃ حطعت منہ خطا یاہ وان کانت مثل زیدۃ البحر
>
> جو شخص دن میں سو مرتبہ "سبحان اللہ وبحمد" کا ورد کرے گا۔ اس کی تمام سیاہ کاریاں معاف ہو جائیں گی۔ خواہ وہ سمندر کی جھاگ سے بھی زیادہ ہوں ۔ (موطا امام مالک ۔ مطبع مجتبائی طبع 1345ھ ص 73)
>
> موطا کے اسی صفحے پر ایک اور حدیث دی ہوئی ہے۔ جو موطا میں موقوف (حضورؐ تک نہیں پہنچتی بلکہ کسی صحابی کی رائے ہے) اور ترمذی و ابن ماجہ میں باقاعدہ حضور سے مروی ہے
>
> عن ابی الدردا قال الا اخبرکم بخیر اعمالکم وارفعھا فی درجاتکم و خیر لکم من اعطاء الذھب و الورق و خیر لکم من ان تلقو عدوکم فتضربوا عناقکم و یفربوا اعناقھم۔ قالو بلیٰ۔ قال ذکر اللہ تعالیٰ۔
>
> ابی االدردا (صحابی) کہتے ہیں کہ آؤ میں تمھیں بتاؤں کہ سب سے بہتر عمل جس سے تمھارے مدارج بہت بلند ہو جائیں ، کون سا ہے۔ ایسا عمل جو سونے اور چاندی کی قربانی اور جہاد سے بھی بہتر ہو ، وہ جہاد جس میں تم دشمن کا سر کاٹتے ہو اور وہ تمھارا، لوگوں نے کہا فرمائیے! کہا! اللہ کا ذکر۔
>
> ہر صاحب علم جانتا ہے کہ حدیث کی دنیا میں موطا کا درجہ کتنا بلند ہے۔ اس بلند کتاب میں اس حدیث کو پڑھنے کے بعد کسی کو کیا پڑی ہے کہ وہ اپنے ملک و ملت کی حفاظت یا اپنی مستورات کی عزت و عصمت بچانے کے لئے سر دیتا پھرے۔ وہ غلام رہے یا آزاد اس کی بلا سے۔ ساری دنیا جنت کے لئے مرتی ہے۔ اور یہ نعمت اس کو زبانی خدا کی یاد سے مل سکتی ہے۔ پھر خوامخواہ دکھ کیوں اٹھائے اور اپنی لاش کو خاک و خون میں کیوں تڑپائے۔
>
> نمبر 21۔ وکیع فرماتے ہیں کہ امام داؤد طائی سے کسی نے پوچھا کہ آپ احادیث کی روایت کیوں نہیں کرتے ۔ فرمایا
>
> "میں بچوں کا کھلونا نہیں بننا چاہتا" (جامع ص 180)
>
> نمبر22 ۔ ایک مرتبہ چند طلبائے حدیث حضرت فضیل بن عیاض کے ہاں درس حدیث لینے کے لئے آئے۔ آپ نے انھیں ان الفاظ میں ڈانٹ پلائی۔
>
> انکم قد ضیعتم کتاب اللہ ولو طلبتم کتاب اللہ لوجد تم فیہ شفاء ثم قر یا ایھاالناس قد جاء تکم مر عظۃ من ربکم و شفاء لما فی الصدور و ھدی و رحمتہ للمومنین۔ قل بفضل اللہ و برحمتہ فیذلک فلیف حوا ھر خیر مما یجمعون
>
> تم لوگوں نے اللہ کی کتاب کو ضائع کر دیا ہے اگر تم کتاب الٰہی کی تلاش کرتے تو اس میں تمھیں شفاء مل جاتی۔ اور اس کے بعد یہ آیت پڑھی۔ اے لوگو! تمھارے پاس اللہ کی طرف سے ضابطہ حیات آ چکا ہے جس میں دل و دماغ کی تمام بیماریوں کا علاج درج ہے۔ اور اہل ایمان کے لئے ہدایت بھی ہے اور رحمت بھی۔ اے رسول ان مسلمانوں سے کہہ دو وہ اللہ کی اس رحمت اور نعمت (قرآن) پر خوش ہوں اور یہ قرآن اس چیز (اس سے مراد حدیث بھی ہو سکتی ہے) سے اچھا ہے جسے وہ جمع کر رہے ہیں۔ (جامع ص 181)
>
> تو جو کتاب شفاء بھی ہے، موعظت و رحمت بھی، اللہ کا فضل بھی ہے اور نعمت بھی۔ کیا وہ ہدایت کے لئے کافی نہیں؟
>
> نمبر 23 ۔ اسی طرح ایک دفعہ چند طلباء نے حضرت فضیل بن عیاض کو درس حدیث کے لئے مجبور کیا۔ تو آپ نے فرمایا
>
> لم تکر ھونی علی امر تعلمون انی کارہ لہ
>
> تم مجھے ایسی بات پہ کیوں مجبور کر رہے ہو جس سے مجھے نفرت ہے (جامع ص 181)
>
> نمبر 24۔ سفیان ثوری کا قول ہے
>
> انا فی الحدیث منذ ستین سنۃ ودرت ان خرجت مند کفاناً لا علی ولالی
>
> میں گزشتہ ساٹھ برس سے حدیث کی دلدل میں پھنسا ہوا ہوں اور اب اس سے اس حالت میں نکلنا چاہتا ہوں کہ اس کے فائدے اور نقصان ہر دو سے محفوظ رہوں۔ (جامع ص 181)
>
> نمبر 25۔ اس زمانے میں علمائے اسلام احادیث کی کثرت اور رنگ برنگی سے اس قدر گھبرا اٹھے تھے کہ یموت بن المزرع کو یہ فقرہ کہنے کی جرات ہو گئی تھی
>
> اذا رایت شیخاً یعدوا فاعلم ان اصحاب الحدیث خلفہ
>
> جب تم کسی عالم کو سرپٹ بھاگتا دیکھو تو سمجھ لو کہ طلبہ حدیث اس کا پیچھا کر رہے ہیں ۔ ( جامع ص 181)
>
> نمبر 26 ۔ محمد بن سلام حضرت فاروقؓ کے اس قول کے راوی ہیں
>
> ما رایت علماً اشرف و لا اھلا اخف من اھل الحدیث
>
> میں نے حدیث سے بہتر کوئی علم اور اہل حدیث سے زیادہ ذلیل کوئی مخلوق نہیں دیکھی ۔ (جامع ص 181)
>
> مطلب صاف ہے کہ اقوال رسول کی عظمت میں تو کوئی شبہ نہیں ہو سکتا لیکن ان میں انسانی اقوال کی اس قدر آمیزش ہو گئی ہے کہ اس علم کے خزینہ دار بے قابو ہر کر رہ گئے ہیں۔
>
> نمبر 27 ۔ سفیان بن عینیہ مسعر سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ نے کہا
>
> "خدا میرے دشمن کو محدث بنا دے"
>
> ایک اور موقعہ پر فرمایا
>
> "کاش علم حدیث میرے سر پر شیشوں کا ایک ٹکڑا ہوتا جو گر کر چُور چُور ہو جاتا"
>
> نمبر 28۔ ایک دفعہ چند طلبہ حدیث سفیان بن عینیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے انھیں دیکھ کر فرمایا
>
> انتم منخزذعینی
>
> تم میری آنکھوں کی جلن ہو۔
>
> اور ساتھ ہی کہا
>
> "اگر آج عمر بن خطاب زندہ ہوتے اور ہم سب کو دیکھ پاتے ، تو ہمیں سزا دیتے" (جامع ص 182)
>
> نمبر 29 ۔ ابن ابی عدی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ امام شعبہ نے فرمایا۔
>
> "ایک زمانہ تھا کہ میں اصحاب حدیث سے مل کر خوش ہوتا تھا لیکن آج لیس شی ابغض الی من ان اری واحد امنھم میرے ہاں سب سے زیادہ قابل نفرت یہی لوگ ہیں" (جامع ص 182)
>
> نمبر 30۔ یحییٰ بن سعید القطان البصری (وفات 198ھ) روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ چند طلبہ امام شعبہ کے پاس درس حدیث لینے کے لئے آئے۔ آپ نے چمک کر کہا۔
>
> ان ھذا لحدیث لیصد کم عن ذکر اللہ فھل انتم منتھون
>
> یہ حدیثیں تمھیں اللہ کے ذکر سے روکتی ہیں۔ کیا تم باز نہیں آؤ گے ؟ (جامع ص 182)
>
> نمبر 31۔ سفیان بن الحسین فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایاس بن معاویہ سے میری ملاقات ہوئی، تو انھوں نے کہا
>
> اراک تطلب الاحادیث التفسیر ایاک و الشناعتہ
>
> میں دیکھ رہا ہوں کہ تم احادیث اور تفسیری اقوال کی تلاش میں پھر رہے ہو۔ خبردار ! اس کثافت سے بچو۔ (جامع ص 183)
>
> نمبر 32 ۔ ایک مرتبہ امام الاعمش ؒ نے طلبہ حدیث سے کہا
>
> "مجھے حدیث حنظل سے بھی زیادہ کڑوی معلوم ہو ، تم جس شخص کے قریب جاتے ہو، اسے جھوٹ بولنے (یعنی احادیث پڑھنے) کی ترغیب دیتے ہو۔ (جامع ص 183)
>
> نمبر 33 ۔ ابو بکر بن عیاش کہتے ہیں کہ ایک موقع پر مغیرۃ العنبی نے ارباب حدیث کے متعلق فرمایا
>
> واللہ لانا اشد خوفاً منھم من الفساق
>
> خدا کی قسم میں بدمعاشوں سے اتنا نہیں گھبراتا ، جتنا ان حدیث والوں سے (جامع ص 183)
>
> نمبر 34 ۔ سعید القطان نے اپنے بیٹے کو کہا
>
> لم تری الصالحین فی مثیی اکذب منھم فی الحدیث
>
> کہ یہ صوفی و زاہد لوگ احادیث کے معاملے میں سب سے بڑے جھوٹے واقع ہوئے ہیں۔
>
> (فتح الملہم شبیر احمد عثمانی طبع مجتبائی جلد 1 ص 132)
>
> نمبر 35 ۔ امام احمد بن حنبل کا قول ہے کہ تین قسم کی احادیث میں تحریف ہو چکی ہے۔ پیشین گوئیاں، جنگیں اور تفسیری احادیث۔ صرف باب التفسیر میں احادیث کی یہ کثرت ہے کہ ابن حنبل کے ایک دوست ابو زرعہ کو ایک لاکھ چالیس ہزار تفسیری احادیث یاد تھیں۔ (توجیہہ ص 11- 18)
>
> [i] کتاب جامع بیان العلم از حافظ ابن عبدالبر طبع مصر 1320ھ ص 33۔